اتوار • 4 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

غالب اور ان کی بیگم دیوانِ غالب میں سے ایک مکالمہ…


غالب اور ان کی بیگم
دیوانِ غالب میں سے ایک مکالمہ
سید امتیاز علی تاج
( سامنے کی دیوار میں کھڑکی دائیں اور بائیں ہاتھ دیوار کے اگلے حصہ میں دروازے ۔ بائیں ہاتھ پچھلے حصہ میں دیوار کے ساتھ پلنگ ۔ دائیں ہاتھ کی دیوار میں کپڑے ٹانگنے کی کھوٹی جس پر علاوہ دوسرے کپڑوں کے برقعہ ٹنگا ہے ۔ اس سے ہٹ کر دیوار کے ساتھ لگا ہوا تخت جس پر سوزنی بچھی گاؤ تکیۓ اور پاندان رکھا ہے ۔ پردہ اٹھتا ہے تو بیگم غالب پلنگ پر اداس لیٹی ہیں ۔ )
بیگم : ( آہ بھر کے مضمحل انداز میں اٹھ کر بیٹھ جاتی ہیں ، ذرا سے توقف کے بعد
تپش سے میری وقفِ کشمکش ہر تارِ بستر ہے
مرا سر رنجِ بالیں ہے مرا تن بارِ بستر ہے
اٹھتی اور سست قدموں سے کھڑکی تک جاتی اور اس کے پٹ بند کر کے درز میں سے جھانکتی پھر سر دیوار سے ٹیک لیتی ہیں ۔ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد آہ بھر کر
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
( غالب بائیں ہاتھ کے دروازے سے داخل ہوتے ہیں )
غالب : بیوی کو دیکھے بغیر
پھر کچھ اک دل کو بیقراری ہے
سینہ جویاۓ زخمِ کاری ہے
پھر جگر کھودنے لگا ناخن
آمد، فصلِ لالہ کاری ہے
بیگم : ( غالب کو دیکھ کر شکوہ آمیز انداز میں
خزاں کیا فصلِ گل کہتے ہیں کس کو کوئ موسم ہو
وہی ہم ہیں قفس ہے اور ماتم بال و پر کا ہے
غالب : ( بیوی کو دیکھ کر چغہ اتارتے ہوۓ
شرحِ ہنگامۂ ہستی ہے زہے موسمِ گل
رہبر قطرہ بہ دریا ہے خوشا موجِ شراب
بیگم : یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
غالب : کھونٹی کی طرف بڑہتے ہوۓ
مے سے غرضِ نشاط ہے کس روسیاہ کو
اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیۓ
بیگم :
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
غالب : ( چغہ اور ٹوپی کھونٹی پر ٹانگتے ہیں
آتش کدہ ہے سینہ مرا رازِ نہان سے
اے واۓ اگر معرضِ تقریر میں آۓ
بیگم : ( جیسے بوجھ کر )
مانگے ہے پھر کسی کو لبِ بام پر ہوس
زلفِ سیاہ رخ پہ پریشاں کیۓ ہوۓ
غالب : ( تخت پر بیٹھ جاتے ہیں )
ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی
کچھ ہماری خبر نہیں آتی
بیگم :
ہوگئ ہے غیر کی شیریں بیانی کارگر
عشق کا اس کو گماں ہم بے زبانوں پر نہیں
غالب : ( بے بسی کے تبسم کے ساتھ )
یارب وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات
دے اور دل ان کو جو نہ دے مجھ کو زباں اور
بیگم :
رقیب پر ہے اگر لطف تو ستم کیا ہے
تمہاری طرزِ روش جانتے ہیں ہم کیا ہے
غالب : ( دونوں ہاتھ سر کے پیچھے باندہ کر گاؤ تکیۓ سے ٹیک لگالیتے ہیں )
ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں
ورنہ کیا بات کر نہیں آتی
بیگم :
وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں
سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے سرگراں کیوں ہو
غالب :
گر خامشی سے فائدہ اخفاۓ حال ہے
خوش ہوں کہ میری بات سمجھنی محال ہے
بیگم :
درپردہ انہیں غیر سے انہیں ہے ربطِ نہانی
ظاہر کا یہ پردہ ہے کہ پردہ نہیں کرتے
غالب : ( اٹھ کر کھڑکی کی طرف جاتے ہوۓ )
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
کہ چشمِ تنگ شاید کثرتِ نظارہ سے وا ہو
بیگم :
تم جانو تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو
مجھ کو بھی پوچھتے رہو تو کیا گناہ ہو ؟
غالب: ( کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ )
انہیں سوال پہ زعمِ جنوں ہے کیوں لڑیۓ
ہمیں جواب سے قطعِ نظر ہے کیا کہیۓ
بیگم ؛
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اس میں کچھ شائبۂ خوبیِ تقدیر بھی تھا
غالب :
چال جیسے کڑی کمان کا تیر
( بڑہ کر اور تالیفِ قلب کے لۓ ہاتھ تھام کر )
دل میں ایسے کے جا کرے کوئ
