ناول "دلاری (Beloved) " کا ایک باب (2…
ناول "دلاری (Beloved) " کا ایک باب (2)
مصنفہ: ٹونی موریسن (Toni Morrison)، امریکا
مترجم : سیّد سعید نقوی
دلاری پر نکھار آرہا تھا اور یہ بات پال ڈی کوپسند نہیں آرہی تھی۔ عورتیں بھی وہی کرتی تھیں جو اسٹرابیری کے درخت اپنی پتلی شاخیں پھیلانے سے پہلے کرتے ہیں:وہ اپنے ہرے رنگ کا قافیہ بدل دیتے ہیں۔ پھرنئی شاخوں کی کونپلیں پھوٹتی ہیں اور ان میں کلیاں نکلتی ہیں۔جب تک وہ سفید پتیاں مرجھائیں اور ان میں سے پودینے رنگ کی بیری پھوٹے، پتوں کی چمک زر نگار ہوکر مومی جامہ پہن لیتی۔دلاری بھی ایسی ہی ہوگئی تھی: سونے کا ورق لگی اور چمکدار۔پال ڈی نے سیتھ سے صبح بیدار ہونے پرہم بستری کا فیصلہ کیا، تاکہ جب وہ سفید سیڑھی اتر کر وہاں پہنچے جہاں دلاری کی نگاہوں کی نگرانی میںسیتھ کو روٹیاں پکانی تھیں تو اس کا دماغ شفاف ہو۔
شام میں جب وہ گھر لوٹتا، اور وہ تینوں وہاں رات کے کھانے کی میز بچھا رہے ہوتے تو دلاری کی چمک اتنی واضح ہوتی تھی کہ پال ڈی کو حیرت ہوتی کہ یہ ڈینور اور سیتھ کی نگاہوں سے کیسے اوجھل ہے۔یا شاید وہ واقف ہوں۔ مردوں کی مانند عورتیں بھی بتا سکتی ہیں کہ جب ان کی ایک ساتھی جوش میں ہو۔پال ڈی نے چور نظروں سے دیکھا کہ کیا دلاری کو بھی اس کا احساس تھا لیکن اس نے پال ڈی کو مکمل نظر انداز کیا۔ اکثر تو وہ براہ راست کیے گئے سوال کو بھی نظر انداز کردیتی۔ وہ اس کی جانب دیکھتی لیکن اپنا منہ نہ کھولتی۔اسے ساتھ رہتے پانچ ہفتے ہو چکے تھے لیکن اب بھی وہ اس کے متعلق اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جتنا اس پہلے دن کہ جب وہ انہیں درخت کی ٹھونٹھ پر بیٹھی ملی تھی۔
وہ اس میز کے گرد بیٹھے تھے جو اپنی آمد کے پہلے دن ہی پال ڈی نے توڑ دی تھی۔اس کے مرمت شدہ پائے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط تھے۔شلجم ساری ختم ہوچکی تھی، اور دھویں پر پکی سور کے ٹخنے کی چمکدار ہڈیاں ان کی پلیٹوں کے کونوں میں ڈھیر تھیں۔سیتھ ڈبل روٹی کی پڈنگ تقسیم کررہی تھی اور امید کررہی تھی کہ وہ خوش ذائقہ ہوگی۔وہ ایسے معذرت خواہ تھی جیسے کہ تجربہ کار باورچی ہمیشہ ہوتے ہیں۔جب سیتھ کو دیکھ کر دلاری کے چہرے پر کسی پالتو کی سی مانوس محبت بکھر گئی تو پال ڈی بول پڑا:
ـ" کیا تمھارا کوئی بہن بھائی نہیں ہے؟"
دلاری اپنا چمچہ ہلاتی رہی لیکن اس کی جانب متوجہ نہیں ہوئی " میرا کوئی نہیں ہے"۔
" تم یہاں کس کی تلاش میں آئی تھیں؟"
" میں یہی جگہ ڈھونڈ رہی تھی۔ میں رہائش کے لیے یہی جگہ تلاش کررہی تھی"۔
" اس مکان کے بارے میں تمھیں کسی نے بتایا تھا؟"
" اس نے بتایا تھا، جب میں پل پر تھی تو اس نے بتایا تھا"۔
" کوئی پرانی واقف کار ہوگی" سیتھ بولی۔ اس زمانے میں جب 124ایک سرائے کی مانند تھا، جہاں پہلے پیغام آتے اور پھر ان کا بھیجنے والا۔جہاں خبریں چشمے کے پانی میں سوکھے دانوں کی طرح بھیگتیں، جب تک کہ وہ نرم ہوکر قابل ہضم نہ بن جائیں۔
