بلیک روز سمرین شاہ قسط نمبر 42 اس نے ایک ا…
???? بلیک روز
???? سمرین شاہ
???? قسط نمبر 42
اس نے ایک انجیکشن پھوپھو کی گردن کے قریب لگایا اور لگانے کے بعد اس نے پھوپھو کو ہلکہ سا جنجھوڑا
"پھوپھو ۔۔۔پھوپھو ۔”
اس کے کہنے پر پھوپھو نے اپنے آنکھیں با مشکل کھولی پھر اسے دیکھ کر دوبارہ بند کردی کیونکہ ان سے کھولنا مشکل ہوتا جارہا تھا ۔
"زلنین کے بچے یہ کیا کردیا ۔”
وہ ایک اور لگا کر ان کے اُٹھنے کا انتظار کررہا تھا مگر پھوپھو کی آنکھیں کھلتی پھر بند ہوجاتی ۔
جزلان نے سوچا تھوڑا سا ٹائیم دیتے ہیں تب تک وہ شیشے نما کمرے میں دیکھ کر آئے وہ مڑنے لگا تو اسے چارسو چالیس کا جھٹکا لگا ۔وہ کچھ دیر اس کھڑی ہوئی شخصیت کو دیکھتا رہا جو سنجیدگی سے اسے ہی دیکھ رہا تھا پھر اس کے لب ہلے ۔ تو آخر انھیں اٹھارہ سال بعد آنے کا خیال آہی گیا ۔
"بابا ۔”
یشب ذولفقار سفید کوٹ اور پینٹ میں آنکھوں سے چشمہ اُتار کر اپنے بارعب سنیجدہ شخصیت سے اپنے بیٹے کو سرتاپا دیکھنے لگے جو کافی بڑا ہوگا تھا ۔
"تم جزلان ہی ہونا ۔”
فائیق کی طرح ان کی بھی آواز گونج دار تھی پورے گھر کے دروں دیوار ہل جاتی تھی ان کے آواز سے ۔
جزلان نے جھٹکے سے انھیں دیکھا وہ اسے پہچان بھی نہیں پائے ہاں وہ کیسے پہنچاتے وہ تو چلے گئے تھے جب وہ ایک سال کا تھا ۔ جزلان کو اس معاملے میں فرق نہیں پڑتا تھا ۔ ان کو دیکھ کر نہ خوشی ہوئی ، نہ دُکھ نہ غصے عجیب بات تھی وہ کوئی احساس محسوس ہی نہیں کررہا تھا ان کو دیکھ کر ۔جزلان نے سر اثبات میں ہلایا .وہ اس کے سر ہلانے پر بولے ۔
"کافی بڑے ہوگئے ، اچھا ہے باقی سب کہاں ہے اور یہ کشف کو کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے نا ۔”
کہتے ساتھ ہی وہ اندر داخل ہوے اور بستر پہ درواز کاشف کو دیکھا جو آنکھیں موندیں ، ہوش و خور سے بیگانہ تھی ۔جزلان ان کو اوپر سے نیچے تک دیکھا جارہا تھا پھر تلخی سی مسکراتے ہوے اس نے ہما کی بات کو سوچا ۔
"اب ہر کوئی آہستہ آہستہ آتا جارہا ہے ، ابھی میرے بابا آئے پھر ماما آئیں گیں پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے سے سوچ میں تھا کہ یشب ذولفقار نے اس کو سوچ کی دُنیا سے نکالا ۔
"کہاں گُم ہو بتاو مجھے کیا ہوا کشف کو ۔”
"ککک کچھ نہیں وہ بس ان کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں تھی ، بس آرام کررہی ہے ۔”
"تو یہ اتنے بھاری ٹیکے کیوں پکڑے ہیں ، کیا کررہے تھے ۔”
