"صُبحِ آزادی ١٩٤٧” یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شَب گزی…
"صُبحِ آزادی ١٩٤٧”
یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شَب گزیدہ سَحر
وہ اِنتظار تھا جس کا ، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ ، مِل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دَشت میں ، تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ھو گا ، شبِ سُست مَوج کا ساحل
کہیں تو جا کے رُکے گا ، سفینۂ غمِ دل
… More
![]()