پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

محبت کی نظم شاعرہ: مرضیہ فرمانی فارسی سے ترجمہ: …

محبت کی نظم
شاعرہ: مرضیہ فرمانی
فارسی سے ترجمہ: احمد شہریار
*
*
ہماری سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی تھیں
نہ ہم ایک دوسرے کے پڑوسی تھے
یہاں تک کہ
ہماری بولیاں بھی مختلف تھیں
لیکن
ہمارے سینوں میں
بائیں طرف دھڑکتے ہوئے دل؛
ہمارے ہاتھ
جنہیں سہلاہٹ کی گرمی کا تجربہ تھا
اور ہماری آنکھیں
بہت کافی تھیں
کہ ہم دوسرے سے کہتے:
"مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔"
————————————————————————————————————————————————————————————————–
ما هیچ مرز مشترکی نداشتیم
همسایه ی دیوار به دیوار هم نبودیم
حتی زبان رسمی مان هم یکی نبود
اما
قلبی در سمت چپ سینه هایمان
دستان گرمی که نوازش را زیسته بودند
و چشم هایمان
کافی بود
تابه یکدیگر بگوییم: "دوستت دارم…"

(مرضیه فرمانی)

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2836073876623127