ان کی سخت آواز پہ باز پرس کرنے پر جزلان نے ایک نظر دیکھا اور ہلکہ سا سر ہلاتے ہوے ہمت کرتے ہوے بولا ۔
"اس ٹیکے سے ان کو تکلیف نہیں ہوتی ۔”
سپاٹ لہجہ ۔
"ہو مگر اسے ہوا کیا تھا ۔”
"آپ کیوں آئے ہیں یہاں ۔”
یہ بات اس نے دل میں کہی تھی اور بےزاری سے جواب دیا ۔
"بس دورے پڑتے ہیں انھیں ۔”
"دورے ؟ ۔”
وہ زچ والے انداز میں مٹھیاں دباتا گہرا سانس لے کر تحمل سے بولا ۔
"آپ کب آئے ؟ دادا سے ملے آپ ۔”
اس کے بات بدلنے پر یشب نے اسے ایک نظر دیکھا اور گویا ہوے ۔
"ہاں بابا کے کمرے میں گیا تو ملازم سے پتا چلا وہ گئے ہوے ہیں پھر فائیق کا پتا کرنا چاہا تو وہ بھی سُنا ہے کہ وہ یہاں آہی نہیں رہا کسی کو اس کے بارے میں کچھ نہیں پتا جب بچوں کا پوچھا تو اس نے بتایا زلنین صاحب تو ڈیوٹی پر گئے ہیں ، پرمیس بھی نہیں ہے مگر تم اور کشف موجود ہو ۔ اس لیے اِدھر آیا ۔”
"اچھا ! ۔”
جزلان ان کی بات پہ صرف اتنا کہہ سکا ۔
"آپ چلے دادا کچھ دیر میں آتے ہونگے یا تب تک آپ اپنے کمرے میں جاکر آرام کر لیں ۔”
"گھر کا نقشہ تبدیل ہونے کی وجہ سے مجھے نہیں معلوم کہ میرا کمرہ کون سا ہے ۔”
"اُف ! ایک جن ہوکر بھی اتنا بھولاپن ۔”
دل میں کہتے ہوے وہ بلا آخر بولا ۔
"چلیے میں آپ کو آپ کے کمرے کی طرف لے جاتا ہوں ۔”
"ہو ، تم کیا کررہے ہو آج کل ۔”
"سائینٹسٹ ہوں ۔”مختصر سا جواب ۔
"بڑے بھیا کی طرح ۔”
ان کا لہجہ بے حد عجیب تھا جزلان نے توجہ نہ دی ۔
"اچھا ہے مگر ان کی طرح اوور سمارٹ مت بنا ۔”وہ اب سڑھیوں کی طرف چڑھ رہے تھے تب یشب نے کہا ۔ جزلان نے انھیں مڑ کر دیکھا اور الجھن امیز نظروں اپنے اوپر پاکر یشب عجیب انداز سے مسکرائے ۔
"دیکھو اچھی بات ہے بنو ضرور بنو مگر اگر ایک چھوٹا سے مشورہ دوں تو عمل کرو گے ۔”
وہ اب اس کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے ۔ ان کی بھی آنکھیں فائیق سے ملتی مگر ان کا رنگ گہرا سانولا تھا جو ان کے سارے نقوش کو مانند کرجاتا تھا ۔
"جی کہے ۔”سپاٹ لہجہ ۔
"دیکھو تم میرے بیٹے ہو گلہ بھی ہوگا تمھیں کہ اتنے سالوں بعد آیا ہوں اور اپنے بیٹے کو نصیحت بھی دینے کا فرض سمجھتا ہوں جبکہ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا اس کے لئے جو ایک باپ کرتا ہے ۔ میرے بغیر تم ٹھیک بھی لگ رہے ہو خیر کہاں تھا میں ہاں اپنے پروفیشن کو اپنے پروفیشن تک ہی رکھنا اسے پرسنل لائف نہیں آنی چاہیے ورنہ نقصان اُٹھاو گے ۔”
