منتخب غزلیں
حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو چلو تو سارے زمانے…

حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
——
مخدوم محی الدین کا یومِ وفات
(پیدائش: 4 فروری، 1908ء- وفات: 25 اگست، 1969ء)
——
منتخب کلام
——
کیسے ہیں خانقاہ میں ارباب خانقاہ
کس حال میں ہے پیر مغاں دیکھتے چلیں
——
کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
——
تمہارے جسم کا سورج جہاں جہاں ٹوٹا
وہیں وہیں مری زنجیر جاں بھی ٹوٹی ہے
——
ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا
ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا
——
ہجوم بادہ و گل میں ہجوم یاراں میں
کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لیے
——
ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز
کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم
——
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
——
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
——
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر
یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
——
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے
ہجر میں ملنے شب ماہ کے غم آئے ہیں
چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے
کوئی جلتا ہی نہیں کوئی پگھلتا ہی نہیں
موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے
چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو
پیار کے نامہ کو دہراؤ کہ کچھ رات کٹے
آج ہو جانے دو ہر ایک کو بد مست و خراب
آج ایک ایک کو پلواؤ کہ کچھ رات کٹے
کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
——
اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے
ایک آنسو جو سر چشم وفا ہوتا ہے
اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق
جز ترے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے
دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سر شام
صبح دم ماتم ارباب وفا ہوتا ہے
دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے
جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار
پھول کھلتے ہیں در مے کدہ وا ہوتا ہے
——
تم گلستاں سے گئے ہو تو گلستاں چپ ہے
شاخ گل کھوئی ہوئی مرغ خوش الحاں چپ ہے
افق دل پہ دکھائی نہیں دیتی ہے دھنک
غمزدہ موسم گل ابر بہاراں چپ ہے
عالم تشنگیٔ بادہ گساراں مت پوچھ
مے کدہ دور ہے مینائے زر افشاں چپ ہے
اور آگے نہ بڑھا قصۂ دل قصۂ غم
دھڑکنیں چپ ہیں سرشک سر مژگاں چپ ہے
شہر میں ایک قیامت تھی قیامت نہ رہی
حشر خاموش ہوا فتنۂ دوراں چپ ہے
نہ کسی آہ کی آواز نہ زنجیر کا شور
آج کیا ہو گیا زنداں میں کہ زنداں چپ ہے
——
نظم : آج کی رات نہ جا
رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے
دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے
مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا
رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا
آج کی رات نہ جا
زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے
ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے
زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے
زہر بھی آب حیات لب و رخسار بھی ہے
زندگی خار بھی ہے زندگی دار بھی ہے
آج کی رات نہ جا
آج کی رات بہت راتوں کے بعد آئی ہے
کتنی فرخندہ ہے شب کتنی مبارک ہے سحر
وقف ہے میرے لیے تیری محبت کی نظر
آج کی رات نہ جا
…………………..
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
——
مخدوم محی الدین کا یومِ وفات
(پیدائش: 4 فروری، 1908ء- وفات: 25 اگست، 1969ء)
——
منتخب کلام
——
کیسے ہیں خانقاہ میں ارباب خانقاہ
کس حال میں ہے پیر مغاں دیکھتے چلیں
——
کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
——
تمہارے جسم کا سورج جہاں جہاں ٹوٹا
وہیں وہیں مری زنجیر جاں بھی ٹوٹی ہے
——
ایک تھا شخص زمانہ تھا کہ دیوانہ بنا
ایک افسانہ تھا افسانے سے افسانہ بنا
——
ہجوم بادہ و گل میں ہجوم یاراں میں
کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لیے
——
ہم نے ہنس ہنس کے تری بزم میں اے پیکر ناز
کتنی آہوں کو چھپایا ہے تجھے کیا معلوم
——
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
——
حیات لے کے چلو کائنات لے کے چلو
چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو
——
آپ کی یاد آتی رہی رات بھر
چشم نم مسکراتی رہی رات بھر
رات بھر درد کی شمع جلتی رہی
غم کی لو تھرتھراتی رہی رات بھر
بانسری کی سریلی سہانی صدا
یاد بن بن کے آتی رہی رات بھر
یاد کے چاند دل میں اترتے رہے
چاندنی جگمگاتی رہی رات بھر
کوئی دیوانہ گلیوں میں پھرتا رہا
کوئی آواز آتی رہی رات بھر
——
عشق کے شعلے کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے
دل کے انگارے کو دہکاؤ کہ کچھ رات کٹے
ہجر میں ملنے شب ماہ کے غم آئے ہیں
چارہ سازوں کو بھی بلواؤ کہ کچھ رات کٹے
کوئی جلتا ہی نہیں کوئی پگھلتا ہی نہیں
موم بن جاؤ پگھل جاؤ کہ کچھ رات کٹے
چشم و رخسار کے اذکار کو جاری رکھو
پیار کے نامہ کو دہراؤ کہ کچھ رات کٹے
آج ہو جانے دو ہر ایک کو بد مست و خراب
آج ایک ایک کو پلواؤ کہ کچھ رات کٹے
کوہ غم اور گراں اور گراں اور گراں
غم زدو تیشے کو چمکاؤ کہ کچھ رات کٹے
——
اب کہاں جا کے یہ سمجھائیں کہ کیا ہوتا ہے
ایک آنسو جو سر چشم وفا ہوتا ہے
اس گزر گاہ میں اس دشت میں اے جذبۂ عشق
جز ترے کون یہاں آبلہ پا ہوتا ہے
دل کی محراب میں اک شمع جلی تھی سر شام
صبح دم ماتم ارباب وفا ہوتا ہے
دیپ جلتے ہیں دلوں میں کہ چتا جلتی ہے
اب کی دیوالی میں دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے
جب برستی ہے تری یاد کی رنگین پھوار
پھول کھلتے ہیں در مے کدہ وا ہوتا ہے
——
تم گلستاں سے گئے ہو تو گلستاں چپ ہے
شاخ گل کھوئی ہوئی مرغ خوش الحاں چپ ہے
افق دل پہ دکھائی نہیں دیتی ہے دھنک
غمزدہ موسم گل ابر بہاراں چپ ہے
عالم تشنگیٔ بادہ گساراں مت پوچھ
مے کدہ دور ہے مینائے زر افشاں چپ ہے
اور آگے نہ بڑھا قصۂ دل قصۂ غم
دھڑکنیں چپ ہیں سرشک سر مژگاں چپ ہے
شہر میں ایک قیامت تھی قیامت نہ رہی
حشر خاموش ہوا فتنۂ دوراں چپ ہے
نہ کسی آہ کی آواز نہ زنجیر کا شور
آج کیا ہو گیا زنداں میں کہ زنداں چپ ہے
——
نظم : آج کی رات نہ جا
رات آئی ہے بہت راتوں کے بعد آئی ہے
دیر سے دور سے آئی ہے مگر آئی ہے
مرمریں صبح کے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آئے گا
رات ٹوٹے گی اجالوں کا پیام آئے گا
آج کی رات نہ جا
زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے
ساز و آہنگ بھی زنجیر کی جھنکار بھی ہے
زندگی دید بھی ہے حسرت دیدار بھی ہے
زہر بھی آب حیات لب و رخسار بھی ہے
زندگی خار بھی ہے زندگی دار بھی ہے
آج کی رات نہ جا
آج کی رات بہت راتوں کے بعد آئی ہے
کتنی فرخندہ ہے شب کتنی مبارک ہے سحر
وقف ہے میرے لیے تیری محبت کی نظر
آج کی رات نہ جا
…………………..


