منتخب غزلیں

عزیز بانو داراب وفا کے اشعار لکھنو کی ممتاز شاعرہ …

عزیز بانو داراب وفا کے اشعار
لکھنو کی ممتاز شاعرہ جنھوں نے اپنے اظہار میں نسائی جذبات کو جگہ دی
…..
ایک مدت سے خیالوں میں بسا ہے جو شخص
غور کرتے ہیں تو اس کا کوئی چہرہ بھی نہیں
….
میرے حالات نے یوں کر دیا پتھر مجھ کو
دیکھنے والوں نے دیکھا بھی نہ چھو کر مجھ کو
….
چراغ بن کے جلی تھی میں جس کی محفل میں
اسے رلا تو گیا کم سے کم دھواں میرا
….
اہمیت کا مجھے اپنی بھی تو اندازہ ہے
تم گئے وقت کی مانند گنوا دو مجھ کو
….
میں نے یے سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں اگے پیڑ کو پانی دے گا
…..
شیو تو نہیں ہم پھر بھی ہم نے دنیا بھر کے زہر پئے
اتنی کڑواہٹ ہے منہ میں کیسے میٹھی بات کریں
….
میں جب بھی اس کی اداسی سے اوب جاؤں گی
تو یوں ہنسے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا
…..
ہم ایسے سورما ہیں لڑ کے جب حالات سے پلٹے
تو بڑھ کے زندگی نے پیش کیں بیساکھیاں ہم کو
….
زندگی کے سارے موسم آ کے رخصت ہو گئے
میری آنکھوں میں کہیں برسات باقی رہ گئی
….
ہم نے سارا جیون بانٹی پیار کی دولت لوگوں میں
ہم ہی سارا جیون ترسے پیار کی پائی پائی کو
….
یہ حوصلہ بھی کسی روز کر کے دیکھوں گی
اگر میں زخم ہوں اس کا تو بھر کے دیکھوں گی
…..
کریدتا ہے بہت راکھ میرے ماضی کی
میں چوک جاؤں تو وہ انگلیاں جلا لے گا
….
ہم نے سب کو مفلس پا کے توڑ دیا دل کا کشکول
ہم کو کوئی کیا دے دے گا کیوں منہ دیکھی بات کریں
….
ہماری بے بسی شہروں کی دیواروں پہ چپکی ہے
ہمیں ڈھونڈے گی کل دنیا پرانے اشتہاروں میں
….
جن کو دیوار و در بھی ڈھک نہ سکے
اس قدر بے لباس ہیں کچھ لوگ
….
کہنے والا خود تو سر تکیے پہ رکھ کر سو گیا
میری بے چاری کہانی رات بھر روتی رہی
….
تمام عمر کسی اور نام سے مجھ کو
پکارتا رہا اک اجنبی زبان میں وہ
….
میری تصویر بنانے کو جو ہاتھ اٹھتا ہے
اک شکن اور مرے ماتھے پہ بنا دیتا ہے
….
وہ یہ کہہ کہہ کے جلاتا تھا ہمیشہ مجھ کو
اور ڈھونڈے گا کہیں میرے علاوہ مجھ کو
…..
میں روشنی ہوں تو میری پہنچ کہاں تک ہے
کبھی چراغ کے نیچے بکھر کے دیکھوں گی
…..
ہمیں دی جائے گی پھانسی ہمارے اپنے جسموں میں
اجاڑی ہیں تمناؤں کی لاکھوں بستیاں ہم نے
….
میں اپنے جسم میں رہتی ہوں اس تکلف سے
کہ جیسے اور کسی دوسرے کے گھر میں ہوں
….
شہر خوابوں کا سلگتا رہا اور شہر کے لوگ
بے خبر سوئے ہوئے اپنے مکانوں میں ملے
….
میں بھی ساحل کی طرح ٹوٹ کے بہہ جاتی ہوں
جب صدا دے کے بلاتا ہے سمندر مجھ کو
….
میں کس زبان میں اس کو کہاں تلاش کروں
جو میری گونج کا لفظوں سے ترجمہ کر دے

