پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ عالمی ادب

سنو! اگر تم ایسی زمین پر بسیرا کرو۔۔جو تمہاری ہون…

سنو!
اگر تم ایسی زمین پر بسیرا کرو۔۔جو تمہاری ہونے کے باوجود ،تم پرتنگ کر دی جائے۔۔جہاں تم سانس تو لیتے ہو۔۔مگر وہ سکھ سے متصادم ہو ۔۔جہاں تم ہی جیسے دکھنے والے،تمہارا دکھ بن جائیں۔۔جہاں تمہارے خال و خد تو انسانوں جیسے ہوں ۔۔مگر حال ،جانوروں سے بد تر۔۔جہاں موسموں کے قہر سےبچنے کے لئے تمہارے پاس سر چھپانے کو چھت اور تن ڈھانکنے کو کپڑا میسر نا ہو ۔۔۔جہاں تم پتھر کوٹ کر ۔۔زمین کو تو ہموار راستے میں ڈھال دو۔۔۔مگر نا ہمواری تم پرمسلط رہے؟
جہاں بیج بونے ،ہل چلانے اور فصل کاٹ کر گھروں تک پہنچانے کے لیے تمہارے ہاتھ درکار ہوں۔۔۔اور پھر یہی ہاتھ ۔۔۔دھرم بھرشٹ ہو جانے کا خطرہ بن کر۔۔تمہارے لئے پیالہ بن جائیں؟
جہاں گھر میں پیڑ اگانا،تمہاری تمنا سے حسرت میں ڈھل جائے ؟جہاں زمین کے ٹکڑے کی ملکیت کا خواب تمہاری سانس لیتی زندگی میں یاس گھولتا رہے ؟ اور قدم قدم پر ۔۔استبداد ،تمہارے حق کے مقابل رہے؟
سنو۔۔۔یہ دنیا کبھی نغمہ تو کبھی نوحہ بن جاتی ہے۔مگر یہ داستان ،ایک نوحے کو نغمگی کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر رکھتی ہے ۔۔سنو۔۔۔اور پھر اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ اگر تم بھارت کے دلت پیدا نہیں کئے گئے۔۔تو اس میں تمہارا کیا کمال ہے؟
تعصب کا بھالا اٹھانے سے پہلے ذرا ٹھہر جاو ۔۔کہ دلت نا ہونے کا تشکر صرف پاکستانی ہونے سے تعلق نہیں رکھتا۔۔۔بلکہ یہ تو ان کے لیے بھی ہے جہاں دراصل درجہ بندی کے تحت شودر اور دلت۔۔اچھوت بنائے جاتے ہیں۔۔
"بندوں کو جاتوں میں بانٹ کے کفر تو یہ مکار تولتے ہیں ۔بھلا انسانوں کی بھی کوئی جات ہوتی ہے۔یہ جانوروں پتھروں کو پوجتے ہیں،ہمیں ان سے بھی گئے گزرے سمجھتے ہیں ۔کہتے ہیں،پرے رہو،ہم بھٹ ہو جائیں گے۔کوئی پوچھنے والا ہووے،تمہارے انگ ہم سے زیادہ لگےہوئے ہیں؟ بھائیے کا پسینہ ابھی نہیں سوکھا تھا اور نہ ختم ہوا تھا۔ادھر ان باتوں سے میرے دل پر آری سی چلنے لگی۔من مستک میں کئی باتیں یوں سما گئیں جیسے پنڈ کے پچھم میں بنے ٹبے کی ریت میں پانی جذب ہوتا دیکھا تھا ۔"
"چھانگیا رکھ" بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بلبیر مادھوپوری کی آپ بیتی ہے۔جو دراصل پنجابی زبان میں لکھی گئی ۔پاکستانی قاری کے لئے اسے اردو کا قالب اجمل کمال نے عطا کیا ہے۔اور ترجمے کو اس خوبی سے نبھایا ہے کہ زبان کا لہجہ اور لفظ کی ادائیگی کی خوبصورتی برقرار ہے۔
"چھانگیا رکھ"کی ترکیب اپنے آپ میں محض ایک شکایتی عنوان نہیں ہے۔بلکہ یہ اس نمو کی داستان ہے ۔۔۔جو چھانگ دینے کے باوجور ۔۔زمین سے جڑی ۔۔جڑوں کو ملتی ہے اور شجر کو پھر سے ہرا بھرا کر دینے کا وصف رکھتی ہے۔۔مگر ویرانی کے دنوں ميں جڑے رہنا بھی کمال طلب ہے ۔۔کم سیرابی کے دنوں میں امید سے وابستہ رہنا ۔۔مصیبت کے
موسم میں یقین کا دیا جلائے رکھنا بھی کب آسان ہے؟
تو چلئے۔۔مادھوپور کو جانے والی پگڈنڈی پر۔۔جہاں آپ کا
ہاتھ ایک بچے کے ہاتھ میں ہے۔۔اور اس پر بیتے ہر لمحے کی روداد آپ کو سننی ہے۔سہنے کا کام اس نے کر رکھا ہے!