:" تم یہاں کیسے پہنچی تھیں؟ تمھیں یہاں کون لایا تھا؟"
اب اس نے سر اٹھا کر اسے غور سے دیکھا مگر کچھ بولی نہیں۔
اس نے سیتھ اور ڈینور کا تنائو محسوس کیا، سانس روکے ان کے خیالات مکڑی کے جالوں کی مانند ایک دوسرے سے مس ہورہے تھے، لیکن اس نے سوچا کہ بات کو انتہا تک پہنچا دیا جائے۔
"میں نے پوچھا تھا کہ تمھیں یہاں کون لایا تھا؟ "
" میں پیدل چل کر آئی تھی" وہ بولی۔ " ایک لمبی، لمبی، لمبی، بہت لمبی مسافت طے کرکے۔ مجھے کوئی نہیں لایا، کسی نے میری مدد نہیں کی"۔
" پال ڈی، اسے تنگ کرنا بند کرو"۔
" میں جاننا چاہتا ہوں " وہ چھری کو اپنی مٹھی میں کسی ڈنڈے کی مانند تھام کر بولا۔
" میں نے جوتے لیے، لباس اٹھایا، جوتوں کے تسمے بندھتے نہیں تھے" وہ چلائی ، اور اسے ایسی بد اندیشی سے دیکھاکہ ڈینور نے اس کا بازو تھام لیا۔
" میں تمھیں سکھائوں گی" ڈینور بولی " کہ جوتوں کے تسمے کیسے باندھتے ہیں"۔ اس طرف داری کے انعام میں دلاری نے اسے ایک مسکراہٹ سے نوازا۔
پال ڈی کو لگا کہ ایک بڑی، سنہری مچھلی دم پکڑتے ہی اس کے ہاتھوں سے پھسل گئی۔ اب وہ تاریک پانیوں میں واپس لوٹ رہی تھی، بس ایک چمک ہی اس کی واپسی کے راستے کا سراغ رہ گئی تھی۔۔ لیکن اگر اس کی یہ چمک اس کے لیے نہیں تھی تو پھر کس لیے تھی؟ اس نے کبھی کوئی ایسی عورت نہیں دیکھی تھی جو بنا کسی مطلوب کے بلا وجہ ادائیں دکھاتی ہو، بس ایک عمومی اعلانیے کے طور پر چمک اٹھتی ہو۔اس کے تجربے میں تو روشنی صرف اس وقت ہی ہوتی ہے جب کوئی مرکز نگاہ ہو۔جیسے وہ تیس میل والی عورت، وہ اس گڑھے میں انتظار میں بجھ کر دھواں بن گئی تھی، لیکن سکسو کے پہنچتے ہی کسی ستارے کی مانند چمک اٹھی تھی۔وہ خود بھی اسے پہچاننے میں کبھی غلطی نہیں کرتا تھا۔ جیسے ہی اس نے سیتھ کے بھیگے پائوں پر نظر ڈالی تھی تو وہ چمک بیدار ہوگئی تھی، ورنہ اس میں کبھی اتنی ہمت نہ ہوتی کہ اسے اپنی بانہوں میں لیتا یا اس کی پشت پر سرگوشیاں کرتا۔
یہ لڑکی دلاری بنا کسی عزیزوں کے اور بے گھر ان سب پر بھاری تھی، وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ کیوں، بالخصوص بیس سالوں میں ہر قسم کے رنگدار افراد سے واسطہ پڑنے کے بعد، جنگ سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد بھی۔ اس نے نیگرو اتنے حیرت زدہ اتنے بھوکے، تھکے ہوئے اور شکست خوردہ دیکھے تھے کہ ان کا کچھ بھی یاد رکھنا یا دہرانا ایک معجزہ ہی ہوتا۔وہ جو اس کی مانند غاروں میں چھپتے اور الوئوں سے غذا کے لیے جنگ کرتے، وہ جو اس کی مانند سوروں کی غذا چراتے، جو اس کی مانند دن میں درختوں پر سوتے اور رات میں سفر کرتے، جو اس کی مانند کیچڑ میں پوشیدہ رہتے اور کنوئوں میں چھلانگ لگا کر قانون نافذ کرنے والوں، حملہ آوروں، غلام پکڑنے والوں، سابق فوجیوں، پہاڑی افراد، دستوں اور غنڈوں سے بچتے۔ ایک دفعہ وہ ایک چودہ سالہ نیگرو سے ملا تھا جو دن میں جنگل میں تنہا رہتا، اسے
