منتخب نظمیں
کلاکار نیّا پار لگا آئے ہو ؟ پاؤں کی مٹی سوکھتی ہ…

کلاکار
نیّا پار لگا آئے ہو ؟
پاؤں کی مٹی سوکھتی ہو گی ۔۔۔
دھو آؤ تم !
شام کی نیلاہٹ کے آگے
شاخیں ساری جھکتی ہوں گی
برگد پیڑ کی چھاؤں دن میں،
رات کو سب آسیب بھرا ہے ۔۔۔
جانے کس کی میّت تھی جو
امبر سارا سرخ پڑا ہے
اب کی بار نجانے سورج
کس دھچکے کو دیکھ رہا ہے ۔۔۔
نیّا ڈھونے والے بابا
چپو آخر گھستے گھستے
میلوں پانی رستے رستے
دو گز مٹی نیچے گوہر
گیلی مٹی میں سویا ہے۔۔۔
تمثیل حفصہ

