شبنم شکیل تنہا کھڑے ہیں ہم سَرِ بازار کیا کریں …
شبنم شکیل
تنہا کھڑے ہیں ہم سَرِ بازار کیا کریں
کوئی نہیں ہے غم کا خریدار کیا کریں
اے کم نصیب دِل تُو مگر چاہتا ہے کیا
سنیاس لے لیں، چھوڑ دیں گھر بار کیا کریں
اُلجھا کے خُود ہی زِیست کے اِک ایک تار کو
خُود سے سوال کرتے ہیں ہر بار کیا کریں
… More