ہم سے زیادہ کون سمجھتا ہے غم کی گہرائی کو
ہم نے خوابوں کی مٹی سے پاٹا ہے اس کھائی کو
….
اپنی ہستی کا کچھ احساس تو ہو جائے مجھے
اور نہیں کچھ تو کوئی مار ہی ڈالے مجھ کو
….
میرے اندر ایک دستک سی کہیں ہوتی رہی
زندگی اوڑھے ہوئے میں بے خبر سوتی رہی
….
جانے کتنے راز کھلیں جس دن چہروں کی راکھ دھلے
لیکن سادھو سنتوں کو دکھ دے کر پاپ کمائے کون
….
میں اس کی دھوپ ہوں جو میرا آفتاب نہیں
یہ بات خود پہ میں کس طرح آشکار کروں
….
آئینہ خانے میں کھینچے لئے جاتا ہے مجھے
کون میری ہی عدالت میں بلاتا ہے مجھے
….
اس نے چاہا تھا کہ چھپ جائے وہ اپنے اندر
اس کی قسمت کہ کسی اور کا وہ گھر نکلا
….
چراغوں نے ہمارے سائے لمبے کر دیئے اتنے
سویرے تک کہیں پہنچیں گے اب اپنے برابر ہم
…..
مرے اندر ڈھنڈورا پیٹتا ہے کوئی رہ رہ کے
جو اپنی خیریت چاہے وہ بستی سے نکل جائے
….
مجھے کہاں مرے اندر سے وہ نکالے گا
پرائی آگ میں کوئی نہ ہاتھ ڈالے گا
…..
تشنگی میری مسلم ہے مگر جانے کیوں
لوگ دے دیتے ہیں ٹوٹے ہوئے پیالے مجھ کو
…..
مجھے چکھتے ہی کھو بیٹھا وہ جنت اپنے خوابوں کی
بہت ملتا ہوا تھا زندگی سے ذائقہ میرا
….
زرد چہروں کی کتابیں بھی ہیں کتنی مقبول
ترجمے ان کے جہاں بھر کی زبانوں میں ملے

