تاب: آب نیل پہ آوارگی مصنف: نجیب مخوظ از قلم زین سلیم۔ آج کی کتاب نوبل انعام یاف…
تاب: آب نیل پہ آوارگی📕
مصنف: نجیب مخوظ
از قلم زین سلیم۔✍️
آج کی کتاب نوبل انعام یافتہ مصنف نجیب محفوظ جسے اپنے قلم کی طاقت نے مصر کا تخلیقی ضمیر بھی کہلایا ھے ۔ جو لکھتا ہے کہ انقلابوں کو شاطر لوگ ترتیب دیتے ہیں، بہادر لڑتے ہیں اور بزدل فائدہ اٹھاتے ہیں۔”
تجزیہ اور منتخب اقتباسات۔
جس نے کے انتشار پر اور روزمرہ زندگی کے مسائل اور مصری کے معاشرے کی عکاسی پر لکھا اس ذہنی بحران پر لکھا جو روزمرہ کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ نجیب محفوظ کو مصر کا تخلیقی ضمیر مانا جانا چاہیے جس نے باکمال طریقے سے انقلابی دور میں اس ناول کو لکھا اور خوب تنقید کے بعد اپنی شہرت کا بھی سبب بنا لیکن یاد رہے یہ ناول تنقید سے زیادہ اس کی کہانی اور انداز بیاں ہی نے اس کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچایا ھے۔
اس ناول میں کشتی گھر کے دانشور نوجوان کے کرداروں کے درمیان مکالمے اتنے شاندار ہیں کہ پڑھتے وقت قاری خود کو اس محفل کا ایک فرد سمجھنے لگتا ہے اور اپنی موجودگی اس میں اس کشتی میں ہی محسوس کرتا ھے۔
اس ناول میں اس نوجوان طبقے کو بیان کیا گیا ھے جو اپنی تمام زندگی سے فرار چاہتے ہیں اور کشتی گھر کو اپنی محفل کا ٹھکانہ بناتے ہیں اس کشتی گھر کا ذکر ھے جس میں تمام دانشور دوست زندگی سے فرار ہو کر اپنی زندگی کو کشتی گھر اور حقہ پر فوقیت دیتے ہیں۔ تمام دوستوں کا طبقہ جو اعلی تعلیم یافتہ ذہین اور باشعور ہے مگر اس کے ساتھ عیش پرست اور نشے کے عادی ہیں جس کی وجہ وہ اخلاقی اور روحانی طور پر پست اور دیوالیہ ہے. کوئی محکمہ کے ڈپارٹمنٹ افسران سے باغی و فرار ھے کوئی فلمی دنیا اور اپنی ذاتی زندگی سے باغی و فرار ہیں۔
کہانی ان تمام دوستوں کی ھے جو زمانے سے فرار ہو کر کشتی گھر میں دنیا سے الگ محفل جماتے ہیں سب اعلٰی درجہ کے تعلیم یافتہ دانشور محقق لیکن اپنے کام اور اداروں سے بےزار اور تنگ آ کر باغی خیالات اپنا لیتے ہیں اور کشتی گھر کے حقہ کے درمیان ان کے مقالمہ ایسے جاندار کہ تخریر کو لطف اور چار چاند لگا دے کوئی افسانہ نگار ہو تو کوئی مضمون نویسی سے وابستہ تو کوئی فلم انڈسٹری اور ڈرامہ رائٹر اور سکرپٹ رائٹر ھے۔
ان سب میں سے ایک انیس ذکی جو محکمہ کے ڈیپارٹمنٹ آفسر کے پن میں سیاہی نہ ہونے سے نکالی گئی بھراس کو دل پے لے لیتا ھے اور کشتی گھر کی کہانی اور دوستوں کے مقالمہ کا آغاز شروع ہوتا ھے۔ ہر ایک دوست کی شام کو اس کشتی گھر میں شرکت کرنا اور اپنے خیالات کا برپا انداز میں بیان کرنا کمال ھے۔
کبھی کبھی ہم بھی سب سے زندگی کی دور سے فرار کے لیے ناولوں اور کتابوں کا سہارا لیتے ہیں۔۔ کشتی گھر میں کئی کردار ہیں جو ناول کو جان دار بناتے ہیں جس میں انیس ذکی، رجب، خالد، مصطفٰی، لیلی، سمارا،ثناء یہ تمام وہ لوگ ہیں معاشرے سے اور ذہنی انتشار سے فرار ہیں جنہیں معاشرے جگہ دینے کے لیے تیار نہیں جس کی کئی وجوہات ہیں کچھ سیاسی تو کچھ معاشرتی یہ تمام زندگی اور لوگوں کی نظر سے باغی ہو کر کشتی گھر کی رونق بنتے ہیں اور اپنے اپنے خیالات کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ۔۔
محبت اب ایک فرسودہ سی چیز ہے، لیکن کشتی گھر پر یہ ایک شغل ہے۔کونسل اور ادارے جنسی تعلقات کو گناہ قرار دیتے ہیں، لیکن اس کشتی گھر پر یہ ایک آزادی ہے۔ چاند ایک بے جان اور سرد سیارہ ہے مگر کشتی گھر میں یہ شاعری ہے، دیوانگی ہر جگہ ایک بیماری ہے لیکن یہاں یہ فلسفہ ہے کوئی بھی چیز کسی بھی جگہ اہمیت کی حامل ہو لیکن یہاں اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
سب کچھ اچھا چل رہا ہوتا ھے کشتی گھر کے مضمون افسانہ نگار کی کہانی اور ڈرامہ کی کہانی پھر ایک دن تمام دوست پکنک پر جاتے ہیں کہ راستے میں رجب سے گاری سے حادثہ پیش آ جاتا ہے جس کے سبب ایک گاڑی والے کے ساتھ ٹکراتا ھے جس سے اس ایک آدمی مر جاتا ھے وہاں سے تمام دوست بھاگ کر کشتی گھر پہنچتے ہیں جس کی مدد نہ کر کے بعد میں سب ایک دوسرے کو ملامت کر کے قصور وار سمجھتے ہیں انیس ذکی اور سمارا خود کو پولیس کے سپرد کر کے جرم اقرا کرنا چاہتے ہیں لیکن رجب اس بات سے انکار کرتا ھے جس سے آپس میں ہاتھا پائی ہونے پر اور آپس کے اس جھگڑے سے ان کی یہ ساری بیٹھک بکھر جاتی ہے. اس تمام کہانی کے کردار اور مقالمے خیالات ایک انقلابی سوچ کو ظاہر کرتے ہیں جو اپنے خیالات سے دنیا کو بدلنا چاہتے ہیں کمال کی کہانی اور انداز بیان ھے۔ اگر آپ بھی عالمی تراجم کے شوقین ہیں اور کسی اچھے ترجمہ کو پڑھنے چاہتے ہیں ایک دفعہ اس ناول کی طرف رجوع کیجئے گا یقینا خوب لطف ملے گا شکریہ۔۔۔
زین سلیم۔✍️
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3828787830685055