اور کہیں رہنا یاد ہی نہیں تھا۔ اس نے ایک پاگل رنگدار عورت جیل میں دیکھی تھی جسے بطخیں چرانے پر پھانسی دے دی گئی تھی ، کیوں کہ اس کے خیال میں وہ اس کے بچے تھے۔
محرک رہو، چلو، بھاگو، چھپو، چرائو، بھاگ نکلو۔ صرف ایک بار ہی ایسا ہوا تھا کہ وہ ایک ہی جگہ، ایک عورت یا ایک خاندان کے ساتھ چند ماہ سے زیادہ رک سکا تھا۔ وہ اکلوتا موقع ڈیلا وئیر میں ایک نور باف عورت کے ساتھ دو سال تھا، پلاسکی کائونٹی کنٹکی کے علاوہ نیگرو کے لیے سب سے بے رحم علاقہ، اور یقیناً جارجیا کے اس قید خانے کے بعد۔
دلاری ان تمام نیگرو سے مختلف تھی۔اس کا جوش، اس کے نئے جوتے یہ پال ڈی کو پریشان کررہے تھے۔ شاید یہ وجہ کہ وہ دلاری سے کبھی الجھا نہیں تھا۔ یا شاید یہ وقت کی بات تھی۔ وہ عین اس دن نمودار ہوکر مہمان بن گئی تھی جس دن اس نے سیتھ سے اپنے اختلافات ختم کیے تھے۔وہ ایک عوامی میلے میں شریک ہوئے تھے اور ایک خاندان کی مانند وقت گزارا تھا۔۔ ایک اعتبار سے ڈینور اب تابع ہوچکی تھی، سیتھ ہنسنے ، مسکرانے لگی تھی، اسے مسلسل کام مل رہا تھا، 124 اپنے آسیب سے آزاد ہوچکا تھا، زندگی دوبارہ نمود ار ہوگئی تھی۔ لیکن غارت ہو وہ پیاسی عورت جو بیمار پڑ گئی، اسے رکھ لیا گیا، وہ صحت یاب بھی ہوگئی لیکن اس کے بعد سے اس نے ایک تنکا بھی جگہ سے نہیں ہلایا تھا۔ وہ اسے نکال دینا چاہتا تھا۔ لیکن اسے خود سیتھ نے گھر میںرکھا ہوا تھا، اور وہ اسے کسی ایسے گھر سے نہیں نکال سکتا تھا جو خود اس کا بھی نہیں تھا۔کسی بھوت کی پٹائی کرلینا ایک بات تھی، لیکن کسی بے یار و مددگار رنگ دار لڑکی کو ایسے علاقے میں گھر سے نکال دینا جو نسلی تعصبی گروہ (کلان)* سے پر تھا، ایک اور ہی بات۔ سیاہ فاموں کے خون کے پیاسے، جس کے بغیر وہ زندہ نہیں رہ پاتے، یہ عفریت اوہائیومیں آزاد پھرتا تھا۔
میز پر بیٹھے، کھانے کے بعد تنکے سے دانت صاف کرتے، پال ڈی نے فیصلہ کیا کہ وہ علاقے کے دوسرے نیگرو سے مشورہ کرکے دلاری کے لیے خود اس کی علیحدہ رہائش طے کرے گا۔
ابھی اس نے یہ سوچا ہی تھا کہ دلاری کو بریڈ پڈنگ سے نکالی ایک کشمش سے پھندا لگ گیا۔ وہ کرسی سے پشت کی جانب گری اور اپنا گلا پکڑے تڑپنے لگی۔سیتھ نے اس کی پشت پر مکے برسائے جب کہ ڈینور نے اس کی گردن سے اس کے ہاتھ جدا کیے۔ کسی چوپائے کی مانند بیٹھی دلاری نے ساری غذا قے کردی اور اپنی سانس بحال کرنے کی جدوجہد کرنے لگی۔
جب وہ پرسکون ہوگئی اور ڈینور گندگی صاف کرچکی تو بولی " اب جاکر سو جائو"۔
" میرے کمرے میں آجائو" ڈینور بولی " وہاں میں تم پر نظر رکھ سکوں گی"۔
اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا تھا۔ ڈینور یہ سوچ سوچ کر تھک چکی تھی کہ دلاری کو کیسے اپنے کمرے میں سلا لے۔ بالائی منزل پر سونا ڈینور کے لیے دشوار تھا جب کہ دلاری نچلی منزل پر ہوتی۔ اگر وہ دوبارہ بیمار پڑ گئی؟ سوئی اور پھر نہ اٹھ سکی؟ یا (خدا نہ کرے) بیدار ہوکر باہر ڈیوڑھی میں نکل گئی، جیسے وہ یہاں نمودار ہوئی تھی؟ وہاں وہ باآسانی باتیں کرسکیں گے۔ رات میں جب سیتھ اور پال ڈی سو جاتے
