امی، آپ واقعی خوش ہیں یا ہمیں فکر نہ ہو، اس لیے ا…
💥 امی، آپ واقعی خوش ہیں یا ہمیں فکر نہ ہو، اس لیے ایسا کہتی ہیں؟” 💔🥺
میرے گھر کا دروازہ پورے محلے میں سب سے الگ پہچانا جاتا ہے۔
نیلا۔
ہر عید سے پہلے میں اس پر تازہ رنگ ضرور کرواتی ہوں۔ سامنے دو کیاریاں ہیں، جن میں گلاب اور موتیا ایک دوسرے سے بےخبر کھلتے رہتے ہیں۔ صبح فجر کے بعد میں لوٹے سے پانی دیتی ہوں تو مٹی سے اٹھتی خوشبو چند لمحوں کے لیے یوں لگتی ہے جیسے وقت نے اپنی رفتار آہستہ کر دی ہو۔
گلی سے گزرتی عورتیں سلام کرتیں، پھر ایک آدھ لمحہ رک جاتیں۔
"خالہ… ایک بات پوچھیں؟”
میں جانتی تھی، سوال کیا ہوگا۔
"آپ اکیلی نہیں گھبراتیں؟”
میں ہنس دیتی۔
"اللہ کا نام ہے بیٹی۔”
وہ مطمئن نہیں ہوتیں، مگر آگے بڑھ جاتیں۔
انہیں کیا معلوم، بعض گھر تنہائی سے نہیں، آوازوں کی یاد سے آباد رہتے ہیں۔
کبھی یہی گھر سانس لیتا تھا۔
فجر کی اذان سے پہلے میں آٹا گوندھتی، تو بڑے بیٹے کا بستہ ڈھونڈنے کی آواز آتی۔ چھوٹا جرابیں پہننے سے انکاری ہوتا۔ ان کے ابا اخبار ہاتھ میں لیے کہتے، "چائے میں چینی کم ہے، مگر چلنے دو، دیر ہو رہی ہے۔”
میں ایک ہاتھ سے پراٹھا اتارتی، دوسرے سے دودھ کا گلاس پکڑاتی، تیسرے ہاتھ کی کمی ہر روز محسوس کرتی۔
عورتوں کے نصیب میں شاید وہی تیسرا ہاتھ نہیں لکھا جاتا۔
پھر برسوں یوں ہی گزر گئے۔
بچوں کی فیسیں۔
راشن۔
مہمان۔
رشتے داروں کی ناراضگیاں۔
شوہر کی شوگر۔
ساس کی دوائیاں۔
ہر کسی کی ضرورت کا وقت مقرر تھا۔
صرف میری خواہشوں کی کوئی گھڑی نہیں تھی۔
ایک بار انارکلی سے گزرتے ہوئے ایک کتاب خریدی تھی۔
پہلے صفحے پر اپنا نام لکھا، پھر کسی نے آواز دی، "امی، جلدی کریں نا!”
کتاب الماری میں چلی گئی۔
میں زندگی بھر اس کتاب سے نظریں چراتی رہی۔
پھر ایک دن ان کے ابا کی چارپائی صحن سے اٹھ گئی۔
جنازے کے بعد گھر میں اتنے لوگ تھے کہ بیٹھنے کی جگہ کم پڑ گئی۔
چالیسویں کے بعد اتنی خاموشی تھی کہ گھڑی کی سوئیاں بھی اجنبی لگنے لگیں۔
بچے اپنے اپنے شہروں کو لوٹ گئے۔
انہوں نے جاتے ہوئے بہت سمجھایا۔
"امی، ہمارے ساتھ چلیں۔”
میں نے ہر بار یہی کہا۔
"ابھی یہ گھر بند نہیں کر سکتی۔”
اصل بات میں نے کسی سے نہیں کہی۔
میں اس گھر کو نہیں، خود کو چھوڑنے سے ڈرتی تھی۔
پہلے پہل شامیں سب سے بھاری ہوتیں۔
میں بےوجہ ایک کپ زیادہ چائے بنا دیتی۔
پھر دیر تک دیکھتی رہتی کہ بھاپ کتنی جلدی ختم ہو جاتی ہے۔
ایک شام، الماری صاف کرتے ہوئے وہی پرانی کتاب ہاتھ لگ گئی۔
گرد جھاڑی تو پہلے صفحے پر اپنی جوانی والی لکھائی نظر آئی۔
لفظ وہی تھے۔
میں بدل چکی تھی۔
