#تیرے_عشق_میں #از_اقراء_خان #قسط_نمبر_16 #حصہ…


#تیرے_عشق_میں
#از_اقراء_خان
#قسط_نمبر_16
#حصہ_دوم

وہ ایک دم کے لیے ٹھر گئ اسے یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ۔۔واقعیی اسکی دھڑکنیں رک گئ ہوں اسکا دل تڑپ اٹھا جب اس نے اشعر کی آواز سنی ۔۔

ہاں ۔۔۔۔
اس نے بس مختصر سا جواب دیا
کچھ کہو گی نہیں ۔۔
آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔۔
ناراض ہو
ناراض تو ان سے ہوا جاتا جن سے کوئی تعلق ہو اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ اس سے ایسے بات نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن ۔۔۔وہ مجبور ہو گئ جو اسکے ساتھ ہو چکا تھا وہ کم نہئں تھا
میں ۔۔تم سے ملنا چاہتا ہوں صرف ایک دفعہ پلیز وشمہ نہ مت کہنا ۔۔۔
وہ رک گئ کچھ وقت کے لیے وہ نہیں بولی تھی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہ اسکی محبت کا سامنا نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
لیکن ۔۔اس دل لگی کے اڑے میں ۔۔اسے ہاں کہنا ہی پڑا ۔۔ اور اس نے فون بند کیا
وشمہ۔۔کیا ملنے جاو گی تم اس سے ۔۔رانیہ نے تجسس بڑے لہجے میں کہاں۔
ہاں ۔۔رانیہ ۔۔
میں اسے منع نہیں کر پائی ۔۔
تو پھر میں اسکا مطلب ۔۔یہی سمجھو ۔۔کہ عشق کی چنھگاری ابھی بھی تمھارے دل میں جل رہی ہے بس ۔۔ وقت کا گولا ہوا زہر ہے ۔۔۔جو ۔۔صرف وقتی طور پر ہے ۔۔

تم کچھ بھی سمجھو ۔۔وشمہ نے کہا ۔اور اپنے روم کی جانب چلی گئ ۔۔

کیا واقعی وہ بدل گئ ہے ۔۔؟ واقعی ۔۔۔اس نے ثابت کر دیا کہ اشعر گیلانی وشمہ ولید کے قابل نہیں ۔۔نا پیار میں اور نہ ہی ۔۔بزنس میں ۔۔
وہ بیڈ پہ لیٹا ہوا سوچ رہا تھا ۔۔اسکے وہم و گما ن میں بھی وشمہ کا تصور ہوتا ۔۔وہ ہمیشہ اسی کے بارے میں سوچتا ۔تھا ۔
کیسے اس سے معافی مانگوں گا ۔۔کیسے اس سے کہہ سکوں گا ۔کہ میں تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔

وشمہ ابھی بیڈ پہ لیٹنے لگی تھی کہ بوس کی کال آئی اس نے فورا سے کال پیک کئی ۔۔

اسلام و علیکم سر
و علیکم اسلام وشمہ
کیسی ہو ؟
آئی ایم گڈ سر۔۔how about you
گڈ ۔۔
ڈیل کا کیا بنا ؟
سر کل میٹنگ ہے ۔۔پھر ڈیل ڈن ہو جاے گی
ویری گڈ وشمہ ۔۔آپ۔ ایک بہت قابل ۔۔بزنس وومین ہیں ۔۔آیی ایم ویری پرواڈ آف یوں ۔۔
تھینک یوں سر۔اور یہ میری ڈیوٹی ہے کہ آپ جانے کے بعد آفس کو اچھے سے سنبھالنا ۔۔آپ بلکل بھی فکر مت کریں ۔۔
مجھے آپ پر پورا اعتماد ہے مینجر وشمہ اسلیے تو میں یہاںبپورے اعتماد سے ہوں جب آپ جیسے قابل اور شائستہ پسند لوگ اس دنیا میں موجود ہوں تو فکر کی کوئی بات نہیں مجھے ابھی 2منتھ اور لگیں گے ۔۔اینگلینڈ ۔۔پھر اس کے بعد میں خود join کروں گا آفس
جی سر ہم آپ کا انتظار کریں گے
وشمہ نے یہ کہتے ہوے فون بند کیا