وہ اس کا کندھا تھپ تھپا کر چل پڑے جبکہ جزلان عجیب سی الجھن لئے انھیں جاتا ہوا دیکھنے لگا ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھا وہ اچھلا مڑ کر دیکھا تو پرمیس کھڑی ہوئی تھی ۔
"تم ! ۔”
پرمیس مسکرا پڑی ۔
"جن پہ ڈرتے ہیں یہ مجھے اب پتا چلا ۔”
"تم جیسی سفید بھوتنی ہو تو انسانوں کو کیا جنوں کو بھی ڈر لگے خیر کہاں تھی ۔۔۔”
جزلان کے تیزی سے کہنے پر وہ ہنسی ۔
"کیوں پیار ہوگیا ہے مجھ سے ۔”
"استغفراللّٰہ ! ۔”
جزلان نے کہتے ساتھ بقائدہ کانوں کو ہاتھ لگائے ۔
"میرے پہ اتنا بُرا وقت نہیں آیا کہ میں اپنے سے بڑی وہ بھی چڑیل نامہ جن سے محبت کروں ۔”
"خیر مجھے بتاو گے زلنین کہاں ہے ۔”
"کہاں ہوگا وہ جوڑوں کا غلام ۔”
جزلان کی زبان پھسلی پھر اس نے اردگرد ڈرتے ہوے دیکھا کہ کہی یہ غالب نہ ہوجائے پھر پرمیس کی نظریں پاتے خود پہ قابو پایا ۔پرمیس نے الجھن سے اسے دیکھا ۔
"جوڑوں کا غلام ؟ ۔”
"بیرا غرق کرے تیرا جزلان ۔”
"آج تمھیں پتا ہے کون آیا ہے ؟”
اس نے بات بدلتے ہوے پرمیس سے کہا ۔
"کون ؟”
"یشب زولفقار ۔”
"کون یشب ۔۔۔ او ماموں شیبی وہ کب آئے ۔”
اس نے حیرت سے پوچھا ۔
"پھوپھو کو ٹیکے لگا رہا تھا مڑا تو کھڑے ہوے تھے ۔”
اس نے اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوے کہا ۔
"کیا کہتے ہیں ۔”
اس نے اپنے بازو پہ پہنے بریسلٹ کو چھیڑتے ہوے دیوار کے ساتھ لگتے ہوے کہا ۔
"کہتے ہیں پرمیس کو دو لگاو جس نے زلنین کا جینا حرام کیا ہے ۔”
پرمیس کی آنکھیں لال ہوگئیں ۔
"جزلان میں اب اسے کچھ نہیں کہتی ۔”
"اچھا تو اب اس کا پوچھ کیوں رہی ہو ۔”
"تم زلنین کے چمچے کیوں ہو ؟”
"او ہیلو میں کسی کا چمچہ نہیں ہوں ، بھائی ہے میرا ۔”
"اتنے بھائی ہوتے نا تو اس ہما نامی لڑکے سے ہر ممکن دور رکھنے کی کوشش کرتے ۔”
جزلان نے چونک کر اسے دیکھا ۔
"کیا ؟ ”
"کچھ نہیں میں چلتی ہوں ممی کہاں ہیں ۔”
"نہیں مجھے بتاو تم نے کیا کہا ۔”
وہ جزلان ہی کیا جو کسی کو پیچھا چھوڑے ۔
پرمیس نے اردگرد دیکھا کہ کہی زلنین نہ آجائے پھر رازداری سے اس کے کانوں اپنی طرف لانے کو کہا ۔
"ایک شرط میں بتاوں گی اگر تم زلنین کو نہیں بتاو گے ۔”
"بات کیا ہے ۔”
جزلان نے آہستہ سے کہا ۔
"ہما کالا جادو کرتی ہے ۔”
"واٹ !! ۔”جزلان کو جھٹکا لگا ۔
"آہستہ ۔۔۔ ”
پرمیس نے اسے تنبیہ نظروں سے دیکھا پھر بات جاری رکھتے ہوے بولی ۔
