آٹھ سال شادی میں گزارنے کے بعد بھی وہ ہر خوبصورت …
“کاش… میری بیوی یہ ہوتی، عائشہ نہیں…” 🥀
اُس رات شادی سے واپس آتے ہوئے لاہور کی سڑکیں بارش سے بھیگی ہوئی تھیں۔ گاڑی کی کھڑکیوں پر پانی کی بوندیں پھسل رہی تھیں اور اندر عجیب خاموشی تھی۔
عائشہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی تھی۔ اُس نے جاتے ہوئے عمر کے لیے شادی ہال سے اُس کا پسندیدہ chocolate fudge پیک کروا لیا تھا۔
وہ ہمیشہ ایسی چھوٹی باتیں یاد رکھتی تھی۔
آٹھ سال سے۔
مگر عمر پوری واپسی ایک ہی چہرہ سوچتا رہا۔
وہ عورت…
جو آج شادی میں سرخ لباس پہن کر داخل ہوئی تھی اور چند لمحوں کے لیے پورا ہال جیسے اُس کی طرف مڑ گیا تھا۔
حتیٰ کہ عمر بھی۔
وہ پوری شام چوری چوری اُسے دیکھتا رہا تھا۔
اور ہر بار جب اُس کی نظر اپنی بیوی عائشہ پر پڑتی، دل کے کسی اندھیرے کونے سے ایک زہریلی سی آواز اُٹھتی:
“یار… شاید میں اس سے بہتر deserve کرتا ہوں۔”
یہ خیال نیا نہیں تھا۔
بس آج پہلی بار اُس نے اسے پوری طرح مان لیا تھا۔
عائشہ بری تھی؟
ہرگز نہیں۔
وہ وفادار تھی۔
نرم مزاج تھی۔
گھر جیسی تھی۔
مگر عمر کے اندر کہیں ایک بھوکا مرد بیٹھا تھا.
جو سکون نہیں، نمائش چاہتا تھا۔
وہ اکثر Instagram پر models اور influencers دیکھتا، پھر عائشہ کی تصویر کھولتا اور عجیب سا خالی پن محسوس کرتا۔
پھر خود ہی guilt میں ڈوب جاتا۔
کیونکہ سچ یہ تھا…
جب اُس کے پاس کچھ نہیں تھا، تب عائشہ اُس کے ساتھ تھی۔
جب عمر بےروزگار تھا۔
جب اُس کے ابو بیمار تھے۔
جب وہ خود depression میں ڈوبا ہوا تھا۔
تب یہی عورت اُس کے ساتھ دیوار بن کر کھڑی رہی تھی۔
مگر انسان عجیب مخلوق ہے۔
جس عورت کے ساتھ اُسے سکون ملتا ہے، اکثر اُسی میں excitement ڈھونڈنے لگتا ہے۔
گھر پہنچ کر عائشہ نے آہستہ سے پوچھا:
“اتنے خاموش کیوں ہو؟”
عمر نے جوتے اتارتے ہوئے نظریں چرا لیں۔
“بس… تھکا ہوا ہوں۔”
عائشہ نے کچھ نہیں کہا۔
صرف اُس کے قریب بیٹھ کر اُس کا سر دبانے لگی۔
اور عمر کے اندر عجیب جنگ شروع ہو گئی۔
یہ عورت…
جو اُس کی خاموشی تک سمجھ لیتی ہے…
وہ اُسے مکمل کیوں نہیں لگتی؟
کیا محبت واقعی کافی نہیں ہوتی؟
یا مرد ہمیشہ اُس چیز کے پیچھے بھاگتا ہے جو اُس کے پاس نہیں ہوتی؟
کچھ دن بعد عمر اپنے پرانے دوست حسان کے ساتھ ایک café میں بیٹھا تھا۔
باتوں باتوں میں اُس نے پہلی بار دل کی بات زبان پر لائی۔
