منتخب غزلیں
خوشبو ہے کہ اب تک نہیں جاتی مرے گھر سے اِک رات مرے…

خوشبو ہے کہ اب تک نہیں جاتی مرے گھر سے
اِک رات مرے گھر کوئی مہمان رہا ہے
——
ظفر نیازی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 25 اگست 1946ء – وفات: 25 نومبر 2017ء)
——
منتخب کلام
——
وفا کی آس اسی یارِ بے وفا سے ہے
بدن ہے راکھ مگر دوستی ہوا سے ہے
——
میں لوٹا تو مرے آگے وہی منظر پرانا تھا
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا
وہی مایوسیاں بستی میں اب تک راج کرتی تھیں
انہیں سانپوں کا ہر چوپال پر حجرہ ٹھکانا تھا
——
زندگی کٹ گئی جہنم میں
کیا یقیں اب نجات میں رکھنا
——
اسے خبر نہیں میں کس خزاں کی زد میں ہوں
وہ میرے ہاتھوں میں کچھ پھول دیکھتا ہے ابھی
——
سنہری دھوپ کھلے آنگنوں کے خواب نہ بھیج
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
——
کٹ سکا شو کیس کا شیشہ نہ شیشے سے کبھی
باپ کو بچے کا دل آخر مسلنا ہی پڑا
——
خدا کرے کہ مرا عجزِ فن رہے قائم
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
——
موسمِ گل کی خبر پہنچی نہ ویرانوں تک
صحنِ گلشن میں ہی نغماتِ عنادل ڈوبے
——
جانے کب تک ہم تم ساتھ نبھا سکتے ہیں
چلیے لیکن ساتھ جہاں تک جا سکتے ہیں
——
کوئی اُس جیسا نہیں ہے ان دنوں
وہ خود بھی ویسا نہیں ہے ان دنوں
ہر ستم چپ چاپ سہہ لیتے ہیں لوگ
جیسے کو تیسا نہیں ہے ان دنوں
——
تیرے جانے کی صورت دیکھتا ہوں
ابھی سے اپنی حالت دیکھتا ہوں
میں تجھ سے بے وفا کو بھول جاؤں
مگر اپنی ضرورت دیکھتا ہوں
——
کون کہتا ہے کہ وہ مجھ سے بچھڑ کر خوش ہے
سامنے اُس کے میرا نام تو لے کر دیکھو
——
بچھڑتے وقت کل شب دل مرا کچھ اتنا بوجھل تھا
حریمِ ناز کی دیوار بھی چھو کر نہیں گزرا
——
یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے
کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے
مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں
یارو درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے
اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو
اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے
اس بار بہاروں میں کمی تو نہ تھی لیکن
گلشن کے مہک اٹھنے کا ارمان وہی ہے
اے بلبلِ شوریدہ ، بہاروں پہ نہ خوش ہو
تو سمجھی جسے فائدہ ، نقصان وہی ہے
——
تشکیک کی چھلنی میں مجھے چھان رہا ہے
اک شخص بڑی دیر سے پہچان رہا ہے
کیا جانیے کس شے نے اسے کر دیا محتاط
دل عقل پہ اس بار نگہبان رہا ہے
کیا جانیے ، ہے عشق میں کون سی منزل
اس بار بچھڑنا بہت آسان رہا ہے
خوشبو ہے کہ اب تک نہیں جاتی مرے گھر سے
اِک رات مرے گھر کوئی مہمان رہا ہے
——
ظفر خان نیازی کی ایک نظم جو ان بہادر خواتین کے نام ہے، جن کے جسم تو تیزاب سے جل گئے لیکن حوصلے کو تیزاب نہ جلا سکا –
——
دیکھتی ہے آئینہ کس دیدۂ پر آب سے
وہ جو اک حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
جل گئی ہے وہ کلی جس کو مہکنا تھا ابھی
چابد وہ گہنا گیا جس کو دمکنا تھا ابھی
سل گئے وہ غنچہ لب جن کو چٹکنا تھا ابھی
بے نوا بلبل ہوئی جس کو چہکنا تھا ابھی
مست آنکھیں مند گئیں جن کو بہکنا تھا ابھی
چوڑیاں کرچی ہوئیں جن کو چھنکنا تھا ابھی
کان سے جھمکے گرے جن کو کھنکنا تھا ابھی
آرزوئے وصل کو دل میں دھڑکنا تھا ابھی
