محبت میں بقا میری ، محبت میں فنا میری محبت ابتدا م…
محبت میں بقا میری ، محبت میں فنا میری
محبت ابتدا میری ، محبت انتہا میری
….
آزاد انصاری کا یوم وفات
(پیدائش: 12 اکتوبر 1871ء – وفات: 25 اپریل 1942ء)
——
منتخب کلام
——
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے
——
ہم کو نہ مل سکا تو فقط اک سکون دل
اے زندگی وگرنہ زمانے میں کیا نہ تھا
——
دیدار کی طلب کے طریقوں سے بے خبر
دیدار کی طلب ہے تو پہلے نگاہ مانگ
——
بندہ پرور میں وہ بندہ ہوں کہ بہر بندگی
جس کے آگے سر جھکا دوں گا خدا ہو جائے گا
——
کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے
نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
——
طلب عاشق صادق میں اثر ہوتا ہے
گو ذرا دیر میں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے
——
نہ محبت نہ محبت کے مراسم کا لحاظ
تم کو بے شک روشِ اہلِ وفا آتی ہے
صبر ممکن ہی سہی ، امکان سے خارج تو نہیں
ہم کو خود دردِ محبت کی دوا آتی ہے
——
چارہ سازِ زخمِ دل ، درمانِ زخم اچھا کیا
زخم کی سب لذتیں مجروحِ درماں ہو گئیں
——
کیا خاک مان لوں کہ وہ مہرباں نہ تھا
اِک طرزِ التفات سے کیا کچھ عیاں نہ تھا
——
خلافِ سلوکِ محبت کے خوگر
خلافِ سلوکِ محبت کہاں تک
مسلسل ستم کی حکومت کے بانی
مسلسل ستم کی حکومت کہاں تک
——
تم اور دل آزاری اربابِ محبت
اربابِ محبت کا یہ شیوا نہیں ہوتا
——
نامِ خدا۔ جدہر گئے ۔ دل میں اُتر اُتر گئے
خنجرِ آبدار ہو ۔ دشنۂ تابدار ہو
رفعِ ملال چاہیے ۔ کچھ تو خیال چاہیے
رُوحِ تن فگار ہو ۔ راحتِ جان زار ہو
تم سے نظامِ دو جہاں ۔ تم سے قیامِ دو جہاں
مرجعِ ہر دیار ہو ۔ مرکزِ ہر مدار ہو
——
ہمیشہ غم نصیب آزادؔ نے تیری خوشی چاہی
ہمیشہ راحتِ دنیا کو ممنوعہ شجر جانا
——
ستم ہے یون سکونِ دل کے مٹنے کا ستم دیکھیں
تمہارے درد کا ردِ عمل ہو اور ہم دیکھیں
——
وہ دل کہاں سے لاؤں شکیبا کہیں جسے
باقی بھی ہو، شکیب کا یارا کہیں جسے
وہ درد دے کہ درد تمنّا کہیں جسے
وہ دکھ عطا ہو، عین مداوا کہیں جسے
سُن مجھ سے سُن، وہ کیا ہے؟ فقط ربط حسن و عشق
اس دہر کی حقیقت کبریٰ کہیں جسے
اے مرکز اُمید! خبر لے، کہ مٹ چلی
وہ آس زندگی کا سہارا کہیں جسے
ترے نثار، تو نے مجھے دل عطا کیا
اور دل وہ دل کہ شوق سراپا کہیں جسے
دیدار حسن دوست کی حسرت بجا، مگر
وہ دیدہ لا کہ دیدہء بینا کہیں جسے
تکمیل ربط مرکز اعلٰی کی دیر ہے
خود کھینچ لےگا مرکز اعلٰی کہیں جسے