* نسلی تعصبی گروہ ، Klu, Klux Klan
یا دن میں ان دونوں کے گھر واپس آنے سے پہلے۔ معصومانہ، بیوقوفانہ باتیں، نیم مکمل فقرے، امیدیں اور غلط فہمیاں، مکمل آہنگی سے کہیں زیادہ دلچسپ ہوتیں۔
جب لڑکیاں اٹھ گئیں تو سیتھ میز صاف کرنے لگی۔ اس نے پانی کے سنک کے قریب جھوٹے برتنوں کا ایک مینار بنا دیا۔
" تمھیں اس کی کون سی بات اتنی تنگ کر رہی ہے؟"
پال ڈی نے تیوری پر بل ڈالے ، مگر کچھ بولا نہیں۔
" ہم ایک بار ڈینور کے لیے لڑ چکے ہیں، کیا تم اس کے لیے بھی لڑنا چاہتے ہو؟" سیتھ بولی
" میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ کس بات کا انتظار ہے؟ اس کا تم پر انحصار تو سمجھ میں آتا ہے، مگر یہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ تم نے اسے اتنی ڈھیل کیوں دے رکھی ہے؟"
سیتھ نے برتنوں کی طرف سے اس کی جانب رخ موڑا " تمھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کون کس سے لپٹا ہوا ہے؟ اس کا پیٹ بھرنا تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مجھے محض ریسٹورانٹ سے کچھ اضافی کھانا اٹھانا پڑتا ہے۔ وہ ڈینور کے لیے ایک اچھی سہیلی ہے۔ یہ تم جانتے ہو، اور مجھے پتہ ہے کہ تم جانتے ہو۔ تو پھر تم کس بات پر دانت پیس رہے ہو؟"
" مجھے خود بھی نہیں معلوم، بس میری چھٹی حس کہہ لو"۔
" چلو خیر اس بات کا تو احساس کرو، یہ کیوں نہیں محسوس کرتے؟ یہ محسوس کرو کہ سونے کے لیے جگہ ہونا کتنا اہم ہے۔ جہاں ایسا کوئی نہ ہو کہ جس سے تمھیں موت کا خوف نہ ہو، اور نہ روزانہ یہ فکر ہو کہ وہاں رہنے کے لیے تمھیں کیا کرنا پڑے گا۔ ذرا اس بات کا ہی احساس کرو۔ اور اگر نہیں کرسکتے تو اس بات کا احساس کرو کہ ایک رنگ دار عورت کا سڑکوں پر پھرنا کیسا ہوگا جہاں خدا کی بنائی کوئی بھی چیز تم پر حملہ آور ہوسکتی ہے۔ یہ بات محسوس کرو"۔
" مجھے یہ سب معلوم ہے سیتھ۔ میں کل پیدا نہیں ہوا تھا، اور میں نے اپنی تمام زندگی کسی عورت سے بدسلوکی نہیں کی"۔
" تم دنیا میں ایسے واحد ہو"
" دو سرا نہیں؟"
" نہیں، دو نہیں"۔
" ہالی نے تم سے کیا برائی کی تھی؟ اس نے تمھارا ساتھ دیا تھا۔ اس نے تمھیں کبھی نہیں چھوڑا تھا؟"
" اگر اس نے مجھے نہیں چھوڑا، تو پھر کیا چھوڑا تھا؟"
" مجھے نہیں معلوم، لیکن وہ تم نہیں تھیں ، یہ ایک حقیقت ہے"۔
" پھر تو اس نے اور زیادہ برائی کی، اس نے اپنے بچوں کو چھوڑ دیا "۔
" یہ تم نہیں جانتیں"۔
وہ وہاں نہیں تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ وہاں ہوگا لیکن وہ وہاں نہیں تھا"۔
" وہ وہیں تھا!"
" تو پھر سامنے کیوں نہیں آیا؟ مجھے کیوں اپنے بچوں کو بھیج کر اس کی تلاش میں رکنا پڑا؟"
" وہ اس مچان سے باہر نہیں نکل سکا تھا"۔
" کون سی مچان؟"
" وہ گودام میں، تمھارے سر کے اوپر"۔
آہستہ، آہستہ، تمام ممکنہ وقت لیتے ہوئے سیتھ نے مڑ کر میز کی جانب دیکھا،
" اس نے دیکھا تھا؟"
" ہاں ، اس نے دیکھا تھا"۔
" اس نے تمھیں بتایا تھا؟"
" تم نے مجھے بتایا تھا!"
