لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں مبارک عظیم آبادی …
لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں
مبارک عظیم آبادی
لگا دے سوز محبت پھر آگ سینے میں
مزہ پھر آنے لگے دل جلوں کو جینے میں
بخیر گزریں یہ دو دن بہار کے یارب
کہ روک ٹوک بہت ہو رہی ہے پینے میں
کھٹک رہی ہے کوئی شے نکال دے کوئی
تڑپ رہا ہے دل بے قرار سینے میں
چمک رہی ہے یہ بجلی گرے گی توبہ پر
جھلک رہی ہے مئے لالہ فام مینے میں
یہ خاص وقتوں کے کچھ نالہ ہائے موزوں ہیں
ہمارے شعر مبارکؔ نہیں سفینے میں
…
حکیم مُبارک حسین۔۔۔۔
کہنے والے کہتے ہیں کہ مُبارک حسین صاحب کا مطب ادَب کا گہوارہ تھا۔۔۔قدرت نے دستِ شِفاء بھی عطاء کیا تھا۔۔۔مریضوں کا ہجوم رہتا۔۔۔۔مگر حکیم صاحب (جو ہومیو ڈاکٹر بھی تھے ، پریکٹس حکمت کی ہی کرتے ) اپنا رکھ رکھاؤ اور آداب کبھی فراموش نہ کرتے فراخ دلی عادت تھی۔۔۔۔بادیان خطائی کے پھولوں کی خوشبو دار چائے مطب کا حصہ تھی۔۔چائے کی کیتلی چولہے پر ہی رہتی اور اکثر مریض وہ چائے پی کر ہی ہشاش ہو جاتے۔۔۔مُبارک عظیم آبادی کے اس اخلاقی ورثے کو دہلی سے لاہور منتقل ہونے والے حکیم حبیب اشعر نے خوب نبھایا جو خود بھی قادر الکلام شاعر تھے۔
حکیم خلیق الرحمٰن