رنگ مدھم پڑگئے جن کو بھڑکنا تھا ابھی
مانگ میں جس کی ستاروں کو چمکنا تھا ابھی
ہاں وہی حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
دن میں بھی اب دیکھتی ہے ھو بھیانک خواب سے
کون سمجھے گا کہ کیا ہے اس کے دل اضطراب
کعن بانٹے گا جہاں میں اس کے جیون کا عذاب
کون لے گا ظالموں سے اس کے اشکوں کا حساب
اس روایت کو کوئی تو آج کر دے بے نقاب
کیوں ازل سے بنت حوا ہی رہی زیر عتاب
یہ نہ کہہ دینا کہ ہے عورت کی قسمت ہی خراب
اس کے آنگن میں بھی کھل سکتے ہیں خوشیوں کے گلاب
درس دیتی ہے یہی انسانیت کا الکتاب
جس مبارک ہاتھ سے ہونا ہے یہ کار ثواب
وہ جہاں میں سرخرو ہے آخرت میں کامیاب
یہ صدائیں گونجتی ہیں منبر و محراب سے
ہم سبھی مل کر نکالیں گے اسے گرداب سے
وہ جو اک حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
دیکھتی ہے آئینہ کس دیدہ پر آب سے
——
مثالِ ریگ مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں
ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں
بہت آساں بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے
سو پتھر کی طرح پگ پگ اچھلتا جا رہا ہوں
کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاو کی کشش میں
تھکن سے چور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں
ہنر اس کھوکھلی دنیا میں جینے کا یہی ہے
برنگ آب ہر سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہوں
کبھی محفل سے اٹھ آتا تھا اک ترچھی نظر پر
اور اب نفرت کی ہر پڑیا نگلتا جا رہا ہوں
ادا کرنے لگا ہوں روشنی کرنے کی قیمت
برابر جل رہا ہوں اور پگھلتا جا رہا ہوں
پرانے ذائقوں میں فرق سا کچھ آ گیا ہے
میں اپنا ذوق بھی کچھ کچھ بدلتا جا رہا ہوں
میں کس معیار سے اپنا مآل کار پرکھوں
بگڑ کر رہ گیا ہوں یا سنبھلتا جا رہا ہوں
ظفر بار ثمر سے جھک گیا ہوں میں زمین پر
جہاں والے سمجھتے ہیں سپھلتا جا رہا ہوں
……………………..
اِک رات مرے گھر کوئی مہمان رہا ہے
——
ظفر نیازی کا یوم پیدائش
(پیدائش: 25 اگست 1946ء – وفات: 25 نومبر 2017ء)
——
منتخب کلام
——
وفا کی آس اسی یارِ بے وفا سے ہے
بدن ہے راکھ مگر دوستی ہوا سے ہے
——
میں لوٹا تو مرے آگے وہی منظر پرانا تھا
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا
وہی مایوسیاں بستی میں اب تک راج کرتی تھیں
انہیں سانپوں کا ہر چوپال پر حجرہ ٹھکانا تھا
——
زندگی کٹ گئی جہنم میں
کیا یقیں اب نجات میں رکھنا
——
اسے خبر نہیں میں کس خزاں کی زد میں ہوں
وہ میرے ہاتھوں میں کچھ پھول دیکھتا ہے ابھی
——
سنہری دھوپ کھلے آنگنوں کے خواب نہ بھیج
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
——
کٹ سکا شو کیس کا شیشہ نہ شیشے سے کبھی
باپ کو بچے کا دل آخر مسلنا ہی پڑا
——
خدا کرے کہ مرا عجزِ فن رہے قائم
کھلے نہ حال مرے آنسوؤں کے بہنے کا
——
موسمِ گل کی خبر پہنچی نہ ویرانوں تک
صحنِ گلشن میں ہی نغماتِ عنادل ڈوبے
——
جانے کب تک ہم تم ساتھ نبھا سکتے ہیں
چلیے لیکن ساتھ جہاں تک جا سکتے ہیں
——
کوئی اُس جیسا نہیں ہے ان دنوں
وہ خود بھی ویسا نہیں ہے ان دنوں
ہر ستم چپ چاپ سہہ لیتے ہیں لوگ
جیسے کو تیسا نہیں ہے ان دنوں
——
تیرے جانے کی صورت دیکھتا ہوں
ابھی سے اپنی حالت دیکھتا ہوں
میں تجھ سے بے وفا کو بھول جاؤں
مگر اپنی ضرورت دیکھتا ہوں
——
کون کہتا ہے کہ وہ مجھ سے بچھڑ کر خوش ہے