****************************
مسٹر اشعر ۔۔وہ تلخ لہجے سے اشعر سے ہم کلام ہوئی جیسے کہ آپ جانتے ہیں ہماری کمپنی آپ کے ساتھ 3 سال کا پروجیکٹ کرے گی ۔۔تو کچھ باتیں ایسی ہیں جو میں آپکو اور آپ کے سٹاف کو بتا دینا چاہتی ہوں ۔۔
وہ اپنی نشیلی آنکھوں سے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔وہ ابھی بھی ۔یہی سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ واقعی وشمہ بدل گئ ہے اس کے جذبات احساسا سب ۔۔میرے لیے وہ اب نہیں رہے
رول نمبر 1 جو بھی ۔۔پروجکٹ سٹارٹ ہوگا ۔۔اسکی ساری رزلٹ فاعلز ۔پہلے ہمارے پاس آئیں گی اینڈ دین ۔۔آپ کے پاس ۔۔
اور دوسری بات ۔کانٹریکٹ کے مطابق ۔۔آپ کو ایڈوانس ۔۔6 منتھ بعد دیا جاے گا ۔۔کیونکہ پہلے کام ہونا چاہیے ۔۔
کیونکہ ہماری کمپنی کا اصول ہے کہ وہ کیسی کی محنت کر رائگاں نہیں کرتی اور کیسی کے کام کرنے کی اوقات کو جانچتی نہیں ۔۔
وہ بلکل چپ تھا ۔۔
جی ۔لیکن؟
لیکن کیا مسٹر اشعر
مطلب ۔۔ہماری کمپنی کے پاس رزلٹ فاعل کیوں نہخں پہلے آیئں گی
آپ بھول گئے ۔۔پروجکٹ ہمارا ۔۔اور معائدہ بھی ہمارا تو اصول ۔۔پہلا حق ہمارا

اس نے وہاں بیٹھے ہر شخص کے سوالوں کا جواب اس قدر روانی سے دیا ۔۔کہ سب حیران ۔رہ گئے

سب لوگ جا چکے تھے ۔۔
وہ اٹھی کے ۔۔پیچھے سے کیسی نے اسے روکا ۔
وشمہ
تمھیں یاد ہے
وہ مڑی ۔۔ہاں ۔۔
سو ابھی چلیں ۔۔
اس نے سر ہلایا ۔۔

**********************
آپ بہت بدل گئ ہیں
وقت کے ساتھ سب کو بدلنا پڑتا ہے ۔
واقعی صیح کہا وقت کے ساتھ سب کو بدلنا پڑتا ہے اس کے لہجے میں درد کی ایک لہر دوڑی
ناراض ہو ؟
کس سے
م۔۔میں۔۔جانتا ہوں ۔۔ میری غلطی ہے ۔۔
آپ کو پتا ہے ۔۔غلطی آپ کی نہیں ہے ۔۔آپ کے اردگرد کے لوگ آپ پر وار کرتے ہیں اور آپ کو پتا تک نہیں چلتا

اس رات جو بھی۔۔۔۔۔۔
پلیز ۔۔میں اس کے بارے میں اور بات نہیں کر سکتی جو ہوا وہ ۔۔میں کبھی بھلا نہیں سکتی۔

کیونکہ ۔۔کیسی شخص نے نا صرف میرا دل دکھایا ۔بلکل میرے جذبات اور میرے سیلف رسپکٹ پر ۔۔بات کی

وشمہ۔۔آئی نو ۔۔لیکن ۔۔مجھے نہیں پتا تھا
آپ کو پتا ہی کب ہوتا ہے ۔۔صرف ۔لوگوں کی باتوں پر یقین ۔
میں آیا تھا ۔۔تمھارے پیچھے
کیا ۔۔بتانے ۔آئے تھے

یہ بتانے ۔کہ
میں بھی تم سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔
جیسے اشعر نے اپنی روب دار آواز میں کہا ۔۔
وہ ایک دم رک گئ اسکی آنکھیں ساکت رہ گئ اس کا دل ۔اور رگوں میں دوڑتا ۔۔خون وہی منجمد ہو گیا ۔۔
ہاں وشمہ ۔۔میں تم ۔۔سے بہت پیار کرتا ۔ہوں ۔
بہت زیادہ ۔تمھارے جانے کے بعد ۔مجھے یہ احساس ہوا ۔۔کہ محبت کیا ہوتی ہے اپنا پن کیا ہوتا ۔۔
دیکھو ۔۔کیسا کھیل ہے ناں
تب مجھے ۔۔محبت کرنا ۔۔نہیں آتا تھا ۔۔تم آئی تم نے میری زندگی میں محبت ۔۔کرنا سیکھا دیا

