منتخب غزلیں

کوئی ہنسے بھی تو ابھرے صدا سسکنے کی کوئی نجات نہ …

کوئی ہنسے بھی تو ابھرے صدا سسکنے کی
کوئی نجات نہ پائے نجات سے پہلے

ادیب، شاعر، صحافی اور مصور سلطانؔ سبحانی کا یومِ وفات
24 August 2021
نام محمد سلطان عبدالسبحان اور تخلص سلطانؔ تھا۔
یکم؍جون 1942ء کو مالیگاؤں، مہاراشٹر میں پیدا ہوئے۔ سلطانؔ سبحانی 24؍اگست 2021ء کو انتقال کر گئے۔
منتخب کلام
جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا
خدا ہم پہ رحمت کی بارش کرے گا
یہ شیشے کی آنکھیں یہ پتھر کے چہرے
مرا درد کس سے گزارش کرے گا
کسی کا جو ہمدرد ہوگا زمیں پر
بہت گر کرے تو سفارش کرے گا
عجب چیز ہے یہ ہنر کا خزانہ
نہ جس کو ملے وہ نمائش کرے گا
غزل جو بھی دیکھے گا سلطانؔ صاحب
کہانی کی وہ کیا ستائش کرے گا
….
دیکھ کے مجھ کو ہنس دیتا ہے
دشمن بھی کیا خوب ملا ہے
شاید اس کو غم کا ڈر ہے
جب دیکھو ہنستا رہتا ہے
ہم نے تو ڈھالی ہے جنت
تم نے بس سپنا دیکھا ہے
اس کا نام کسی سے سن کر
کتنے زور سے دل دھڑکا ہے
آنے والا ہر پل ہم کو
پربت سا اونچا لگتا ہے
سب کے چہرے زرد سے کیوں ہیں
پھولوں کا موسم آیا ہے
….
ابھی تک سانس لمحے بن رہی ہے
سمندر سے پرانی دوستی ہے
یہ جو آنکھوں میں اک دنیا کھڑی ہے
اسی میں کچھ حقیقت رہ گئی ہے
نہیں پہچانا اس نے جب سے مجھ کو
زمیں کچھ اجنبی سی لگ رہی ہے
ہوا مجھ سے بہت ہی بد گماں ہے
مگر مجھ سے ہی لگ کر چل رہی ہے
اسی کو اپنا سرمایہ سمجھ لو
اگر کچھ آس باقی رہ گئی ہے
جو کل تک صرف میرے نام میں تھی
وہ خوشبو آج تجھ کو یاد بھی ہے
………………


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/