سامنے اُس کے میرا نام تو لے کر دیکھو
——
بچھڑتے وقت کل شب دل مرا کچھ اتنا بوجھل تھا
حریمِ ناز کی دیوار بھی چھو کر نہیں گزرا
——
یوں لگتا ہے اٹھتا ہوا طوفان وہی ہے
کشتی کو سنبھالو کہ پھر امکان وہی ہے
مائل وہ ہوئے بھی ہیں تو کس طرح میں جانوں
یارو درِ دولت پہ تو دربان وہی ہے
اس دور کے انساں پہ نئی رائے نہ تھوپو
اچھا یا برا جیسا ہے انسان وہی ہے
اس بار بہاروں میں کمی تو نہ تھی لیکن
گلشن کے مہک اٹھنے کا ارمان وہی ہے
اے بلبلِ شوریدہ ، بہاروں پہ نہ خوش ہو
تو سمجھی جسے فائدہ ، نقصان وہی ہے
——
تشکیک کی چھلنی میں مجھے چھان رہا ہے
اک شخص بڑی دیر سے پہچان رہا ہے
کیا جانیے کس شے نے اسے کر دیا محتاط
دل عقل پہ اس بار نگہبان رہا ہے
کیا جانیے ، ہے عشق میں کون سی منزل
اس بار بچھڑنا بہت آسان رہا ہے
خوشبو ہے کہ اب تک نہیں جاتی مرے گھر سے
اِک رات مرے گھر کوئی مہمان رہا ہے
——
ظفر خان نیازی کی ایک نظم جو ان بہادر خواتین کے نام ہے، جن کے جسم تو تیزاب سے جل گئے لیکن حوصلے کو تیزاب نہ جلا سکا –
——
دیکھتی ہے آئینہ کس دیدۂ پر آب سے
وہ جو اک حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
جل گئی ہے وہ کلی جس کو مہکنا تھا ابھی
چابد وہ گہنا گیا جس کو دمکنا تھا ابھی
سل گئے وہ غنچہ لب جن کو چٹکنا تھا ابھی
بے نوا بلبل ہوئی جس کو چہکنا تھا ابھی
مست آنکھیں مند گئیں جن کو بہکنا تھا ابھی
چوڑیاں کرچی ہوئیں جن کو چھنکنا تھا ابھی
کان سے جھمکے گرے جن کو کھنکنا تھا ابھی
آرزوئے وصل کو دل میں دھڑکنا تھا ابھی
رنگ مدھم پڑگئے جن کو بھڑکنا تھا ابھی
مانگ میں جس کی ستاروں کو چمکنا تھا ابھی
ہاں وہی حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
دن میں بھی اب دیکھتی ہے ھو بھیانک خواب سے
کون سمجھے گا کہ کیا ہے اس کے دل اضطراب
کعن بانٹے گا جہاں میں اس کے جیون کا عذاب
کون لے گا ظالموں سے اس کے اشکوں کا حساب
اس روایت کو کوئی تو آج کر دے بے نقاب
کیوں ازل سے بنت حوا ہی رہی زیر عتاب
یہ نہ کہہ دینا کہ ہے عورت کی قسمت ہی خراب
اس کے آنگن میں بھی کھل سکتے ہیں خوشیوں کے گلاب
درس دیتی ہے یہی انسانیت کا الکتاب
جس مبارک ہاتھ سے ہونا ہے یہ کار ثواب
وہ جہاں میں سرخرو ہے آخرت میں کامیاب
یہ صدائیں گونجتی ہیں منبر و محراب سے
ہم سبھی مل کر نکالیں گے اسے گرداب سے
وہ جو اک حوا کی بیٹی جل گئی تیزاب سے
دیکھتی ہے آئینہ کس دیدہ پر آب سے
——
مثالِ ریگ مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہوں
ظفر لوگوں کے جیون سے نکلتا جا رہا ہوں
بہت آساں بہت جلدی سفر ڈھلوان کا ہے
سو پتھر کی طرح پگ پگ اچھلتا جا رہا ہوں
کھنچا جاتا ہوں یوں اگلے پڑاو کی کشش میں
تھکن سے چور ہوں میں پھر بھی چلتا جا رہا ہوں
ہنر اس کھوکھلی دنیا میں جینے کا یہی ہے
برنگ آب ہر سانچے میں ڈھلتا جا رہا ہوں
کبھی محفل سے اٹھ آتا تھا اک ترچھی نظر پر
اور اب نفرت کی ہر پڑیا نگلتا جا رہا ہوں
ادا کرنے لگا ہوں روشنی کرنے کی قیمت
برابر جل رہا ہوں اور پگھلتا جا رہا ہوں
پرانے ذائقوں میں فرق سا کچھ آ گیا ہے
میں اپنا ذوق بھی کچھ کچھ بدلتا جا رہا ہوں
میں کس معیار سے اپنا مآل کار پرکھوں
بگڑ کر رہ گیا ہوں یا سنبھلتا جا رہا ہوں
ظفر بار ثمر سے جھک گیا ہوں میں زمین پر
جہاں والے سمجھتے ہیں سپھلتا جا رہا ہوں
……………………..