وہ چپ تھی ۔۔

اسکی آنکھوں سے آنسو آگئے

تو پھر آئے کیوں نہیں تھے میرے پاس ۔۔

آیا تھا ۔۔لیکن رانیہ نے روک لیا کہا ۔۔کہ اگر ۔۔سچے عاشق ہو ۔۔تو یہی ۔۔مرو ۔۔اسکے پاس مت جانا ۔کیونکہ اگر اس کے پیچھے گئے ۔۔تو وہ اپنے مقصد سے دستبردار ہو جاے گی ۔۔
اسلیے نہیں آیا ۔۔تمھارے پاس۔۔

۔وہ کچھ کہے بنا اٹھی ۔۔

وشمہ ۔۔کچھ تو کہو ۔۔
میں۔۔۔میں۔پاگل ہو گیا ۔۔ہوں تیرے عشق میں ۔
اس نے وشمہ کا ہاتھ ۔۔مضبوطی سے پکڑا ۔۔
لیکن ۔
وشمہ ۔۔کچھ کہے بنا وہاں سے چلی گئ ۔۔

وہ اکیلی چل رہی تھی ۔۔انکھون میں انسووں کا دریا لیے ۔۔
آج اشعر نے کر دیا اسکے سامنے اظہار محبت وہ کیوں نہیں آگے سے کچھ کہہ پائی ۔۔شائد ۔۔ماضی کے زخم ۔۔ابھی بھرے نہیں تھے ۔۔میں نے کیوں اس سے شکایتیں کی ۔۔کیوں اس سے کہا ۔۔پیچھے کیوں نہئں آے؟

"وشمہ میں پاگل ہو گیا ہوں تیرے عشق میں”
کیا واقعی وہ مجھ سے سچی محبت کرتا ہے ۔۔۔ہاں لیکن ۔۔اگر وہ مجھ سے محبت کرتا ۔۔تو کیوں ۔۔اس دن اس نے میرے پیار کی یوں ۔۔بےعزتی کی ۔کیوں سب کے سامنے میرا تماشا بنایا ۔۔اسلیے کہ
تب میری اوقات نہیں تھی ۔۔تب میں ایک معمولی سے سیکرٹری تھی تب میرا سٹینڈرڈ میچ نہیں کرتا تھا ۔۔
اور آج ۔۔

وہ ۔۔اسی سوچوں میں گم تھی ۔۔یہ محبت کا آخری ۔۔داو ۔۔تھا ۔۔
جس میں اب یقین کی آس ۔۔ہونا لازمی ہے ۔۔

***************************

اسلام و علیکم بابا جی

وعلیکم اسلام وشمہ بیٹا کیسی ہو
میں بلکل ٹھیک آپ سنائیں ۔۔
میں بھی ٹھیک ۔۔
اچھا ۔۔وہ اشعر صاحب کہا ۔۔
بیٹا وہ تو باہر گئے ہیں کیسی کام سے

کیوں کوئی کام ہے

ن۔۔۔نہیں ۔۔نہیں ۔۔کوئی کام نہیں
وہ پلٹنے لگی کے پھر مڑی ۔۔بابا جی
جی بیٹا ۔۔
آپ مجھے بتا سکتے ہیں ۔۔نہیں میرا مطلب ۔۔کہ اشعر صاحب اتنی دیر ہو گئ ہے ۔۔کوئی ۔
شادی ۔۔مطلب ۔اکیلے اتنے بڑے گھر
اسکو پوچھنے کا انداز ۔۔نہیں آرہا تھا ۔کہ وہ کیسے پوچھے ۔۔
اس نے ایسا سوال کیوں کیا ۔۔
شائد یہ جاننے کے لیے کہ اشعر کی زندگی ۔۔میں کوئی ۔۔لڑکی تو نہیں آ گئ ۔

ہاں ۔۔ہاں بیٹا میں سمجھ گیا ۔۔
شادی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا ۔۔ہاں بس ایہ بات ہے ۔
وشمہ ۔۔کا تجسس بڑا
کیا ؟
وہ کیسی کی تصویر دیکھتے ہیں ہر روز ۔۔

آپ نے پوچھا نہیں کس کی ہے
نہیں ۔۔مجھے لگا اگر وہ مجھے نہیں بتا رہے یہ کون ہے تو ۔۔میں کیسے پوچھوں ۔۔
اچھا ۔
چلیں ٹھیک ہیں
وہ یہ کہتے ہوے گھر سے نکلی ۔۔