بیگم : ( گوشۂ چشم سے آنسو پونچھتے ہوۓ )
غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوۓ
غالب : ( تخت پر اپنے پاس بٹھاتے ہوۓ )
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا وفا کیا ہے
بیگم : ( غالب کی سلیم الطبعی سے بپھر کر )
چاہتے ہیں خوب رویوں کو اسد
آپ کی صورت تو دیکھا چاہیے
غالب :
گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر
کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
بیگم : ( ابھی دل نہیں بھرا )
غافل ان ماہ طلعتوں کے واسطے
چاہنے والا بھی اچھا چاہیۓ
غالب : ( ہاتھ بیگم کے پرلے کندھے پر رکھ کر )
حد چاہیۓ سزا میں عقوبت کے واسطے
آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں
بیگم : ( ابھی آنسوؤں کا حربہ باقی تھا )
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئ ہمیں رلاۓ کیوں
غالب :
خدایا ! جذبۂ دل کی مگر تاثیر الٹی ہے
کہ جتنا کھینچتا ہوں اور کھچتا جاۓ ہےمجھ سے
بیگم :
آگ سے پانی میں بجھتے وقت اٹھتی ہے صدا
ہر کوئ درماندگی میں نالے سے ناچار ہے
غالب :
باہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیں
لیکن اب کے سرگرانی اور ہے
بیگم : ( آہِ دلدوز کے ساتھ )
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالب
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
غالب :
جی ہی میں کچھ نہیں ہے ہمارے وگرنہ ہم
سر جاۓ یا رہے نہ رہیں پر کہے بغیر
بیگم : ( بگڑ کر اٹھ کھڑی ہوتی ہیں )
کام اس سے آ پڑا ہے کہ جس کا جہان میں
لیوے نہ کوئ نام ستم گر کہے بغیر
غالب :
غلط ہے جذبِ دل کا شکوہ دیکھو جرم کس کا ہے
نہ کھینچو گر تم اپنے کو کشاکش درمیاں کیوں ہو
بیگم : ( شہیدانہ انداز میں )
جب توقع ہی اٹھ گئ غالب
کیوں کسی کا گلہ کرے کوئ
غالب : ( سمجھانے میں کوئ کسر اٹھا نہیں رکھنا چاہتے )
روک لو گر غلط چلے کوئ
بخش دو گر خطا کرے کوئ
بیگم : ( ہاتھ چھڑا کر )
کوئ دن گر زندگانی اور ہے
اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
ہو چکیں غالب بلائیں سب تمام
اک مرگِ نا گہانی اور ہے
غالب : ( مایوس ہو کر )
ہرگز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہ
ہوں میں کلامِ نغز ولے نا شنیدہ ہوں
( بر افروختگی میں جاکر چغہ کھونٹی سے اتارتے ہیں
ریے اب ایسی جگہ چل کر جہاں کوئ نہ ہو
ہم سخن کوئ نہ ہو اور ہم زباں کوئ نہ ہو
(چغہ پہنتے ہوۓ )
پڑیے گر بیمار تو کوئ نہ ہو تیمادار
اور اگر مرجایے تو نوحہ خواں کوئ نہ ہو
( جوش میں تیزی سے باہر نکل جاتے ہیں )
بیگم : ( اپنے طرزِ عمل پر نادم ہو کر اپنے آپ سے )
بھلا اسے نہ سہی کچھ مجھی کو رحم آتا
اثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں
( تیزی سے کھڑکی طرف جاتی اور بے اختیاری میں پٹ کھول کر )
اے ساکنانِ کوچۂ دلدار دیکھنا
تم کو کہیں جو غالبِ آشفتہ سر ملے
( بیقراری سے واپس آتی اور احساسِ جرم کے خوف میں کھونٹی پر سے برقعہ اتارتی ہیں )
اسد ہے نزع میں چل بے وفا براۓ خدا
مقامِ ترکِ حجاب و وداعِ تمکیں ہے
( غالب خود واپس آجاتے ہیں بیگم برقع پہن رہی ہیں )
غالب : ( اپنے آپ سے )
فائدہ کیا سوچ اخر تو بھی دانا ہے اسد
دوستی ناداں کی ہے جی کا زیاں ہوجاۓ گا
بیگم : ( غالب کو دیکھتی ، ان کی طرف بڑہتی اور پشیمانی کے عجز سے )
قطع کیجے نہ تعلق ہم سے
کچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
غالب : ( بیوی کے انداز سے حوصلہ پاکر شوخی سے )
ہم کوئ ترکِ وفا کرتے ہیں
نہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
بیگم : ( مسکرا کر )
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گے
بے نیازی تری عادت ہی سہی
( دونوں محبت سے ایک دوسرے کے دونوں ہاتھ تھامتے ہیں )
پردہ
رسالہ صحیفہ لاہور غالب نمبر حصۂ چہارم
اکتوبر 1969ء
…
بشکریہ وسیم سیّد