"پرشاد کے لئے سب کے بعد جب ہماری باری آتی تو وہ جھڑک کے کہتا ،کم جاتو،تمہیں ایک بار کہا نہیں کہ آرام سے بیٹھ جاو۔ پر ہم کھڑے کھڑے ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر دونوں ہاتھوں کے ننھے ننھے بک(چلو)بنا کر اس کے آگے آگے کرتے ۔وہ جھکے بنا پرشاد ڈالتا تو ہم پھرتی سے اوپر ہی دبوچ لیتے۔کبھی بھی کسی کے بک میں پرشاد نہ آتا اور زمین پر گر پڑتا تو وہ روہانسا ہو جاتا۔جب وہ زمین پر سے اٹھانے لگتا تو اتنے میں تاڑ میں بیٹھا ڈبو(کتا) اپنی جیبھ سے پرشاد چاٹ جاتا ۔ایسے ہی ایک بار میری کولی(تانبے کی کٹوری) اس وقت ہاتھوں سے چھوٹ کر نیچے گر پڑی جب بھائی ، جلدی جلدی زور سے چھڈواں جیسا(ذرا سا) پرشاد اوپر ہی سے ڈال رہا تھا کہ کہیں اس کا ہاتھ کولی یا ہاتھ کو نہ چھو جائے۔ایسی گھٹنا ہونے پر میرے چہرے پر خوشی کی چڑھی تہہ ایک دم اترکے کہیں دور چلی جاتی اور آسانی سے میری طرف جلدی نہ پلٹتی۔"
بچے کا دنیا سے ہونے والا تعارف،اس کے آئندہ رویے کی کنجی بنتا ہے اور معمولی سمجھے جانے والے اس کے احساس پر پڑنے والی ہر ضرب سماج کے ساتھ ساتھ اس کے مستقبل کی صورت گری کرتی ہے۔
کم تر سمجھے جانے کا ادراک
نہایت بچپن سے اپنی راہ بنا نے لگا تھا،جس پر دنوں کے بڑھتے قدم۔۔ارتقاء کے نقوش کو گہرا کرتے گئے۔۔۔
"دھونی کی لپٹوں میں ہم اپنے برف جیسے ٹھنڈے پیر لے جاتے اور پھر سکول کی طرف دوڑ پڑتے ۔ہم میں سے کسی جنے کے بھی پیروں میں جوتی نہ ہوتی ۔ادھر زمینداروں کے لڑکوں لڑکیوں نے دوہرے سویٹر پہنے ہوتے۔میں سوچتا"کوئی جنا ایک سویٹر مجھے بھی دے دیوے۔ میں بھی اس کا نگھ(گرمائش) لے کے دیکھوں۔میرے ان خیالوں کی لڑی تب ہی ٹوٹتی جب میں اور نیانوں کے ساتھ اونچی آواز میں کہتا:
سورج سورج،پھٹی سکھا
نہیں سکھانی ،گھر کو جا
"میں سوچتا'…پر لمحہ تھم سا جاتا ہے۔۔اس لمحے کو واپس جا کر بھی گزارنا مشکل لگتا ہے۔۔
کتاب پڑھتےہوئے ۔۔ایسے کئی لمحے آتے ہیں ۔۔جب سناٹے کی سی کیفیت میں اپنے آپ سے ندامت محسوس ہوتی ہے ۔۔ایک جھر جھری ۔۔جو ناشکرے وجود میں آتی ہے ۔۔ایک طمانچہ ۔۔جو بے حسی کے جمود پر پڑتا ہے۔
"جٹیاں تھوڑا سا جھک کے اوپر سے ہی روٹیاں ایسے ڈالتیں کہ ہم دونوں ہاتھوں کی بنائی پتل پر بڑی جگت سے انہیں سنبھال لیتے ۔دال ساگ کی بھری کڑچھیاں بھی اسی طرح اوپر سے بھانڈوں میں ڈالتیں جن کے گرم چھینٹے کئی بار ہمارے پیروں پر گر جاتے اور پھر ان سے چھوٹے بڑے چھالے پڑ جاتے۔"
ہر عہد ایک داستان ہے اور ہر اگلا پچھلے سے مختلف ہے۔تحریر،اپنے عہد کو سمو دینے کا وصف رکھتی ہے ۔اور آنے والوں پر گزر چکے کل کو روشن کرتی ہے ۔
دیہات کا رہن سہن ،رواج،میلے ٹھیلے ،گیت ،گلیاں،کھیت کھلیان ،موسم،پکوان،جوان، بوڑھے،خوشی اور غم ،منظر کردار،حادثے ،قصہ گوئی ،مذہبی طریق ،سادھو فقیر مزار اور منت نیاز۔۔۔