تصویر ۔۔
مطلب کس کی ہو سکتی ہے ۔۔۔
کیا واقعی تو ۔۔اشعر کی زندگی میں کوئی لڑکی تو نہیں
پھر مجھ سے ۔۔یہ اظہار محبت کیوں ۔۔
اس نے تیور چڑھائی ۔

اجائیں مس وشمہ بیٹھے وہ سامنے چیر پر بیٹھ گئ ۔۔
کیسا لگ رہا ہے ہماری کمپنی کے ساتھ کام کر کے ۔۔

وہ ۔۔خاموشت تھی اسے بات میں ڈوبی ہوئی ۔۔
مس وشمہ
۔۔ہاں ۔۔جی
کیا کہا ؟
کہا گم ہیں؟
نہیں کچھ نہیں آپ کچھ پوچھ رہے تھے
نہیں کچھ نہیں ۔۔
اچھا ۔۔آپ کیا پیے گی ؟
نو تھینکس کچھ نہیں ۔۔

کالی چائے نہیں پیے گی ۔۔
جیسے اشعر نے کہا وشمہ نے بے اختیار اشعر کی طرف دیکھا
نہئں ۔۔اب مجھے نفرت ہے اس کالی چائے سے ۔۔
اوکے ۔۔
ارے واہ یہ کیبن ۔۔ابھی تک یہاں ہیں ۔۔
کوئی اور نہیں آیا

نہئں ۔۔کوئی آپ کی جگہ نہیں لے سکا ۔۔

)دیکھ کیسے مسکے لگا رہا ہے وہ جس کی تصویر دیکھتے ہو وہ پھر کون ہے

وشمہ نے آئیستہ سے کہا

کیا کہا
نہیں نہیں کچھ ۔۔
ایکسیوز می
اشعر یہ کہتے ہوے ۔۔باہر گیا ۔۔
وشمہ کی نظر اچانک ٹیبل پر پڑی جہاں ۔۔وہ تصویر ۔۔پڑی تھی الٹی

اس نے جیسے اپنا آگے ہاتھ بڑھایا ۔۔
کہ اچانک ۔۔اشعر ۔۔آگیا ۔۔
اس نے جلدی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا ۔۔

*******************

جی ۔۔جی ۔۔ایسا ہی ہو پروجکٹ ۔۔
وہ مینجر علی کے ساتھ کھڑی تھی ۔۔
اشعر سامنے کھڑا اسے مسلسل دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے اب ٹھان لی تھی کہ وہ وشمہ سے اظہار محبت کروا کے چھوڑے گا ۔۔

ہوا ۔۔زیادہ ہونے کے باعث ۔۔وشمہ کے آگے آتے کچھ بال ۔۔
اڑ رہے تھے ۔۔
کہ اچانک۔۔ریت کا کچھ زرہ اس کی آنکھوں میں چبے ۔۔

مس ۔۔وشمہ آر یو آوکے ۔
جیسے مینجر علی نے ۔۔کہآ

وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھانے لگا ۔۔کہ
اشعر فورا ۔۔وشمہ کے نزدیک گیا ۔۔

اور مینجر علی کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
اور انتہائی غصے سے کہا ۔۔
آپ جائیں۔۔۔۔۔۔
لاق۔مجھے دکھاو ۔۔
جیسے اشعر نے کہا ۔۔
وشمہ نے فورا کہا ۔۔
نہیں ہو جاے گا ۔۔
کیسے ہو جاے دکھاو تو سہی ۔۔
میں نے کہا ناں صیح ہو جاتا ۔۔ہے ۔اس نے اپنی آنکھ کو مسلا ۔۔اور پھر اشعر کی طرف دیکھا ۔۔
جو انتہائی فکر مند ۔تھا ۔

(ایسے ہی اس تصویر والی لڑکی کے لیے فکرمند ہوتا ہو گا ۔۔واقعی ۔ بڑا تیز ۔۔ہے یہ گیلانی)

ہو گیا ۔۔صیح ۔۔
ہاں ۔۔
دیکھا دیتی تو کیا تھا ۔
بہت کچھ تھا ۔۔
وہ یہ کہتے ہوے آگے بڑھ گئ ۔

وہ مسکرایا ۔۔اسکی بات پر

********************

دروازے پر دستک ہوئی جیسے وشمہ نے دروازہ کھولا
آگے علہزے کھڑی ۔۔تھی
وشمہ علیزے کی یہ حالت دیکھ کر حیران رہ گئ ۔۔