" کیا؟"
" جس دن میں یہاں پہنچا تھا، تم نے بتایا تھا کہ انہوں نے پستانوں سے تمھارا دودھ چرا لیا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ کس چیز کی وجہ سے پاگل ہوگیا تھا۔میرے خیال میں شاید یہی وجہ رہی ہوگی۔ مجھے بس اتنا معلوم ہے کہ کسی چیز نے اسے توڑ دیا تھا۔سالوں تک، ہفتے ، اتوار یا راتوں کو اضافی کام نے تو اس پر ذرا سا بھی اثر نہیں ڈالا تھا۔ لیکن اس دن اس نے مچان سے جو دیکھا، اس سے وہ تنکے کی مانند ٹوٹ گیا۔
" اس نے دیکھا تھا؟" سیتھ نے اپنی کہنیاں ایسے جکڑی ہوئی تھیں جیسے اسے فکرہو کہ وہ اڑ جائیں گی۔
" اس نے دیکھا تھا، یقیناً دیکھا ہی ہوگا"۔
" اس نے دیکھا تھا کہ ان لڑکوں نے میرے ساتھ کیا کیا تھا، اور پھربھی اس نے انہیں سانس لینے کے لیے زندہ رہنے دیا؟ اس نے دیکھا تھا؟ دیکھا تھا؟ دیکھا تھا؟"
" سنو، سنو، میری ایک بات سنو۔ کوئی مرد ایک کلہاڑی نہیں ہوتا۔ کاٹتا، کچلتا، دن کے ہر منٹ تہس نہس کرتا۔ چیزیں اس پر حاوی آگئی تھیں۔ وہ چیزیں جو اس کے اندر تھیں، جنہیں وہ کاٹ کر نہیں پھینک سکتا تھا"۔
چراغ کی روشنی میں سیتھ اوپر نیچے، نیچے اوپر ٹہل رہی تھی۔" اس زیر زمیں نمائندے نے کہا تھا، اتوار تک۔ انہوں نے میرا دودھ چرا لیا۔ اس نے دیکھا لیکن نیچے نہ اترا؟ اتوار آگیا لیکن وہ نہ آیا۔ پیر آگیا ، لیکن ہالی کا کہیں پتہ نہیں تھا۔میں سمجھے تھی شاید وہ مرگیا ہو اس لیے نہیں آیا۔ پھر میں نے سوچا کہ شاید انہوںنے اسے پکڑ لیا ہے اس لیے۔ پھر میں نے سوچا نہیں، وہ مرا نہیں ہے ورنہ میں یقینا کہیں سے سن لیتی۔ پھر اس تمام وقت کے بعد تم یہاں آئے اور تم نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ مر چکا ہے، کیوں کہ تم بھی نہیں جانتے تھے، تو میں نے سوچا
اسے شاید کوئی بہتر زندگی مل گئی ہے۔ کیوں کہ اگر وہ یہاں کہیں آس پاس ہوتا تو چاہے میرے پاس نہ بھی آتا لیکن بے سگس کے پاس ضرور آتا۔ لیکن مجھے بالکل علم نہیں تھا کہ وہ دیکھ رہا تھا"۔
" اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟"
" اگر اس نے دیکھا تھا اور وہ زندہ ہے، تو وہ میرے گھر میں قدم نہیں رکھ سکتا، ہالی تو نہیں۔"
" وہ بالکل ٹوٹ گیا تھا سیتھ" پال ڈی نے اس کی جانب دیکھ کر گہری سانس بھری " بہتر ہے کہ میں تمھیں سب ہی بتا دوں۔ آخری بار میں نے اسے دیکھا تو وہ ایک مدھانی کے پاس بیٹھا تھا، اس کے سارے چہرے پر مکھن لگا ہوا تھا"۔
ذہن میں کوئی تصویر نہیں ابھری اور وہ اس کے لیے شکر گزار تھی۔عموماً وہ جو بھی سنتی اس کی تصویر فوراً نظر کے سامنے پھر جاتی۔ لیکن جو پال ڈی کہہ رہا تھا، وہ اسے تصور نہیں کرسکی۔ ذہن میں کوئی نقش نہ ابھرا!بہت محتاط ، سوچ کر اس نے ایک معقول سوال پوچھا:
" وہ کیا بولا تھا؟"
" کچھ نہیں"
" ایک لفظ نہیں؟"
ـ ـ" کیا تم نے اس سے کوئی بات کی تھی؟ کچھ کہا تھا؟ کچھ تو!"