"ہمارے گھروں کے چولہوں میں رات کو ہی سویرے کے لئے بھوبھل میں آگ دبا دی جاتی تھی۔جب کبھی یاد بھول جاتی تو ایک دوجے کے گھروں سے مانگ لے آتے ۔تیلی کی ڈبیاں سوچ سمجھ کے ہی برتتے ۔جاڑوں کی گھنی دھند میں ہم چولہے کے پاس بیٹھے رہتے اور سوکھے پتوں کی گچھیاں بنا بنا کے چولہے میں جھونکتے جاتے ۔"
"ان کھڈیوں پہ فوج کے لئے تولیے بنے جاتے۔لہریا بنا جاتا۔سلک لیلن کا ایک سو دس گز کا تانا اور تیس تیس گز کا تھان ہوتا۔جب سلکی تانے کی کھڈی اور کھنڈے کے بیچ میں کچھ جھول پڑ جاتا تو بھائیا منھ میں پانی بھر کے چھڑکاو کرتا۔میں اپنے جیسی چھوٹی سی ہنسی ہنستا۔"
پیپل کے چوٹی کے ٹہنوں پر مور شام صبح بیٹھتے اور " ایواں" کی آوازیں نکالتے ۔پھر وہاں سے اٹھ کے ہمارے گھروں کی چھتوں پہ اترنے لگتے ۔ہم چوگا ڈالتے ،وہ ہم سے زیادہ نہ ڈرتے۔کوے بوہڑ کی گوہلوں کو ٹھونگے مارتے۔چڑیاں بار بار اڑتیں اور پھر آ بیٹھتیں۔"
دھیان اور ادراک کے حساس ارتکاز نے نہایت بچپن کے آئینے پر منعکس ہوتی ہر شبیہہ کو تصویر کر دیا ہے۔تب،دھیان کو تقسیم کرنے والی چیزیں ایجاد نہیں ہوئی تھیں ۔اسی غیر معمولی توجہ میں سنی گئی ہر بات ،اور اس بات پر دل میں پیدا ہونے والے ہر سوال کو یاد رکھنے کے وصف نے ہر منظر اور واقعے کو اس تفصیل سے مرتب کیا۔۔کہ آج ہر پڑھنے والی نظر ۔۔۔تصویر کو ہر رنگ اور رخ کے ساتھ دیکھ سکتی ہے ۔
"اسی دوران مجھے اندھے سادھو غریب داس کا خیال آیا جو گرمیوں میں بوہڑ تلے پورن بھگت ،کولان،رانا رانی اور دہود کا قصہ سنایا کرتا تھا۔وہ ایک ہاتھ سے تونبا اور دوجے ہاتھ میں پڑی کھڑتالیں بجاتا جاتا۔بیچ بیچ میں قصے کی تفصیل بتاتا جاتا۔رہ رہ کے حقے کا کش بھی بھر لیتا۔اس کی لمبی ،بھرواں داڑھی مونچھیں دھوانسی ہو کے لاکھے رنگ کی ہو گئی تھیں اور اس کے گیروے رنگ کے چولے سے ان کے گڈ مڈ ہو جانے کا گمان ہوتا تھا۔"
"ایک بار میں نے بھائیے سے پوچھا" ہمارے پنڈ میں تایا گیانو اور اس کا بھائیا نتھا سنگھ جو ہیں۔۔۔"
"وہ ہندو نائی ہیں ،ہمارے بال نہیں مونڈتے۔بھائیا یہ کہہ کے کسی اور کام میں لگ گیا۔بات زیادہ میرے پلے نہ پڑی۔پر تائے گیانو کو میں نے کئی بار جٹوں کے جانوروں کی پونچھیں مونڈتے دیکھا تھا"
تعصب کی پرورش اور دلیل کی موت باہم مربوط ہیں اور ہمارا خطہ ان کے لئے سازگار حالات فراہم کرتا ہے۔ ان گھڑ اور من گھڑت دلیل کا تعلق کسی مخصوص مذہب ،فرقے یا گروہ سے نہیں ۔۔۔بلکہ کہنا چاہیے کہ یہی ہیں جن کا کوئی فرقہ ،کوئی مذہب ،کوئی گروہ نہیں ۔۔۔نا ان کی حد ہے نا سرحد۔۔۔بس ان کی جڑیں ہیں جو باہم گتھی ہوئی اور پیوست ہیں ۔۔۔۔!
ہندوستانی سماج میں سوال اٹھانے کا کلچر موجود رہا ہے۔۔یہ الگ بات ہے کہ اب اس کا رجحان صحت مند نہیں رہا۔۔لوگوں کی آسانی کے لئے ان کے من پسند میڈیم کو ذریعہ اختیار کرنے کی مثال"پی۔کے" ہے۔سوال اٹھانے سے کیا اثرات مرتب ہوئے ،کیا فائدہ ملا سے قطع نظر ۔۔۔بات تو یہ ہے کہ سوال اٹھانے کے موقعے کی موجودگی اور فراہمی ثابت ہوئی!
اس کتاب میں بھی سوال اور دلیل کی دستک موجود ہے۔۔۔۔!