“یار… کبھی کبھی لگتا ہے شاید میں غلط شادی کر بیٹھا ہوں۔”
حسان نے کافی کا کپ آہستہ سے میز پر رکھا۔
“عائشہ کے بارے میں؟”
عمر خاموش رہا، پھر دھیرے سے بولا:
“وہ اچھی ہے… بہت اچھی۔ مگر attraction نہیں feel ہوتا ہمیشہ۔ کبھی کبھی لگتا ہے میں زیادہ خوبصورت بیوی deserve کرتا ہوں۔”
حسان کافی دیر تک اُسے دیکھتا رہا۔
پھر بہت آہستہ سے بولا:
“تو بیوی ڈھونڈ رہا تھا… یا trophy؟”
یہ جملہ سیدھا جا کر عمر کے سینے میں لگا۔
حسان نے نظریں اُس پر جمائے رکھیں۔
“اور ایک بات بتاؤں؟ اگر آج تجھے دنیا کی سب سے خوبصورت عورت بھی مل جائے نا… کچھ عرصے بعد تُو اُس میں بھی flaws ڈھونڈنا شروع کر دے گا۔”
عمر نے بےچینی سے پانی پیا۔
“مسئلہ عائشہ نہیں ہے۔ مسئلہ تیرے اندر وہ بھوک ہے… جو شکر کرنا بھول گئی ہے۔”
عمر نے موضوع بدلنے کی کوشش کی، مگر حسان رکا نہیں۔
“جس عورت نے تیرے برے وقت دیکھے ہوں… اُس جیسا حسن دنیا کے کسی beauty filter میں نہیں ملتا بھائی۔”
واپسی پر پہلی بار عمر نے خود کو غور سے دیکھا۔
پیٹ نکل آیا تھا۔
بال کم ہو گئے تھے۔
غصہ بڑھ گیا تھا۔
مگر خواہشات؟
وہ اب بھی بیس سالہ لڑکے والی تھیں۔
وہ عائشہ کو perfect چاہتا تھا…
جبکہ خود average سے بھی نیچے جا چکا تھا۔
اُسی رات وہ گھر آیا تو دیکھا عائشہ سوفے پر سوئی ہوئی تھی۔
گود میں laptop کھلا ہوا تھا۔
Screen پر ایک Excel sheet بنی ہوئی تھی۔
Monthly budget۔
Bills۔
Savings۔
اور ایک چھوٹی سی line آخر میں لکھی تھی:
“عمر کو stress نہ ہو… اگلے مہینے اپنے خرچے کم کر لوں گی۔”
اُس لمحے پہلی بار عمر کو اپنی سوچوں سے شرم آئی۔
وہ عورت…
جو آٹھ سال بعد بھی اُس کے سکون کے لیے حساب لگا رہی تھی…
اور وہ؟
وہ اُسے دوسری عورتوں سے compare کر رہا تھا۔
عمر آہستہ سے اُس کے پاس بیٹھ گیا۔
عائشہ ہلکی نیند سے جاگی۔
“آ گئے؟ کھانا گرم کر دوں؟”
یہ عورت عجیب تھی۔ ہر بےرخی کے جواب میں بھی محبت دیتی تھی۔
عمر کی آنکھیں بھر آئیں۔
اُس نے پہلی بار دل میں ایک سچ مانا:
کبھی کبھی انسان better partner نہیں ڈھونڈ رہا ہوتا…
وہ بس اپنی خواہشات کو خوبصورت الفاظ میں justify کر رہا ہوتا ہے۔
اور بعض مرد پوری زندگی یہ سمجھ ہی نہیں پاتے…
کہ جس عورت کو وہ “ordinary” سمجھتے رہے…
اصل میں وہی اُن کی زندگی کی سب سے غیر معمولی نعمت تھی۔ 🥀
©️ انتخاب سخن
#husbandandwifelife #wifereacts #storytelling #urduadab