"سُنے میں آیا وہ ہر خوبصورت جن کو قابو کرتی ہے پھر انھیں اپنا دیوانہ بنا کر اپنے مطلب کا کام نکلواتی ہے پھر جب مطلب پورا ہوجاتا ہے تو وہ انھیں چھوڑ دیتی ہیں اور جن جو اس کے اس قدر دیوانے ہوجاتے ہیں حتاکہ اس پر اپنے موہر لگا دیتے ہیں پاگل ہوجاتے ہیں اس پاگل پن کے نتیجے میں اپنے اردگرد سب کو مار دیتے ہیں ۔ اپنے لیے وہ روگ پا لیتے ہیں یا خود کو بھی ختم کر ڈالتے ہیں ۔ ”
اس کی بات پر جزلان کو پسینہ چھوٹ گیا ۔
"قتل ۔”
"موہر ۔”
"دیوانگی ۔”
"روگ ۔”
پرمیس بولی جارہی تھی اور جزلان کا سر چکڑا رہا تھا
فائیق اور زلنین کے واقعات سامنے گزر رہے تھے ۔ زلنین جو کسی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا
اچانک سے ایک عام سی شکل و صورت والی لڑکی پہ عاشق وہ بھی عام سے عشق نہیں پاگلوں والا جنون اور دیوانگی سے بھر پور عشق ۔ مر مٹانے والا عشق ۔
عبادت والا عشق ۔
"اس فائیق نے اپنی محبت کے لئے میرے ماں باپ کو مار دیا ۔”
"نانی بھی اسی کی وجہ سے مری جب انھوں نے اس کی حرکتیں جانی ، امریکہ سے بھی باپ نے نکال دیا ۔”
پرمیس کی آواز پہ اسے ہوش آیا ۔ چونے کی طرح سفید چہرہ لئے وہ اسے دیکھ رہا تھا پھر اس کے لب واہ ہوے ۔
"تمھیں کس نے بتایا ۔”
"قسم سے مجھے بھی حیرت ہوئی تھی اتنی بھولی صورت والی ایسے حرکتیں ، اس کو چھوڑو شفق بھی ایسا کرتی تھی دیکھ لو نا فائیق چاچو کی حالت نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے ۔”
"میں پوچھ رہا ہوں کس نے بتایا ۔”
"یہاں کہ ایک بہت نیک بابا ہیں انھوں نے بتایا ان کے ساتھ یہاں کے آس پاس رہنے والوں نے بھی ۔”
عام سے لہجہ میں اس نے کہا ۔
یا اللہ یہ کیا ہورہا ہے ۔
جزلان کو سمجھ نہیں آرہی تھی ۔ ہما واقعی میں وہ معصوم سی لڑکی ایسا کر سکتی ہے ۔
دل نے کہا نہیں ۔
دماغ نے کہا سب معصوم چہرے دھوکہ دیتے ہیں ۔
دل نے کہا ۔
"پرمیس حسد کے تحت یہ سب کررہی ہے ۔”
دماغ نے کہا ۔
"جو انجام وہ بتارہی ہے اس کا ثبوت تم خود اپنے نظروں سے دیکھ چکے ہو ۔”
"جیزی کسی کو مت بتانا ، میں خود زلنین کو ثبوت دوں گی لیکن میں چاہتی ہوں تم زلنین پہ نظر رکھو اگر تم اسے بے حد چاہتے ہو میں بھی چاہتی ہوں اس لئے یہ سب کررہی ہو میں اسے گہرے کنویں میں جانتے بوجھتے گرتا ہوا نہیں دیکھا سکتی اور مجھے پتا ہے تم بھی نہیں دیکھ سکتے ۔”
جزلان اسے ایک لمحے کے لیا دیکھا پھر کچھ کہے بنا وہاں سے چلا گیا ۔
پرمیس نے اسے مڑ کر دیکھا اور خاموشی سے سڑھیاں چڑھنے لگی ۔
••••••••••••••••