"باہمنوں کے رچے پر پنچ(فراڈ)پر کون اعتبار کرے۔کہتے،بالمیکی نے کش کو تنکے سے پیدا کر دیا۔انجلی کے کان میں ماری پھونک سے ہنو مان پیدا ہو گیا ۔اشٹ بھجی(آٹھ بانہوں والی) جنانی آج تک دھرتی پہ ہوئی نہیں ۔اور چار ٹانگوں والی جنانی ہوتی تو میں پھر بھی مان لیتاکہ ہنومان کی طرح وہ کان میں پھونک مارنے سے جن پڑے ہوں گے۔اب تومجھے بتا کہ ہمارے گڈ ،برجو کیسے جنمے تھے؟
سو،قدرت کے بر خلاف کوئی بندہ کام نہیں کر سکتا ۔آئی سمجھ ؟"
مجھے لگا کہ بھائیا گھاس کا گھٹھڑ کھولنے کے ساتھ ساتھ کئی بھیدوں پہ اپنی دلیلوں کے گھٹھڑوں کی بھی گانٹھیں کھول رہا ہو۔"
" تجھے کیا پتہ ان کی چور چالاکیوں کا ! لہوری رام بالی نے بھوگ پور آدم پور کے جلسوں میں بتایا تھا کہ سارے باہمن پہلے گایوں بچھیوں کا ماس کھایا کرتے تھے ۔کہتے تھے کہ ہندووں کے گرنتھوں میں لکھا ہوا ہے کہ شرادھ پہ باہمن کو گائے کا ماس کھلانے کا زیادہ پن ہے۔بھائیا سنی ہوئی باتوں کو سناتا کسی گیانی سے کم نہ لگتا تھا ۔اس نے تھوڑا سا ہنس کے پھر کہا،اور سن لے! کہتے تھے کہ گرنتھوں میں یہ بھی لکھا ہے ،شرادھ میں جو آدمی ماس نہیں کھاتا وہ مرنے کے بعد اکیس جنم تک جانور بنتا رہتا ہے ؛"
کہنے والوں نے ہمارے جیسے خطوں کے لیے تیسری دنیا کی ظالم اصطلاح بھی گھڑ رکھی ہے۔۔۔بنیاد جس کی ترقی پذیر معیشت ہے۔۔۔ارے کوئی پوچھے کہ معیشت اور معاشرہ بھی دلیل کی بنیاد پر قائم ہے۔فرد،گروہ اور جماعتوں کی کامیابی اپنی اپنی دلیل کی معیشت بناتی،سنوارتی اور چمکاتی ہے۔جو جتنا کامیاب ہے،اس کے پیچھے اس کی دلیل کارفرما ہے اور ناکامی کے پیچھے بھی عین یہی اسباب ہیں ۔۔۔اور فرد کا دل اس دلیل کے قبضے میں ہے!
دلیل کے میدان میں عزازیل ،استادوں کا استاد رہا ہے۔۔۔مگر یہاں اس کی یاد،اس کی دلیل کے حق میں نہیں بلکہ خدائے لم یزل کی یاد ہےکہ جس نے دلیل کی سزا موت مقرر کرنے کی بجائے ،مہلت مقرر کر دی ۔اور اس کو دیے گئے اختیارات اور مراعات آج تک بہت سوں کو لبھانے کا ذریعہ ہیں ۔۔گو کہ مہلت اور مدت سبھی کی مقرر ہے!
"جاڑوں میں اور مارچ اپریل مہینوں میں اناج کی بہت تنگی آجاتی ۔اس کا اکلوتا بدل گنے کے رس کی پت سے اترا ہوا میل ہوتا ۔"
"جٹوں کے نیانے اور میرے ساتھی ہمیں میل پینے والے لوگ کہتے ۔جب کبھی توتو میں میں ہو جاتی تو وہ چمار ماں دے یار جیسے کٹیلے فقرے بنا کے کستے"
"میرے ٹڈی کھانے کی بات سکول میں افواہ کی طرح پھیل گئی اور نیانے مجھے ٹڈی کھانا سانپ کہہ کے چڑاتے ۔لفظ سانپ ،انہوں نے میرے کالے لاکھے رنگ کے صدقے جوڑ لیا تھا ۔میں اس شرمندگی کے بوجھ تلے لگا تار دبتا جا رہا تھا جس کے نیچے سے میں جتن کر کے بھی نکل نہیں پا رہا تھا ۔کبھی اپنی ٹڈی ہولیں کھانے کی گھٹنا گھناؤنی تو کبھی سہج لگتی ۔من میں دلیل اٹھتی،دیوالی دسہرے کو سب گھروں میں بکرے کا ماس رندھتا ہے،ان کو تو کوئی کچھ نہیں کہتا۔"
بیتی ہوئی کو آپ کہنا آسان نہیں ۔۔۔اور کبھی کبھی تو سننا بھی آسان نہیں رہتا ۔
یہ تو بچپن تھا۔
کالج میں آ چکنے کے بعد ۔۔۔
"اس کے کھیتوں میں دیہاڑی کرنے کے دوران تیسرے پہر کی چائے ہمارے گلاسوں میں ڈالنےکے وقت چوٹ کے طور پر کہی گئی بات خود بخود یاد آگئی۔
"چائے چوہڑی،چائے چماری
چائے نیچوں کی نیچ۔۔
پورن برہم پار تھے
جو چائے نہ ہوتی بیچ۔
یہ سنتے ہوئے من کا کھلا آکاش پل بھر میں سکڑ گیا تھا۔"
اور یہ تعصب ہی ہے جو جارحیت کو جائز قرار دینے کی دلیل فراہم کرتا ہے۔
تکبر ،جہل اور نفرت ،تعصب کی جڑوں کو سینچتےہیں ،تب کہیں جا کر تعصب کی شاخیں پھلتی پھولتی ہیں۔رنگ ،نسل،زبان،مذہب،عقیدہ،فرقہ اور قوم پرستی کی بنیاد پر ہونے والے فساد ،جھگڑے اور جنگیں اس خطہ ارض پر حضرت انسان کی کوتاہ نظری اور کم ظرفی کا بین ثبوت ہیں اور ہر زمانے کا انسان اس کا شاہد بھی ۔۔۔شکار بھی ۔۔۔!