" میں نہیں کہہ سکا تھا، سیتھ، میں تو۔۔۔۔بس نہیں"
" کیوں؟"
" میرے ہونٹوں میں لوہا پرویا ہوا تھا"۔
بیرونی دروازہ کھول کر سیتھ ڈیوڑھی کے قدمچوں پر بیٹھ گئی۔ سورج کی رخصتی کے بعد بھی آسمان نیلا تھا ، اور وہ اب بھی وادی کے اس پار درختوں کے سیاہ ہیولے دیکھ سکتی تھی۔وہ اپنا سر ہلاتی رہی۔ اس نے اپنے باغی ذہن کے سامنے سپر ڈال دی۔یہ کوئی بھی چیز رد کیوں نہیں کرتا؟ کوئی دکھ، کوئی تاسف، کوئی قابل نفرت شکل جو قبولیت کے لیے بہت سالخوردہ ہو؟ کسی لالچی بچے کی مانند یہ ہر چیز جھپٹ لیتا تھا۔کیا میں صرف ایک بار ہی سہی، یہ کہہ سکتی ہوں کہ نہیں میں نے ابھی کھایا ہے، اور اب مزید ایک نوالہ بھی نہیں لے سکتی۔ خدا غارت کرے، میری یاد ان د و کائی لگے دانتوں والے لڑکوں کے ہاتھوں بھر چکی ہے، ایک میرا پستان بھنبھوڑ رہا تھا، اور دوسرا مجھے نیچے دبوچے ہوئے تھا۔ان کا پڑھاکو استاد دیکھ رہا تھا اور تفصیل لکھ رہا تھا۔ میں اس سے لبریز ہوں۔ خدا کے لیے، اب میں واپس وہاں جا کر مزید کچھ قبول نہیں کرسکتی۔اس میں شوہر کا اضافہ جو مچان سے سب دیکھ رہا تھا، قریب ہی چھپا تھا، ایسی جگہ جہاں اس کے خیال میں کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا تھا۔ نیچے وہ سب دیکھ رہا تھا، جسے دیکھنے کی مجھ میںسکت نہیں تھی۔ انہیں روک بھی نہیں رہا تھا۔ دیکھ رہا تھا مگر ہونے دے رہا تھا۔ مگر میرا لالچی ذہن ، کہتا ہے شکریہ، میں مزید قبول کرسکتا ہوں، تو میں مزید اضافہ کردیتی ہوں۔ اور ابھی اضافہ کیا ہی ہوتا ہے کہ۔۔اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ پھر میرا شوہر بھی ہے، مدھانی کے پاس ، اکڑوں بیٹھا، مکھن بلوتا، اس کا جھاگ اس کے منہ پر بکھرا ہوا ہے، کیوں میرا جو
دودھ وہ چرا لے گئے تھے وہ اس کے ذہن پر سوار ہے۔ اور جہاں تک اس کا تعلق ہے تو چاہے ساری دنیا کو معلوم ہو جائے۔اور اگر وہ واقعی اتنا ہی ٹوٹ گیا تھا، تو، تو وہ یقیناً اب تک مر ہی گیا ہوگا۔ اور اگر پال ڈی نے اسے دیکھا، لیکن اسے بچا نہ سکا، نہ ہی ہمدردی کے دو بول کہہ سکا کیوں کہ کود اس کے ہونٹوں میں لوہا پرویا ہوا تھا، تو ابھی کچھ باقی ہے جو پال ڈی سنا سکتا ہے، اور میرا دماغ اسے بھی جذب کرلے گا، اور یہ کبھی نہیں کہے گا کہ بس شکریہ۔ میں نہ وہ جاننا چاہتی ہوں، نہ اسے یاد رکھنا چاہتی ہوں۔ مجھے دوسرے کام ہیں، مثلاً کل کی فکر کرنی ہے: ڈینور کی، دلاری کی، بڑھاپے کی، بیماری کی، محبت کا تو خیر ذکر ہی کیا۔
لیکن اس کا ذہن مستقبل میں دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔ ماضی کی یادوں سے پر اور مزید کے لیے حاسد ذہن۔اس نے سیتھ کو آئندہ کی منصوبہ بندی کی کوئی گنجائش ہی فراہم نہیں کی تھی۔ اس دوپہر کی مانند، جب وہ جنگلی پیاز کی جھاڑیوں کے درمیان ایک قدم سے آگے کا مستقبل نہیں دیکھ پا رہی تھی۔ دوسرے لوگ حواس کھو بیٹھے تھے، وہ کیوں پاگل نہیں ہوئی تھی؟ دوسروں کے دماغ منجمد ہوگئے، لوٹ کر کسی نئی چیز میں مصروف ہوگئے، جو یقیناً ہالی کے ساتھ بھی ہوا ہوگا۔ اور یہ کتنا خوبصورت ہوتا۔ وہ دونوں گوالے کے کمرے میں مدھانی کے پاس اکڑوں بیٹھے ہوتے۔ ان کے چہروں پر ٹھنڈے مکھن کی پھوار پڑتی، دنیا سے بے فکر۔ اس کی چکنائی محسوس کرتے، اپنے بالوں میں لگاتے، اپنی انگلیوں سے پھسلتا محسوس کرتے۔ اسے وہیں روک دینے میں کتنا سکون ہے۔ بس کردو، ختم کرو، مکھن نچوڑ دو۔لیکن اس کے تینوں بچے اوہائیو کے راستے میں ایک کمبل کے نیچے چوسنی منہ میں دبائے ہیں، اور مکھن کا کوئی فریب اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔
پال ڈی نے دروازے سے نکل کر اس کا شانہ تھپتھپایا۔
" تمھیں بتانے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا"۔
" میرا بھی یہ سننے کا کوئی ارادہ نہیں تھا"۔
" میں اسے واپس تو نہیں لے سکتا، لیکن اسے ہم یہیں ختم کرسکتے ہیں" پال ڈی بولا۔
یہ مجھے بتانا چاہتا ہے، وہ سوچنے لگی۔ یہ چاہتا ہے میں پوچھوں کہ اس پر کیا گزری۔ لوہے میں قید زبان کتنی دکھی ہوجاتی ہے۔ اسے تھوک دینے کی خواہش اتنی شدید ہوتی ہے کہ آپ رو پڑتے ہیں۔ اس کے متعلق وہ پہلے سے جانتی تھی۔ یہ وہ سوئٹ ہوم سے پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تھی۔ مرد ، لڑکے، چھوٹی لڑکیاں، عورتیں، جیسے ہی ہونٹ پروئے جاتے آنکھوں میں وحشت اتر آتی۔ کئی دن بعد جب اسے نکالا جاتا تو منہ کے کناروں پر قاز کی چربی مل دی جاتی۔ لیکن کوئی چیز زبان کو ٹھنڈک یا آنکھوں سے وحشت دور نہیں کرپاتی تھی۔
سیتھ نے پال کی آنکھوں میں جھانکا کہ کیا وہاں کچھ وحشت باقی رہ گئی تھی۔
" میں نے بچپن میں جو لوگ دیکھے تھے" وہ بولی " جن کے ہونٹ پرو دیے جاتے، وہ اس کے بعد ہمیشہ وحشت کا بار اٹھائے پھرتے۔ وہ انہیں جس بات کی بھی سزا دیتے رہے ہوں، وہ کارگر نہیں ہوسکتی تھی، کیوں ان میں وہ وحشت بھر جاتی تھی جو پہلے نہیں تھی۔ جب میں تمھیں دیکھتی ہوں تو وہاں تو کچھ بھی نہیں۔ تمھاری آنکھوں میں کہیں کوئی وحشت نہیں ہے۔"
" اسے آنکھوں میں بسا لینے کا ایک طریقہ ہے، اور وہاں سے نکال دینے کا بھی ایک طریقہ۔ میں ان دونوں سے واقف ہوں۔ لیکن اب
تک یہ طے نہیں کرسکا کہ ان میں سے بدتر کون سا ہے"۔ وہ اس کے برابر بیٹھ گیا۔سیتھ نے اس کی جانب دیکھا۔ اس ڈھلتی شام میں اس کا کانسی چہرہ، اپنی ابھری ہڈیوں سمیت اس کے دل کو پر سکون کر گیا۔
" تم مجھے اس کے بارے میں بتانا چاہتے ہو؟" سیتھ نے پوچھا
" مجھے نہیں معلوم۔ میں نے اس بارے میں کبھی بات ہی نہیں کی۔ کسی شخص سے بھی نہیں۔ شاید اسے گنگنا دیا ہو، لیکن کہا کسی سے بھی نہیں"۔
" چلو بتائو، میں سن سکتی ہوں"۔
" شاید، شاید تم اسے سن سکتی ہوگی، لیکن مجھے یقین نہیں کہ میں اسے بتا سکتا ہوں۔ میرا مطلب ہے صحیح طریقے سے، کیوں کہ یہ صرف لب پروئے جانے ہی کی بات نہیں"ْ۔
" پھر کیا؟"
"مرغ۔ مرغوں کے درمیان سے گزرنا۔ انہیںخود کو دیکھتے ہوئے دیکھنا"
"وہاں صنوبر کے درمیان" سیتھ مسکرائی۔
"ہاں" پال ڈی بھی اس کے ساتھ مسکرا دیا۔" وہاں شاید پانچ مرغ سر اٹھائے کھڑے تھے، اور کوئی پچاس مرغیاں"۔
"مسٹر بھی تھا؟"
"پہلے تو نہیں ، لیکن میں کوئی بیس قدم بھی نہیں چلا ہوں گا کہ وہ نظر آگیا۔ وہ وہاں باڑ سے اتر کر آیا اور ٹب پر بیٹھ گیا"۔ـ ـ
" اسے ٹب بہت پسند تھا" سیتھ بولی، وہ سوچ رہی تھی، اب اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔
" یقیناً، جیسے وہ اس کا تخت رہا ہوں۔میں نے ہی اسے خول سے باہر نکالا تھا۔ سمجھ رہی ہو، اگر میں نہ ہوتا تو وہ تو مر چکا ہوتا۔ اپنے تمام چوزوں سمیت وہ مرغی تو آگے چلی گئی تھی۔ وہاں صرف ایک ہی انڈا بچ گیا تھا۔ لیکن میں نے اسے ہلتے دیکھا، تو میں نے اسے کھٹک دیا، تو اپنے خراب پنجوں سمیت مسٹر باہر نکل آیا تھا۔ بڑے ہوکر میں نے اس حرامزادے کو سارا صحن اجاڑتے دیکھا"۔
