حسرتؔ موہانی جذبِ کامِل کو اثر اپنا دِکھا دینا تھ…
حسرتؔ موہانی
جذبِ کامِل کو اثر اپنا دِکھا دینا تھا
میرے پہلُو میں، اُنھیں لاکے بِٹھا دینا تھا
کُچھ تو دینا تھا ہَمَیں تیرے تغافل کا جواب
یا خُدا بن کے تجھے دِل سے بُھلادینا تھا
تُم جو افسُردہ ہُوئے سُن کے مِرا حال، سو کیوں
سرسَری طَور سے باتوں میں اُڑا دینا تھا
طائرِ جاں کے سوا کِس کو بناتے قاصد
اُس سِتَمگار کو، پیغامِ وَفا دینا تھا
رنجشِ بازوِ نازک کی ضرُورت کیا تھی
مُجھ کو اِک رنجشِ ابرُو سے مِٹا دینا تھا
درد مُحتاجِ دَوا ہو، یہ سِتَم ہے یا رب
جب دِیا تھا تو، کُچھ اِس سے بھی سوا دینا تھا
وہ جو بِگڑے تو، خَفا تُم بھی ہُوئے کیوں حسرتؔ
پائے نخوت پہ سرِ شوق جُھکا دینا تھا
مولانا حسرتؔ موہانی