کسی بھی تصویر کو وسیع تناظر میں دیکھنے کے لئے عالمی سطح پر جاری ۔۔۔مختلف معاشروں کی کشاکش دیکھنا مشکل نہیں ۔۔فرصت کے علاوہ ترجیح اہم ہے۔اور اسی صورتحال کو فرد کی اکائی پر منطبق کرنا ہو ۔۔تو کبھی کبھی ہماری ذات اور شخصیت عقل اور ظرف ،جذبات اور تجربات کی محدود سطحوں پر یرغمال بن جاتی ہے ۔
ایسے میں اہم یہ نہیں کہ آپ اپنے یرغمال ہونے کو جان لیں ۔۔اہم یہ ہے کہ آپ خود کو رہا کرنے کے لئے کیا اور کتنے جتن کرنے کی ہمت دکھاتے ہیں۔
"چھانگیا رکھ" اس ہمت کو تھامے رکھنے کی داستان ہے جو بھوک پیاس ،طعنوں،نفرت اور کم تر سمجھے جانے کی گھپ تاریکی میں جینے اور مرنے سے انکار سکھاتی ہے۔۔
انکار محض منکرین سے جڑی اصطلاح نہیں ۔۔۔یہ ظلم اور زمانے سے ٹکرا جانے والی صفت کا بھی عنوان ہوا کرتا ہے۔۔
"ذرا دیر بعد مجھے محسوس ہوا کہ ویران بنجر زمینوں جیسی زندگیوں میں ہریالی کے لئے سب نے مل کے لگاتار اور کام کرنا ہے ۔اس لئے کہ ہماری بپتا در بپتا جگوں پرانی ہے جسے کسی نے نہ کبھی سنا اور نہ ہی محسوس کیا ہے"
"بھائیے کی خواہشوں پر کھرا اترنے کے لئے میں لگاتار مچھلی کی طرح تڑپا کرتا ۔مجھے لگتا کہ دن بہ دن میرا رستہ روشن ہوتا جا رہا ہے جس کے صدقے من ہی من میں امبر سے تارے توڑنے کے منصوبے بناتا نہ تھکتا ۔"
مگر نتیجہ صاد ہونے سے قبل کے مرحلوں میں رہنا ۔۔گزرنا اور پھر ان سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈنا۔۔۔
" کیا ہوا جو ساتھ پڑھتے لڑکے جات کا طعنہ دیتے ہیں ؟شاستری کون سا برہمن تھا؟کیا ہوا جو میرے پاس اور کپڑے نہیں ؟ میرے ساتھ میرا بھائیا،میری ماں ہیں۔شاستری کے پاس تو وہ بھی نہیں تھے۔اگر شاستری اپنی غریبی دوران محنت اور عزم سے یہاں تک پہنچ سکتا ہے تو مجھے ہمت سے پڑھائی کرنی چاہئے"۔
اور چلتے رہنا ہی تو ایک آّزمائش ہے!جب ڈھے جانا آسان ہو۔۔تو قائم رہنے کی مشکل کا انتخاب کرنا،دراصل سر بلندی ،سر فروشی کے جذبے سے سرشار رہنا ہے!
"ویہڑے میں بان کی ننگی چارپائی پہ سونے کے لئے لیٹا تو میری مندی آنکھوں کے آگے ان دونوں اجنبیوں کے ٹھوس خیال فضا میں چمکتے جگنووں کی طرح من کے اندھیرے میں روشنی بھرنے کے لئے ادھر تو کبھی ادھر چھوٹی چھوٹی اڑانیں بھر رہے تھے۔"
اس کتاب کا یہی پیغام اس آپ بیتی کو منفرد بناتا ہے کہ دراصل جس طرز عمل سے ایک فرد نے اپنے وجود کی طاقت کو گروہی طاقت کا جوڑ کر اپنے سماج کی چلتی روش سے مخالفت مول لے کر مقابلہ کیا ۔۔اس سے سبق سیکھ کر ۔۔اپنے حصے کی تاریکی کو ختم کرنے کی جرات ہر کوئی کر سکتا ہے !
