"میری جتنے لوگوں سے بھی شناسائی تھی، انہوں نے…
"میری جتنے لوگوں سے بھی شناسائی تھی، انہوں نے مجھے شادمانی، زیورات یا معاشرے میں کسی مقام سے نوازا، لیکن مجھے ان تمام لوگوں کے ساتھ شناسائی پر کسی قسم کی پشیمانی نہیں ۔۔۔ سوائے ایک شخص کے، اسکول کا پرنسپل، جس نے مجھے سولہ سال کی عمر میں اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔
اس پرنسپل نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا، کمرے کا دروازہ بند کرکے کنڈی لگائی، اپنا ہاتھ میری ٹانگوں میں رکھا۔ پہلے پہل میں نے یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ یہ مناسب وقت اور جگہ نہیں ہے۔ لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ اس نے اپنے ڈیسک سے کاغذات ایک طرف ہٹائے، مجھے ڈیسک پر لٹالیا اور ہوس کا نشانہ بنانے میں جلدی کی کہ جیسے وہ اس بات سے خوفزدہ ہوکہ (اگر دیر ہوگئی تو) کوئی کمرے میں داخل ہوکر انہیں دیکھ لے گا۔
میری والدہ نے ایک مرتبہ اپنی استعاروں سے بھرپور، گفتگو میں مجھے سمجھایا تھا کہ کسی مرد کے ساتھ شناسائی صرف اسی وقت ہونی چاہیئے، جب محبت کا عنصر موجود ہو اور جب محبت زندگی کے لیے ہو۔ جب میں پرنسپل کے دفتر سے باہر آئی تو میں بہت خوفزدہ تھی اور تذبذب کا شکار تھی اور میں نے یہ عزم کرلیا کہ میں اس واقعے کا ذکر کسی سے بھی نہیں کروں گی۔ حتیٰ کہ ایک اور لڑکی نے بھی یہی شکایت اس وقت کی جب ہم گروپ میں بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ جس پر میں یہ بتاسکتی تھی کہ اس قسم کی واردات مزید لڑکیوں کے ساتھ بھی ہوچکی ہے، لیکن ہم یہ شکایت کس سے کریں؟ ہمیں اس بات کا خطرہ تھا کہ ہمیں اسکول سے نکال دیا جائے گا اور گھر بھیج دیا جائے گا اور ہم وجہ بھی بیان نہیں کرسکیں گے۔ لہٰذا ہم خاموش رہنے پر مجبور ہو گئیں۔ میرا دل یہ جانتا تھا کہ ایسا صرف میرے ساتھ ہی نہیں ہوا۔ بعد ازاں جب میں اپنے رقص کی ادائیگی کی وجہ سے پیرس میں مشہور ہوگئی تب جاکر ان لڑکیوں نے دیگر لوگوں سے ان وارداتوں کا ذکر کیا اور جلد ہی پورے لیدن کو معلوم ہوگیا کہ معاملہ کیا تھا۔ پرنسپل پہلے ہی ریٹائر ہوگیا تھا اور کوئی شخص بھی اس کا سامنا کرنے کی جسارت نہیں کرسکا بلکہ، اس کے برعکس، کچھ لوگوں نے پرنسپل سے رشک کا اظہار کیا کہ وہ وقت کی ایک حسین رقاصہ کا عاشق نکلا۔
اس تلخ تجربے کے بعد میں نے جنسی سرگرمیوں کا تعلق کسی لگے بندھے میکانکی عمل سے جوڑ دیا، کوئی ایسی چیز جس کا محبت اور اُنسیت سے کسی قسم کا تعلق نہ ہو۔"
یہ اقتباس برازیل کے مشہور ادیب پاؤلو کوئلہو کے ۲۰۱۶ء میں شائع ہونے والے ناول The Spy کے اردو ترجمہ بعنوان "جاسوس" سے لیا گیا ہے۔ یہ اردو ترجمہ نیر عباس زیدی نے اپریل ۲۰۲۰ء میں کیا اور حال ہی میں یہ ترجمہ فکشن ھاؤس نے شائع کیا ہے۔ مجھے ترجمہ تو بہتر لگا، مگر کئی جگہوں پر ٹائپنگ کی غلطیاں نظر آئیں۔ یہ معمولی ہیں انہیں نظر انداز کرکے پڑھا جاسکتا ہے۔
"یہ ناول ایک ڈچ نژاد رقاصہ ماتا ہری کی حقیقی زندگی پر لکھا گیا ہے۔ جس نے انڈونیشیا میں قیام کے دوران وہاں کا روایتی رقص 'جاوا' نہ صرف سیکھ لیا تھا بلکہ اس فن میں مہارت بھی حاصل کرلی تھی۔ وہاں کی ہی مقامی زبان میں اپنا نام ماتا ہری رکھ لیا تھا۔ جس کا مطلب ہے 'سورج'۔ نامساعد حالات کے تحت یورپ واپس آگئی اور پیرس میں پرفارم کرنا شروع کردیا۔ شہرت کی بلندی پر چلی گئی۔ جنگِ عظیم اوّل کے دوران اس پر فرانسیسوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس نے جرمنوں کے لیے جاسوسی کی ہے، جس کی وجہ سے بے شمار فوجی موت کے منہ میں چلے گئے، فوجی عدالت میں مقدمہ چلا، سزائے موت سنائی گئی اور اسے فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کرکے گولیاں مار دی گئیں۔"
انتخاب: ثمینہ جاوید ملک (راولپنڈی)
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2824399537790561