دیکھوں جو آسمان سے تو اتنی بڑی زمین اتنی بڑی زمین…
دیکھوں جو آسمان سے تو اتنی بڑی زمین
اتنی بڑی زمین پہ، چھوٹا ساایک شہر
چھوٹے سے ایک شہر میں سڑکوں کا ایک جال
سڑکوں کے پھیلے جال میں ویران سی گلی
ویراں گلی کے موڑ پر تنہا سا ایک شجر
تنہا شجر کے سائے میں، چھوٹا سا اِک مکاں
چھوٹے سے اِک مکان میں کچا ساایک صحن
کچی زمین کے صحن میں کِھلتا ہوا گلاب
کھلتے…

![]()