جیے جانے کے بعد زندگی ۔۔۔کہانی کو زندہ کر دیتی ہے۔ہر منظر ،ہر لمحہ سانس لیتا ہے۔۔تبھی تو۔۔کبھی تھم جاتا ہے۔۔۔کبھی چلنے لگتا ہے!
زندگی ارتقاء اور بقاء کا قصہ ہے۔۔کوئی خود سنا دے تو آپ بیتی۔۔اور جو نہ کہہ سکے۔۔۔وہ جگ بیتی۔۔۔؛
ذہن سازی کے دنوں ميں ماحول ،شخصیات،ان کے کردار اور گفتگو گہرے اثرات کے حامل عناصر ثابت ہوتے ہیں ۔
بھائیے ( باپ) کا ذہن متحرک اور کردار عملی ہے۔صرف محنت مزدوری پر اکتفا نہیں ۔۔۔زندگی کی دھوپ چھاوں میں ہر لمحہ فکر مند اور مصروف عمل۔۔۔جانوروں کی دیکھ بھال میں ۔۔۔برساتوں میں گرتی چھتوں اور دیواروں کی مصیبت کے آگے ڈھال بنا۔۔۔کھیتی باڑی کرتا ۔۔۔شریک حیات اور بچوں کی دیکھ بھال اور ذمہ داری،تن دہی سے نبٹاتا ہوا بھائیا۔۔دھنک کی طرح کہانی کے آسمان پر چھایا ہوا ہے۔۔۔گزشتہ سطروں میں بھائیے کے وچار تو آپ نے ملاحظہ کر ہی لئے ہیں ۔۔۔وہ شریک حیات سے مکالمے کا کچھ حصہ تھا۔
"بھائیا حقے کا گھونٹ بھرے بنا ہی ان کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا۔گھر کی طرف لوٹتے ہوئے اونچا اونچا بولے جا رہا تھا"یہ کوڑھ نہیں نکلنے کا ہم لوگوں میں سے!سارا پواڑا باہمنوں کا ڈالا ہوا ہے۔پواڑا کاہے کا،پاڑا(پھوٹ)ڈال رکھا ہے۔ویہلے بیٹھ کے کھانے کو اور ہمارے جیسوں سے اوروں کے لئے بیگاربتی کروانے کو"
بھائیے کا سماجی اور سیاسی شعور بھی اسے مختلف بنا رہا تھا
"بھائیے کو پھر پتہ نہیں کیا سوجھا کہ بولنے لگا"میں تو کہتا ہوں کہ کسی ایک طرف ہو کے مر جاو سارے جنے۔۔چاہے جدھر مرضی جاو،چاہے سکھ بن جاو چاہے کچھ اور ،پر ہندو نہ رہو۔اس نرک سے نکلو ۔"
اپنے جہنم میں رہنے سے مسلسل انکار اور کوشش دراصل بھائیے کو اس ساری داستان کا ایکشن ہیرو بناتی ہے!
خدا اور خود پر یقین رکھنا ۔۔ان دونوں پر ۔۔یا ان میں سے ایک پر،وہ ہر کسی کا اپنا انتخاب ہے۔۔لیکن یقین کیجئے ۔۔کہ اصل مرحلہ صرف اس یقین پر قائم رہنے اور اس کو قائم رکھنے کا ہی ہے۔ایک ایسا مرحلہ ۔۔۔جو آنے والے مرحلوں کو بدل دینے کا یقین رکھتا ہے!
"کہنے لگا،نام یا بھاگوں کے کھیل سےکیا سنورنے والا!بتھیرے کرم کر لئے ،دن رات سخت محنت کر کے داکھوپر گھس چلا،کچھ نہ بنا،جو کوئی سچ پوچھے تو میں کہتا ہوں ،من میں پکا بھروسہ رکھواور اپنے بل بوتے پر کھڑے ہو جاو!
"دم بھر چپ رہ کے بھائیا اچانک اچھل کے پڑ گیا ۔"ماما چار. اکھر پڑھ لیا کر،نہیں تو ہماری طرح جمینداروں کی غلامی کیا کرے گا سارا دن ہاڑ توڑا کرے گا اور پیچھے ملیں گی ڈپٹیں جھڑکیاں۔"
47ء۔۔ایک ہی وقت کو تقسیم اور آزادی کا عنوان ملا ایسے میں کچھ جدائیاں،سفر اور ہجرت کے جبر کی صورت میں پیش آئیں۔۔۔جن کا ذکر عمدہ اور دلگداز ہے!
"بھائیے نے سکول کی عمارت سے جان محمد کی حویلی تک جانے کے لئے اپنی یادوں کا گھوڑا پیچھےکی طرف سر پٹ دوڑا رکھا تھا۔
"جان محمد کا چھوٹا بھائی اجیج(عزیز)محمد میرا جگری دوست تھا"بھائیے کی آواز پہلے سے دھیمی اور تھوڑی سی بھاری ہو گئی تھی"
بھائیے کو کچھ اور خیال آگیا تھا اور وہ بنا پوچھے بتانے لگا"
اس ایک جملے میں بنا پوچھے کے ادراک کی رمز ،نہایت حساس اور گہرے مشاہدے کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔
بھائیے کی بے ساختگی دل کو چھو لینے والی ہے۔۔اور اسی بے ساختگی سے دی جانے والی گالیوں اور گڈ کی ہونے والی پٹائی کا احوال بھی دلچسپ ہے!
