منگل • 6 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیــر مطبــوعـہ ) کوئی تصویر بھی جاری نہیں کی ا…


( غیــر مطبــوعـہ )

کوئی تصویر بھی جاری نہیں کی
اس نے کچھ خاص تیاری نہیں کی !

تخت پر اُس کو بٹھایا ہم نے
اور پھر رائے شماری نہیں کی

عشق کو حد سے نکلنے نہ دیا
خود پہ وَحشت کبھی طاری نہیں کی

میں نے تو اُس کا نمک کھایا تھا
اس نے اک بات کراری نہیں کی

تیرے پنجرے میں جو اک بار گیا
اس پرندے نے اڈاری نہیں کی

نقدِ جاں دے کے خریدا ترا دُکھ
زندگی ہم نے ادھاری نہیں کی !

ساتھ لے جانا تھے دکھ درد ترے
سو وصیّت کوئی جاری نہیں کی

دشت میں پیڑ کی خواہش کیسی
دل کو یہ زندگی پیاری نہیں کی !

( زُبیــرؔ قیــصـر )