اس دن پہلی بار میں نے کتاب کھولی۔
اور عجیب بات یہ ہوئی کہ کہانی کتاب میں نہیں، میرے اندر شروع ہوئی۔
پھر میری صبحیں بدلنے لگیں۔
میں نے صحن کی خالی کیاری میں گلاب لگا دیے۔
کبھی دال صرف اس لیے پکاتی کہ مجھے پسند تھی، نہ کہ کسی کی فرمائش تھی۔
جمعے کے دن کھیر بناتی، آدھی ہمسائی کی بچی کے ہاتھ بھیج دیتی۔
فجر کے بعد قرآن پڑھتی، پھر اسی پرانی کتاب کے چند صفحے۔
دونوں پڑھنے سے دل الگ الگ طرح سے روشن ہوتا تھا۔
کبھی کبھی ریڈیو پر پرانے گانے لگتے۔
میں باورچی خانے میں آٹا گوندھتے ہوئے بےاختیار مسکرا دیتی۔
پھر خود ہی اردگرد دیکھتی۔
کوئی نہیں ہوتا۔
تب معلوم ہوا کہ بعض خوشیاں گواہ نہیں مانگتیں۔
محلے والوں نے آہستہ آہستہ میرے بارے میں رائے قائم کر لی۔
"بڑی ہمت والی خاتون ہیں۔”
میں ہر بار دل ہی دل میں سوچتی۔
ہمت؟
نہیں۔
یہ تو عادت ہے۔
درد بھی اگر برسوں ساتھ رہے تو گھر کا فرد بن جاتا ہے۔
ایک دوپہر بڑی بہو کا فون آیا۔
"امی، آپ واقعی خوش ہیں یا ہمیں فکر نہ ہو، اس لیے ایسا کہتی ہیں؟”
میں نے جواب دینے میں دیر کی۔
کھڑکی سے نیلے دروازے پر دھوپ کا ایک ٹکڑا پڑا تھا۔
گلاب ہلکی ہوا میں جھوم رہے تھے۔
میں نے کہا،
"بیٹا… خوشی تو مہمان ہوتی ہے۔ مگر سکون… وہ گھر کا فرد بن جائے تو آدمی کا گزارا ہو جاتا ہے۔”
ادھر چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر بہو کی ہلکی سی سسکی سنائی دی، جسے اس نے فوراً کھانسی میں بدل دیا۔
اس رات میں دیر تک جاگتی رہی۔
سمجھ آیا، بچے اب بھی مجھے مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، جیسے کبھی میں انہیں بےفکر دیکھنا چاہتی تھی۔
ماں اور اولاد شاید عمر بھر ایک دوسرے سے سچ چھپاتے رہتے ہیں۔
اب بھی لوگ پوچھتے ہیں۔
"خالہ، اکیلے دل نہیں گھبراتا؟”
میں ہمیشہ دروازہ کھولتے ہوئے مسکرا دیتی ہوں۔
انہیں اندر نہیں بلاتی۔
کیونکہ اس سوال کا جواب الفاظ میں نہیں، اس گھر میں رکھا ہے۔
نیلے دروازے کے اندر ایک میز ہے، جس پر اب بھی ایک ہی کپ رکھا ہوتا ہے۔
مگر اس کپ کے گرد برسوں کی دعائیں، بچوں کی ہنسیاں، ایک آدمی کی ادھوری باتیں، اور ایک عورت کی وہ زندگی بیٹھی ہوتی ہے جو اس نے سب میں بانٹ دی تھی۔
لوگ سمجھتے ہیں میں اکیلی رہتی ہوں۔
میں کبھی ان کی اصلاح نہیں کرتی۔
ہر گھر میں ایک دروازہ ہوتا ہے۔
میرے گھر کا دروازہ نیلا ہے۔
اور اس کے اندر رہنے والی عورت نے بہت دیر سے یہ جانا ہے کہ بعض اوقات انسان کسی گھر میں نہیں رہتا…
وہ آخرکار اپنے ہی اندر آ بسنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
افسانہ: کامیاب تنہائی
©️ انتخاب سخن
#Loneliness #solitude