دھوپ میری ساری رنگینی اڑا لے جائے گی
شام تک میں داستاں سے واقعہ ہو جاؤں گی
….
زمین موم کی ہوتی ہے میرے قدموں میں
مرا شریک سفر آفتاب ہوتا ہے
…..
ہم ہیں احساس کے سیلاب زدہ ساحل پر
دیکھیے ہم کو کہاں لے کے کنارا جائے
….
عمر بھر راستے گھیرے رہے اس شخص کا گھر
عمر بھر خوف کے مارے نہ وہ باہر نکلا
….
خواب دروازوں سے داخل نہیں ہوتے لیکن
یہ سمجھ کر بھی وہ دروازہ کھلا رکھے گا
….
گئے موسم میں میں نے کیوں نہ کاٹی فصل خوابوں کی
میں اب جاگی ہوں جب پھل کھو چکے ہیں ذائقہ اپنا
….
اس گھر کے چپے چپے پر چھاپ ہے رہنے والے کی
میرے جسم میں مجھ سے پہلے شاید کوئی رہتا تھا
….
زندگی بھر میں کھلی چھت پہ کھڑی بھیگا کی
صرف اک لمحہ برستا رہا ساون بن کے
….
مرے اندر سے یوں پھینکی کسی نے روشنی مجھ پر
کہ پل بھر میں مری ساری حقیقت کھل گئی مجھ پر
….
وقت حاکم ہے کسی روز دلا ہی دے گا
دل کے سیلاب زدہ شہر پہ قبضہ مجھ کو
….
چمن پہ بس نہ چلا ورنہ یہ چمن والے
ہوائیں بیچتے نیلام رنگ و بو کرتے
…..
میری خلوت میں جہاں گرد جمی پائی گئی
انگلیوں سے تری تصویر بنی پائی گئی
….
میں اس کے سامنے عریاں لگوں گی دنیا کو
وہ میرے جسم کو میرا لباس کر دے گا
….
میں کسی جنم کی یادوں پہ پڑا پردہ ہوں
کوئی اک لمحے کو اک دم سے اٹھاتا ہے مجھے
….
مر کے خود میں دفن ہو جاؤں گی میں بھی ایک دن
سب مجھے ڈھونڈیں گے جب میں راستہ ہو جاؤں گی
….
میرے اندر کوئی تکتا رہا رستہ اس کا
میں ہمیشہ کے لئے رہ گئی چلمن بن کے
….
وفا کے نام پر پیرا کئے کچے گھڑے لے کر
ڈبویا زندگی کو داستاں در داستاں ہم نے
….
جب کسی رات کبھی بیٹھ کے مے خانے میں
خود کو بانٹے گا تو دے گا مرا حصہ مجھ کو
….
اس کی ہر بات سمجھ کر بھی میں انجان رہی
چاندنی رات میں ڈھونڈا کیا جگنو وہ بھی
….
بجھا کے رکھ گیا ہے کون مجھ کو طاق نسیاں پر
مجھے اندر سے پھونکے دے رہی ہے روشنی میری
….
کوئی موسم میری امیدوں کو راس آیا نہیں
فصل اندھیاروں کی کاٹی اور دیئے بوتی رہی
….
سننے والے مرا قصہ تجھے کیا لگتا ہے
چور دروازہ کہانی کا کھلا لگتا ہے
….
کسی جنم میں جو میرا نشاں ملا تھا اسے
پتا نہیں کہ وہ کب اس نشان تک پہنچا
….
میں شاخ سبز ہوں مجھ کو اتار کاغذ پر
مری تمام بہاروں کو بے خزاں کر دے
….
میں پھوٹ پھوٹ کے روئی مگر مرے اندر
بکھیرتا رہا بے ربط قہقہے کوئی
….
لگائے پیٹھ بیٹھی سوچتی رہتی تھی میں جس سے
وہی دیوار لفظوں کی اچانک آ رہی مجھ پر
…..
آج کم از کم خوابوں ہی میں مل کے پی لیتے ہیں، کل
شاید خوابوں میں بھی خالی پیمانے ٹکرائیں لوگ
….
ورق الٹ دیا کرتا ہے بے خیالی میں
وہ شخص جب مرا چہرہ کتاب ہوتا ہے
….
بچھڑ کے بھیڑ میں خود سے حواسوں کا وہ عالم تھا
کہ منہ کھولے ہوئے تکتی رہیں پرچھائیاں ہم کو
….
ٹٹولتا ہوا کچھ جسم و جان تک پہنچا
وہ آدمی جو مری داستان تک پہنچا

میں اپنے آپ سے ٹکرا گئی تھی خیر ہوئی
کہ آ گیا مری قسمت سے درمیان میں وہ
….
اک وہی کھول سکا ساتواں در مجھ پہ مگر
ایک شب بھول گیا پھیرنا جادو وہ بھی
….
وہ مرا سایہ مرے پیچھے لگا کر کھو گیا
جب کبھی دیکھا ہے اس نے بھیڑ میں شامل مجھے
….
ہم متاع دل و جاں لے کے بھلا کیا جائیں
ایسی بستی میں جہاں کوئی لٹیرا بھی نہیں
…..
نکل پڑے نہ کہیں اپنی آڑ سے کوئی
تمام عمر کا پردہ نہ توڑ دے کوئی
….
فسانہ در فسانہ پھر رہی ہے زندگی جب سے
کسی نے لکھ دیا ہے طاق نسیاں پر پتہ اپنا
….
اب بھی کھڑی ہے سوچ میں ڈوبی اجیالوں کا دان لئے
آج بھی ریکھا پار ہے راون سیتا کو سمجھائے کون
…..
پکڑنے والے ہیں سب خیمے آگ اور بے ہوش
پڑے ہیں قافلہ سالار مشعلوں کے قریب
……………………………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/