اگر آپ نے یہ سوچ لیا ہے کہ مہنگی بجلی سے جان چھڑا …
اگر آپ نے یہ سوچ لیا ہے کہ مہنگی بجلی سے جان چھڑا کر اپنے گھر کی چھت پر سولر سسٹم لگا لیں، تو ذرا ٹھہریے… پہلے اجازت لیجیے۔ کیونکہ اس ملک میں خود مختاری اچھی چیز ہے، مگر حد سے زیادہ خود مختاری خطرناک سمجھی جاتی ہے۔
عجیب حکمران ہیں۔
بجلی نہیں دے سکتے… مگر بجلی بنانے کی اجازت بھی آسانی سے نہیں دیتے۔
مجھے تو ڈر ہے کل کو یہ نہ کہا جائے:
“آپ کے پینلز پر جو سورج کی روشنی پڑ رہی ہے، اس کا سورس کیا ہے؟ کیا آپ کے پاس سورج کے ساتھ کوئی معاہدہ موجود ہے؟”
ہم نے ایک ایسا نظام بنا لیا ہے جہاں مسئلہ حل کرنے والا خود مسئلہ بن جاتا ہے۔
لوگ لوڈشیڈنگ سے تنگ آ کر سولر لگاتے ہیں…
اور ہم کہتے ہیں: “نہیں جناب، پہلے اجازت لیں تاکہ ہم تسلی کر لیں کہ آپ واقعی روشنی کے مستحق ہیں۔”
اصل بات یہ ہے کہ ہمیں اندھیرے سے اتنا مسئلہ نہیں جتنا روشنی کی آزادی سے ہے۔
کیونکہ روشنی اگر آزاد ہو گئی…
تو لوگ سوال پوچھنا شروع کر دیں گے۔
اور سوال…
ہمیشہ فائلوں سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں۔
یاد رکھیں—
یہ صرف سولر سسٹم کی اجازت کا مسئلہ نہیں،
یہ اُس ذہنیت کا مسئلہ ہے جو ہر روشن راستے کے آگے ایک دروازہ رکھ دیتی ہے…
اور اُس دروازے پر لکھ دیتی ہے:
“اجازت کے بغیر داخلہ منع ہے۔” 🖤