وہ یونی کے اندر داخل ہوئی اور اپنا ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنے لگی ۔ وہ سٹنفورڈ کی پڑھنے والی اس وقت ایک عام سے یونی کو دیکھ کر کنفیوزڈ ہوگئی تھی جو اپنی طرف سے بہت بڑا تھا ۔
سارے سڈوٹنس اپنے خوش گپوں میں لگے ہوے تھے ۔
کچھ اسے ایک نظر دیکھ رہے تھے ، کچھ اس کو بھرپور نظروں سے دیکھ رہے تھے ۔ہما کو اس وقت زلنین کا ساتھ محسوس ہوا پھر اپنے سوچ پہ اسے غصہ آیا ۔
خود ڈھونڈنے کی کوشش میں اسے اپنی کلاس کہی نہ ملی اوپر سے اس نے کسی سے پوچھنے کی زحمت نہ کی ۔
اس کی کنفیوزڈ سراپا کسی کی نظروں میں آگیا ۔
وہ چلتے ہوے اس کی طرف آیا وہ اردگرد فائل تھامے اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی جب کسی کے گلا کنکھارنے پہ اچھل پڑی مڑ کر دیکھا تو ایک چھ فٹ کا خوش شکل لڑکا بلیو جینز اور ہری شرٹ میں اس کو مسکراتے ہوے دیکھ رہا تھا ۔
"ہائی یو آڑ نیو رائٹ ۔”
"جج جی ۔”
وہ ہکلاتی آواز میں بولی پھر خود کو کمپوز کیا ۔
"او آئی سی ۔۔۔ آپ کو اپنا ڈیپارٹمنٹ نہیں مل رہا ۔”
وہ شائستہ لہجے میں کہتا خاصا ڈیسنٹ لگ رہا تھا ۔
ہما نے نفی میں سر ہلایا ۔
"آپ کا ڈیپارٹمنٹ کون سا ہے ؟۔ اور جب ہما نے بتایا تو مسکرا پڑا ۔
"او نائس ! مگر آپ لیٹ آئی ہیں اس وقت تو کلاس شروع بھی ہوگئی ہے ۔”
"کیا کلاس شروع ۔”
"یس پندرہ منٹ ہوگئے ہیں اور سر وقاص بہت سٹرک ہیں آپ دوسرا لیکچر لیں لیجیے گا ورنہ پہلے دن کی بے عزتی شاہد آپ برداشت نہ کر پائے ۔”
"میں جان بوجھ کر تو لیٹ نہیں ہوئی مجھے ٹائیم کا بھی نہیں پتا تھا ۔”
"کوئی بات نہیں ہوجاتا ہے بائی دا وے میں عون رضا ، بزنس ڈیپارٹمنٹ سے ہوں اور آپ ۔”
کہتے ساتھ اس نے کھل کر مسکراتے ہوے اسے اپنے چمکتے ہوے دانت دکھائے ۔
ہما کے تھوڑی گھبراہٹ اس کے دوستانہ لہجے سے کم ہوگئی تھی ۔
"ہما ۔”
"آپ ہمیں جوائن کرسکتے ہیں کلاس فیلو نہیں تو کیا ہوا یونی فیلو تو ہیں اور ویسے بھی آدھی کلاسیں آپ کے ساتھ اٹینڈ کروں گا یونو فرسٹ سمیسٹر ۔”
"دوسرا لیکچر میرا ۔”
"اس میں تو ابھی گھنٹہ ہے اس ٹائیم ہمارا بھی ہوگا آپ کے ساتھ اگر آپ کو اعتراض نہ ہو تو آپ ہمارے گروپ کے ساتھ وہ سامنے بیٹھی ہوئی ہے ۔”
اس نے اشارہ کیا ۔وہاں چار لڑکے اور تین لڑکیاں بیٹھے باتیں کررہے تھے ۔
"اگر کوئی اعتراض ہے تو اٹس اوکے آپ ۔۔۔”
"اوکے ۔”
ہما کچھ سوچتے ہوے مان گئی ۔ عون مسکرایا اور اسے آگئے چلنے کا اشارہ کیا ہما نے سوچا اب یہاں چار سال پڑھنا ہے تو سب سے کیسے ہچکچانا ۔ویسے بھی فیلوز ہی ہیں ۔
خود کو مطمن کرتی وہ ان کے ساتھ چل پڑی
جاری ہے