"شاباش حرام دیے جنسے۔۔چاند چڑھائے گا کسی دن۔۔بھائیے نے کسی نجومی کی طرح کہا ۔
"در فٹے منہ اس تخم کی مار کے۔۔جیتے جی مروائے گا۔بھائیے کے داہنے ہاتھ کی چپیڑ میرے منہ پہ لگی ہی تھی کہ ماں نے تیزی سے بھائیے کی اٹھی ہوئی بانہہ پکڑی"
گڈ کی پٹائی،در اصل باغیانہ کاروائیوں کا علم ہونے پر ہوئی۔۔جو گاوں کے اونچی ذات کے کھیتوں ،کنووں اور درختوں سے چھیڑ چھاڑ کی صورت میں بچوں کی ٹولی مل کر کر رہی تھی۔۔یہ انتقامی کاروائیاں جہاں استحصالی رویے کے خلاف مزاحمت کی علامت تھیں ،وہیں آنے والے وقت کا سمت نما بھی تھیں !
"جو چار سیاڑ (تھوڑی سی زمین)ہمارے بھی ہوتے ۔بڑی سوہنی گزر بسر ہو جانی تھی ۔پتا نہیں کس کنجر نے ہمیں زمینوں سے بروے (محروم) رکھا۔"
"بھائیے کو جیسے کچھ یاد آجاتا۔اداس سا ہو کے کہتا"ہم نے آدم پور کی نہر پاٹ دی ۔امب کے ٹھانے تک سڑک بنا دی۔پر مجھ سے سالا چار خانےکوٹھا نہ ڈالا جا سکا۔"
برسات کے قہر سے نبٹتے ،کبھی دیوار کبھی چھت کو بچاتے ،بھائیا سپر ہیرو کی طرح لگتا ہے۔۔۔!
ایک اور دبنگ کردار دادی کا ہے،جس کے لئے ایک پورا باب"میری دادی۔ایک اتہاس" کے نام سے وقف ہے۔
"کس نکھسمی کا ہے تو؟ کھڑا ہو ذرا،چیر کے دو کرتی ہوں!"
دادی کے کردار سے متعارف کروانے والے پہلے جملے ہیں۔اس کے بعد ایک دلچسپ داستان شروع ہوتی ہے ۔۔جو دراصل بھائیے اور پھر گڈ (مصنف)کے ذہنی ارتقاء کا سراغ دیتی ہے۔۔۔کہ حالات کیسے بھی کیوں نہ ہوں۔ ہار نہ ماننے کا وصف ہی لڑنے والوں کی جداگانہ پہچان بنتا ہے!
تلخیء حیات کا زہر پی کر بھی ۔۔تلخ نوا نہ ہونا ایک منفرد اظہار ہے۔کتاب کی نثر شاعرانہ ادا رکھتی ہے جس کا ثبوت وہ عنوان ہیں جو مختلف ابواب کو دیے گئے ہیں۔"کورے کاغذ کی گہری لکھت" جو بچپن کی طرف اشارہ ہے ۔"تڑخے شیشے کی بپتا" جب حساس دل پر سوالوں کی چوٹ لگنے لگی تھی۔"تھوہروں پر اگے پھول"،بادلوں میں سے جھانکتا سورج"."مارو تھل میں بہا دریا"
مارو تھل میں بہا دریا اس کتاب زندگی کا خوبصورت ترین تجربہ ہے۔۔جہاں بے لوث اور غیر مشروط محبت انسان دوستی سے اٹھ جانے والے یقین کو حیات بخش لمحہ عطا کرتی ہے ۔۔۔اور در حقیقت ۔۔محبت کی مضبوط فصیلیں ہی ۔۔کارزار ہستی میں انسان کی ڈھال بنتی ہیں !
شاعرانہ نثر سے کچھ منتخب جملے پڑھیئے :_
"دھند کے اڑتے جڑتے بادلوں کی طرح میرے من میں خیالوں کی لڑیاں جڑنے لگیں"
"ان کے چہروں پر کسی چنتا اور سوگ کا جیسے دوہرا پوچا پھر گیا ہو"
"میرے خیالوں کے پتہ نہیں کیسے برساتی کیڑوں پتنگوں کی طرح پر نکل آئے"
"جاڑا اپنے آخری دن گن رہا تھا" ۔
"بھائیے نے خاموشی کا ساگر پار کرتے ہوئے کچھ دیر بعد ماں سے کہا"جو میری ساس جیتی ہوتی تو وہ تیرے دکھڑے سنتی".
"سدا دن ایک سے نہیں رہتے ! ماں ڈھلتے سورج کی کرنیں پکڑنے لگتی ۔"
ماں کے ذکر کے بغیر جیون ،جنم ادھورا ہے۔ماں کادھیما لہجہ ،تحمل اور صلح جو انداز ،امید اور حوصلے کے دامن سے لپٹے رہنا بھی۔۔مصنف کے مزاج پر اثر رکھتا ہے۔
ماں کے تحمل ،دھیرج نے امید اور حوصلے کا دامن کبھی بھی ہاتھ سے نہ چھوڑا۔۔۔اور ماں کا یہ وصف ،مصنف کے قلم کا گداز بن گیا!
