. میں ڈھونڈتا ہوں جسے آج بھی ہوا کی طرح وہ کھوگیا …
.
میں ڈھونڈتا ہوں جسے آج بھی ہوا کی طرح
وہ کھوگیا ہے خلا میں مری صدا کی طرح
.
نہ پوچھ مجھ سے مرا قصہء زوالِ جنوں
میں پانیوں پہ برستا رہا گھٹا کی طرح
.
تمام عمر رہا ہوں میں جسم میں محصور
تمام عمر کٹی ہے مری سزا کی طرح
.
اُتار دے کوئی مجھ پر سے یہ بدن کی ردا
کہ مار ڈالے مجھے بھی مرے خدا کی طرح
.
نِکھرتا جائے یونہی رنگِ شام اے پاشی
بکھرتا جاؤں یوں ہی میں گلِ نوا کی طرح
کمار پاشی۔۔!!