" وہ ہمیشہ سے ہی لڑاکا تھا" سیتھ بولی۔
" ہاں، واقعی لڑاکا تو تھا۔خونی اور شیطان بھی، اپنے مڑے ہوئے پنجے پھڑپھڑاتا، کلغی میری ہتھیلی جتنی، اور کسی قسم کی سرخی مائل تھی۔ وہ ہمیشہ ٹب پر بیٹھا مجھے دیکھتا رہتا تھا۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ وہ مسکرایا تھا۔میرے ذہن میں کچھ دنوں پہلے ہالی کا حشر بسا ہوا تھا۔ میں لب پروئے جانے کے متعلق سوچ بھی نہیں رہا تھا۔ بس ہالی اور اس سے پہلے سکسو، لیکن جب میں نے مسٹر کو دیکھا تو سمجھ گیا کہ میں بھی شامل تھا۔ صرف وہ ہی نہیں تھے، میں بھی تھا۔ ایک پاگل ہوگیا تھا، ایک فروخت کردیا گیا، ایک غائب تھا، ایک کو جلا دیا تھا، اور میں، سوئٹ ہوم کا آخری مرد، اپنے ہاتھ پیچھے بندھے لوہا زبان سے چاٹ رہاتھا"۔
" مسٹر، وہی کتنا آزاد لگ رہا تھا۔مجھ سے بہتر، زیادہ توانا اور سخت جان۔وہ کتیا کا جنا خود سے اپنے انڈے سے باہر نکل بھی سکتا تھا، لیکن وہ پھر بھی بادشاہ تھا اور میں۔۔"پال ڈی رک گیا۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے اپنا بایاں ہاتھ دبایا۔ وہ اسے اتنی دیر دبائے رہا کہ
جب تک وہ خود اور یہ دنیا پر سکون ہوجائیں اور وہ بات جاری رکھ سکے"۔
" مسٹر کو اجازت تھی کہ وہ جو تھا اور جہاں تھا وہاں رہ سکتا تھا، لیکن مجھے اجازت نہیں تھی کہ میں جو تھا اور جہاں تھا وہاں رہ سکوں۔ اگر اسے آپ بھون بھی دیتے تب بھی آپ ایک مسٹر نام کا مرغ بھونتے۔ لیکن اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ میں زندہ یا مردہ دوبارہ کبھی پال ڈی ہوتا۔ اسکول ٹیچر نے مجھے بدل دیا۔ میں کچھ اور تھا، وہ کچھ اور، اور میں سورج تلے ٹب پر بیٹھے اس مرغ سے کمتر تھا"۔
سیتھ نے اس کے گٹھنے پرہاتھ رکھ کر دبایا۔
پال ڈی تو ابھی شروع ہوا تھا۔وہ اسے جو بتا رہا تھا، وہ تو ابھی ابتدا تھی جب اس کی نرم اور سکون بخش انگلیوں نے اس کے گٹھنے پر دبائو ڈال کر اسے روک دیا۔ یہی بہتر ہے، یہی بہتر ہے۔مزید کہنے سے وہ دونوں شاید کسی ایسی جگہ پہنچ جاتے، جہاں سے لوٹنا ممکن نہ ہوتا۔ باقی داستان وہ وہیں رہنے دے گا جہاںوہ دفن ہے۔ اس کے سینے میں دبی ایک تمباکو کی ڈبیہ میں کہ جہاں کبھی ایک سرخ دل ہوا کرتا تھا۔ اس کا زنگ آلود ڈھکنا بند ہوچکا تھا۔ اب اسے وہ اپنی محبوب ، توانا عورت کے سامنے تو نہیں کھولے گا۔ کیوں کہ اسے اگر ان میں بند اجزا کی ذرا سی ہوا بھی لگ گئی تو وہ اس کے سامنے شرمندہ ہی رہے گا۔ وہ بھی یہ جان کر دکھی رہے گی کہ اس کے سینے میںمسٹر کی کلغی جیسا کوئی سرخ دل نہیں دھڑک رہا تھا۔
سیتھ مساج کرتی رہی۔ اس کی ہڈیوں، کام کے کپڑوں پر مالش کرتی رہی۔اسے امید تھی کہ یہ عمل خود اس کی طرح پال ڈی کو بھی پر سکون کردے گا۔جیسے ریسٹورانٹ کی نیم روشنی میں آٹا گوندھتے۔باورچی کے آنے سے پہلے، ایک بنچ کی لمبائی جتنی جگہ پر دودھ کے ڈبوں کے پیچھے، کبھی ان کے سامنے، کبھی بائیں جانب کھڑی ہوکر آٹا گوندھتی، گوندھتی، گوندھتی۔ ماضی کو شکست دینے کا اس سے بہتر طریقہ نہیں ہوسکتا تھا کہ دن کے سنجیدہ کام کا آغاز ایسے کیا جائے۔
نوٹ:
اس باب کا انگلش ورژن پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک کے ذریعے اس باب کی پی ڈی ایف فائل ڈاؤن لوڈ کریں۔
https://drive.google.com/open?id=1kw62WB5CTbbHfHIaNzi8qTFF7DopHv9z
— with Saeed A Syed.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2748718038692045