دنیا ،زندگی،سماج،جب کسی مخصوص طبقے کو دیوار کے ساتھ لگا دے ۔۔پھلنے پھولنے کے مواقع ان پر بند کر دے۔۔جبر کا نظام ان پر مسلط کرے،تو وہ اپنے زمانے اور خطے کے دلت ہی کی مانند ہیں ۔۔دور کہیں جانے کی زحمت نا کریں ۔۔تاریخ کی تاریک سرنگوں میں تلاش کی مشعل اٹھائے ،تحقیق کا پھاوڑا چلائے بغیر ۔۔جدید زمانے کی ترقی سے لبالب بھرے امریکہ میں جاری نسلی تعصب کی جھلک دیکھ لیں۔۔
بوسنیا ،کشمیر،فلسطین تو مانوس نام ہیں ۔۔ایک نیا اضافہ ایغور سے اٹھنے والی گونج کا ہے۔
خود اپنے ملک میں وڈیرہ ،جاگیرداری نظام کے تحت روا رکھے جانے والے استحصال سے ہم واقف ہی ہیں ۔۔پاکستان میں تو خیر ایک مخصوص طبقے کی نگاہ میں پوری قوم ہی شودر سمجھی جاتی ہے۔جہاں کچھ جانیں زیادہ قیمتی قرار دی جاتی ہیں اور جہاں کچھ کو مراعات یافتہ ہونے کا حق دلیل کے ساتھ حاصل ہو اور باقیوں کو ان مراعات یافتہ طبقات سے کم تر رکھنے کی دانستہ کوشش کی جائے تو لکیر تو کھنچ ہی جاتی ہے۔۔۔اور پاکستانی سماج میں ایسی کئی لکیریں کھینچی جا چکی ہیں۔
نوجوانی کا ولولہ ۔۔زمانے کو بدلنے کی امنگوں کا مدار بنتا ہے۔۔مگر دھیرے دھیرے طے ہوتا سفر زمانے سے دست کش ہو کر اپنی ذات تک محدود ہوتا جاتا ہے۔داخلی اور خارجی محاذ پر بلبیر مادھو پوری کا سفر آب و تاب سے شروع ہوا۔۔ہر روز حقیقت کے نئے سورج سے سامنا۔۔۔جو روشنی تو دیتا ہے۔۔مگر آنکھیں چار کرنے کا حوصلہ نہیں دیتا۔۔۔!
عملی زندگی میں تنہا ایمانداری ،راہ کا روڑا کیسے بنتی ہے ۔۔ایمان کا امتحان ہر روز کس طرح لیا جاتا ہے۔۔۔اور مذہب بنے تعصب کو ہر موڑ پر موجود دیکھ کر سماج کے بدلنے کی امید توانا نہیں رہتی۔۔
کتاب کے آخری ابواب سنسنی خیز حقائق کا بے لاگ بیانیہ ہیں۔۔۔ملک کی وزیراعظم کے قتل پر برپا ہونے والے فسادات کے المیے کو بالواسطہ بیان کی تکنیک منفرد بناتی ہے ۔۔
ایک ایسے سماج کا سامنا ۔۔جہاں بازووں سے محروم مزدور۔۔مدد کی پیشکش قبول کرنے سے پہلے ذات کی اونچ نیچ کھوجتا ہے..نظمیں کہنے والا شاعر بھی دفتر کے ساتھی کو کچوکے لگا سکتا ہے ۔کرائے پر مکان لینے کے لئے ذات پات کی پوچھ تاچھ کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایسے سماج میں عزم ،امید اور لگن سے جڑے رہنا ۔۔ایک کڑا امتحان ثابت ہوتا ہے ۔
داخلی جہنموں سے گزر کر جو ملتی ہے ۔۔۔وہ اصل آزادی ہے۔جسے چھین لینا ممکن نہیں رہتا اور اس آزادی کو پا لینے والا۔۔ خود کو بے معنی ۔۔بے قدر اور بے مقصد سمجھے جانے کی بے سمت گمراہی سے مکتی پا لیتا ہے۔
محض ایک کتاب کا مطالعہ ،شعور کی شمع روشن کرنے کی استعداد رکھتا ہے ۔اور یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ روشنی اندھیرے میں دیکھنے کی صلاحیت کا بھی پیام لاتی ہے۔اور پھر وہ روشنی دیا ہو۔۔۔شمع ہو ۔۔مشعل ہو یا سورج ہو جائے۔۔۔
اندھیروں کی قسمت کہ انہیں روشنی کی کس قسم سے واسطہ پڑنے والا ہے !
کتاب:چھانگیا رکھ
مصنف:بلبیر مادھو پوری
ترجمہ:اجمل کمال
تبصرہ :آمنہ زریں


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3003479149882598