اب میں کہاں ہوں، جلوہ گہ حسن دوست میں
اب میں وہاں ہوں، حسن کی دنیا کہیں جسے
اک ہم کہ بندگان تمنّا میں بھی ذلیل
اک تم کہ سب خدائے تمنّا کہیں جسے
تدبیر کیا ہے، آپ کی جانب سے حکم کار
تقدیر کیا ہے آپ کا منشا کہیں جسے
اے جستجوئے منزل عالی! ادب، ادب
زیر قدم ہے عرش معلّیٰ کہیں جسے
اے فلیسوفِ خام تجھے یہ خبر نہیں
خود فلسفہ ہے عشق کا سودا کہیں جسے
پیری میں شغلِ بادہ و شاہد وہ شغل ہے
لطف شباب رفتہ کا احیا کہیں جسے
نادان! جا، تمام بُروں کو برا نہ کہہ
اچھا وہی نہیں ہے سب اچھا کہیں جسے
کیا آپ جانتےنہیں؟ آزاد کون ہے
بندہ نواز! آپ کا بندہ کہیں جسے
——
حق بنا باطل بنا ناقص بنا کامل بنا
جو بنانا ہو بنا لیکن کسی قابل بنا
شوق کے لائق بنا ارمان کے قابل بنا
اہل دل بننے کی حسرت ہے تو دل کو دل بنا
عقدہ تو بے شک کھلا لیکن بہ صد دقت کھلا
کام تو بے شک بنا لیکن بہ صد مشکل بنا
جب ابھارا ہے تو اپنے قرب کی حد تک ابھار
جب بنایا ہے تو اپنے لطف کے قابل بنا
سب جہانوں سے جدا اپنا جہاں تخلیق کر
سب مکانوں سے جدا اپنا مکان دل بنا
پھر نئے سر سے جنون قیس کی بنیاد رکھ
پھر نئی لیلیٰ بنا ناقہ بنا محمل بنا
یہ تو سمجھے آج آزادؔ ایک کامل فرد ہے
یہ نہ سمجھے ایک ناقص کس طرح کامل بنا
——
نہ پوچھو کون ہیں کیوں راہ میں ناچار بیٹھے ہیں
مسافر ہیں سفر کرنے کی ہمت ہار بیٹھے ہیں
ادھر پہلو سے وہ اٹھے ادھر دنیا سے ہم اٹھے
چلو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی بیکار بیٹھے ہیں
کسے فرصت کہ فرض خدمت الفت بجا لائے
نہ تم بیکار بیٹھے ہو نہ ہم بیکار بیٹھے ہیں
جو اٹھے ہیں تو گرم جستجوئے دوست اٹھے ہیں
جو بیٹھے ہیں تو محو آرزوئے یار بیٹھے ہیں
مقام دستگیری ہے کہ تیرے رہرو الفت
ہزاروں جستجوئیں کر کے ہمت ہار بیٹھے ہیں
نہ پوچھو کون ہیں کیا مدعا ہے کچھ نہیں بابا
گدا ہیں اور زیر سایۂ دیوار بیٹھے ہیں
یہ ہو سکتا نہیں آزادؔ سے مے خانہ خالی ہو
وہ دیکھو کون بیٹھا ہے وہی سرکار بیٹھے ہیں
——
یہ اک شان خدا ہے میں نہیں ہوں
وہی جلوہ نما ہے میں نہیں ہوں
زمانہ پہلے مجھ کو ڈھونڈتا ہے
مگر تیرا پتا ہے میں نہیں ہوں
ترے ہوتے مری ہستی کا کیا ذکر
یہی کہنا بجا ہے میں نہیں ہوں
صدائے نحن اقرب کہہ رہی ہے
کہ تو مجھ سے جدا ہے میں نہیں ہوں
وہ خود تشریف فرمائے جہاں ہیں
تمہیں دھوکا ہوا ہے میں نہیں ہوں
کہاں میں اور کہاں خبط انا الحق
کوئی میرے سوا ہے میں نہیں ہوں
مجھے آزادؔ دنیا کیوں نہ پوجے
کسی کا نقش پا ہے میں نہیں ہوں
——