اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

ماضی بھی ہے اُداس مِرے حال کی طرح یہ سال بھی گزر…

ماضی بھی ہے اُداس مِرے حال کی طرح
یہ سال بھی گزر گیا ہر سال کی طرح

میں کس کو کیا بتاؤں کہ ہر شخص میرا حال
پوچھے ہے مجھ سے پرسشِ اعمال کی طرح

ہر حال میں ہماری طبیعت بہ فیضِ عشق
نکھری رہی کسی کے خد و خال کی طرح

ہر دم ترا خیال مصائب کی یورشیں
روکے ہوئے ہے آج تلک ڈھال کی طرح

اس عہدِ بے شعور میں ساقی ہمارا فن
بانٹا گیا ہے لوٹے ہوئے مال کی طرح

(ساقی امروہوی)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی