ڈاکٹر محمد مشتاق احمد
سلطان محمد الفاتح نے آیا صوفیا کو 1453ءمیں فتح کے بعد مسجد بنادیا تھا۔ یہ ان کا شرعی اور قانونی حق تھا۔ 1935ءتک اس کی مسجد کی حیثیت برقرار رہی۔ 1935ءمیں اتاترک نے اسے میوزیم بنادیا جو شرعی اور قانونی دونوں لحاظ سے ایک سنگین غلطی تھی۔ اب 2020ءمیں اس سنگین غلطی کی تصحیح کرکے اسے واپس مسجد بنادیا گیا ہے۔ اس فیصلے کی جتنی تحسین کی جائے، کم ہے۔
ایسے میں دیسی لبرلز کے شور وغل کے سامنے پسپائی کی راہ اختیار کرتے ہوئے بعض مذہبی ذہن کے لوگوں نے بھی عذرخواہی پر مبنی موقف اپنالیا ہے کہ 1453ءمیں گرجا کو مسجد بنانا جائز نہیں تھا، اور اب بھی گرجا کو مسجد بنانا جائز نہیں ہے۔ کوئی ان عذرخواہوں کو بتائے کہ 1453ءمیں سلطان محمد الفاتح اس علاقے کا فاتح اور مالک بن کر داخل ہوا تھا اور اپنی ملکیت پر ہر طرح کے مالکانہ تصرف کا اسے شرعاً اور قانوناً پورا اختیار تھا۔ اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے انھوں نے اسے مسجد بنادیا تھا جو شرعاً اور قانوناً بالکل جائز امر تھا۔
پرائے شگون میں اپنی ناک کٹوانے والوں کو مزید کوئی یہ بتائے کہ 2020ءمیں آیا صوفیا کی حیثیت گرجا کی نہیں، بلکہ میوزیم کی تھی اور اسے 1935ءمیں میوزیم بنانا ہی غلط تھا۔ مسجد کو کیسے میوزیم بنایا جاسکتا تھا؟ چنانچہ اب میوزیم کو، نہ کہ گرجا کو، واپس مسجد بنادیا گیا ہے۔ خلط مبحث سے بچیں۔
جو لوگ بیت المقدس کی مثال دے رہے ہیں، ایک تو وہ صلح اور فتح کے شرعی و قانونی فرق کو نہیں سمجھ رہے اور دوسرے یہ بھی نہیں دیکھ رہے کہ مالک کی مرضی ہے کہ وہ اپنی مملوکہ زمین کو مسجد بنائے یا نہ بنائے۔ اسی طرح جو لوگ غیرمسلموں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے شرعی ضابطے کی بات کررہے ہیں، وہ یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ یہ تحفظ دار الاسلام میں قائم عبادت گاہوں کو حاصل ہوتا ہے، نہ کہ دار الحرب کے مفتوحہ علاقے میں قائم عبادت گاہوں کو۔ اور جو لوگ بیسیویں صدی کے بین الاقوامی قانون کے ضابطے یاد دلارہے ہیں، ان کی تو مت ہی ماری گئی ہے۔ بھلا بیسویں صدی کے قانون کا اطلاق پندرھویں صدی کے فعل پر کیسے ہوسکتا ہے؟ اسی طرح جو لوگ یہ استدلال کررہے ہیں کہ یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا ہے، وہ لال بجھکڑ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ عالمی ورثہ قرار دینے سے اس پر ترکی کی ملکیت ختم نہیں ہوئی۔ کیا آپ کی حکومت وقتاً فوقتاً لاہور کے شاہی قلعے میں محفل موسیقی برپا نہیں کرتی باوجود اس کے کہ یونیسکو نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا ہے؟ تو اگر ترکی نے یہاں اذان و جماعت کا سلسلہ شروع کردیا تو عالمی ورثے کو کیا خطرہ لاحق ہوگا؟ یہ دراصل بیسویں صدی کے عذرخواہوں کا بیانیہ ہے جو اتنا رائج ہوچکا ہے کہ اچھے خاصے مذہبی ذہن رکھنے والے لکھاری بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ باقی جو لوگ کہتے ہیں کہ 1453ءکا فیصلہ بھی سیاسی تھا، 1935ءکا بھی اور اب 2020ءکا بھی، تو ان سے کہیے کہ ایسا ہی سہی لیکن نہ ہر سیاسی فیصلہ غلط ہوتا ہے اور نہ ہر سیاسی فیصلہ صحیح ہوتا ہے۔ 1935ءکا سیاسی فیصلہ غلط تھا، جبکہ 1453 ءاور 2020ءکے سیاسی فیصلے درست ہیں۔ ایک دوست نے اسی ایشو سے متعلق یہ تین سوال کیے ہیں۔
1۔ 1928ءسے پہلے کوئی حکمران کسی دوسرے ملک پر حملہ کرنے کےلئے کیا کسی اخلاقی جواز کا پابند نہیں تھا؟
2۔ اور اگر وہ طاقت سے کسی ملک پر اگر قبضہ مکمل کر لیتا تو کیا اس ملک کے باشندوں کی جان پر بھی اسے ویسا ہی اختیار حاصل ہو جاتا جیسا مال پر؟
3۔ کسی علاقے سے وہاں کے عام باشندوں مثلاً کسانوں، دور دراز معاملاتِ سلطنت سے الگ تھلگ رہنے والوں کو بلامعاوضہ،بلا متبادل گھروں ،کھیتوں سے نکال دینا اور اپنے پسندیدہ بندوں کو وہ علاقہ نواز دینا کیا اخلاقی طور پر ٹھیک ہے؟
میرے نزدیک اس کے جو صحیح جوابات ہیں وہ درج ذیل ہیں:
