اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

( غیر مطبوعہ ) عشق کو جان کا آزار نہ…

( غیر مطبوعہ )

عشق کو جان کا آزار نہیں کرتا میں
ایک ہی بھول کئی بار نہیں کرتا میں

ایک مدّت سے گرفتارِ بلا ہوں لیکن
کوئی وحشت سرِ بازار نہیں کرتا میں

مسئلہ تُو نے بنایا ہے انا کا تو پھر
جا، ترے پیار کا اقرار نہیں کرتا میں

میرے دل میں بھی ہے جذبوں کی فراوانی مگر
یہ الگ بات ہے اظہار نہیں کرتا میں

اک تجسُّس مجھے سر گرمِ عمل رکھتا ہے
سیکھنا کچھ ہو، تو پھر عار نہیں کرتا میں

دور کر دی مِِری ہر ایک شکایت تُونے
آج تجھ سے کوئی تکرار نہیں کرتا میں

اپنی تیراکی پہ ہے یار بھروسا مجھ کو
ٹوئی کشتی پہ ندی پار نہیں کرتا میں

سامنے اس کے "میں" اظہارِ تمنّا' نایابؔ !
کر چکا ہوں مگر اس بار نہیں کرتا میں

(جہـاں گیر نایابؔ )

— with Jahangeer Nayab.