1۔ اخلاقی جواز سے مراد اگر شرعی جواز ہے، تو یقینا درکار تھا اور 1453 ءمیں حملے اور فتح کےلئے یقینا شرعی جواز موجود تھا۔
2 اور 3۔ جی ہاں۔ بالکل‘ فاتح کو جان و مال دونوں پر اختیار حاصل ہوتا اور وہ مسلمانوں کے مصالح کو مد نظر رکھتے ہوئے کسی کی جان بخشی بھی کرسکتا تھا، کسی کو غلام بھی بنا سکتا تھا، کسی کو سزاے موت بھی دے سکتا تھا، کسی کو جلاوطن بھی کرسکتا تھا، کسی کو قید بھی کرسکتا تھا، کسی کو آزاد قرار دے کر اسی علاقے میں سکونت کا حق بھی دے سکتا تھا۔ یہی کچھ مال و جائیداد کے بارے میں بھی اس کے اختیارات میں شامل تھا۔
بیسویں صدی کے عذرخواہوں کے بیانیے کی رو سے ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ غلط تھا اور اکیسویں صدی کے مغلوبین کےلئے تو یہ ناقابل ہضم ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔
ایک سوال یہ کیا گیا ہے کہ کیا آیا صوفیا کو مسجد بنا کر ہم نے مسجد قرطبہ اور مسجد اقصیٰ پر اپنا کیس کمزور نہیں کردیا؟
جواب یہ ہے کہ مسجد قرطبہ پر قبضہ پندرھویں صدی عیسوی میں ہوا تھا اور اس وقت کے رائج بین الاقوامی قانون کی رو سے اس پر مسیحیوں کا قبضہ مکمل تھا۔ اب جو لوگ مسجد قرطبہ کا ماتم کررہے ہیں، وہ مسلمانوں کی شکست کا نوحہ پڑھتے ہیں اور جو اس کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں ، وہ اس کے ساتھ جذباتی وابستگی کی بنا پر کررہے ہیں ۔ اس کا قانون سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔
البتہ جہاں تک مسجد اقصیٰ کا تعلق ہے تو اس پر قبضہ 1967ءمیں ہوا جب بین الاقوامی قانون کی رو سے یہ اصول مانا جاچکا تھا کہ قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے پر ملکیت حاصل نہیں ہوتی ۔ چنانچہ 53 سال گزرنے کے بعد آج بھی اسرائیل کو قابض طاقت کی حیثیت حاصل ہے اور اس کا اعلان بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے 2003 ءمیں ایک مشہور مقدمے میں بھی کیا ہے جس میں مقبوضہ فلسطینی علاقے میں دیوار کی تعمیر کے جواز پر سوال اٹھایا گیا تھا۔
اس لیے خلطِ مبحث نہ کریں۔ ہر معاملے کو اس کے اپنے میرٹ پر دیکھیں۔
بابری مسجد کا معاملہ بھی ان اصولوں پر واضح ہے۔ بابر نے یہ علاقہ فتح کرلیا تھا۔ یہ غیرمتعلق بات ہے کہ وہاں رام مندر تھا یا نہیں؟ اس نے مسجد بنادی جس کا اسے حق تھا اور یہ مسجد چار سو سال تک مسجد کے طور پر قائم رہی۔ اب اس کی حیثیت کی تبدیلی کا فیصلہ اوپر ذکر کیے گئے بین الاقوامی قانون کی رو سے ہی غلط ہے۔
ایک اور اعتراض یہ ہورہا ہے کہ چرچ مسجد میں تبدیل ہوگیا ہے، یعنی کیا اعتراض یہ ہے کہ چرچ کبھی مسجد میں تبدیل نہیں ہوسکتا، تو جوابی سوال یہ ہے کہ کیا مسجد میوزیم میں تبدیل ہوسکتی ہے؟ ویسے اگر چرچ مسجد میں تبدیل نہیں ہوسکتا تو کیا آپ جانتے ہیں کہ یورپ و امریکا میں کتنے ہی چرچز مسلمانوں نے خرید کر مسجدوں میں تبدیل کیے ہیں؟ تو کیا اعتراض چرچ کی مسجد میں تبدیلی پر ہے یا اس پر ہے کہ پیسے دیے بغیر ہی مسجد میں تبدیل کرلیا؟ اگر اعتراض یہ دوسرا ہے تو آپ واقعی خدائی خوار سرمایہ دار ہیں جسے مذہب سے کچھ لینا دینا نہیں، بس اپنے پیسے کھرے کرنے کی فکر ہے۔
تو اگر یہ آپ کی پوزیشن ہے تو یاد رکھیے کہ ہم نے 1453ءمیں آپ سے صرف آیا صوفیا نہیں بلکہ پورا قسطنطینیہ لے لیا تھا اور وہ بھی بزورِ بازو، کوئی قیمت ادا کیے بغیر!تو کیا اب پورا قسطنطینیہ ہی واپس نہ کردیں تاکہ آپ کے گھاٹے کی کچھ تو تلافی ہو؟ اور آخر میں اقبال کے یہ اشعار آج کے دیسی لبرلز اور مذہبی عذرخواہوں کو پھر موقع فراہم کررہے ہیں کہ وہ ان پر تبرا کریں۔
تھے ہمِیں ایک ترے معرکہ آراﺅں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاﺅں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساﺅں میں
کبھی افریقا کے تپتے ہوئے صحراﺅں میں
( بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد میں شریعہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ہیں)
٭….٭….٭
آیا صوفیا سے متعلق فیصلہ۔ چند حقائق