منتخب غزلیں

ہوش نعمانی رامپوری (شرافت یار خان) کا یومِ وفات 2…

ہوش نعمانی رامپوری (شرافت یار خان) کا یومِ وفات
22 اگست 2014
(پیدائش 22 مارچ 1933 – وفات 22 اگست 2014)
منتخب کلام
…..
تلاش منزل راحت میں ہم جہاں گزرے
فریب خوردہ امیدوں کے درمیاں گزرے
کئی حسین امیدوں نے پاؤں تھام لیے
تری گلی سے جو اک بار ناگہاں گزرے
بھٹک کے رہ گئے راہوں میں سوچنے والے
مگر جو اہل عمل تھے رواں دواں گزرے
ہزار بزم کی سرگوشیوں نے اکسایا
مگر ہم اہل زباں ہو کے بے زباں گزرے
…..
خواب تو دیکھ چکے یار سہانے کتنے
اب یہ بتلا کہ ترے غم ہیں اٹھانے کتنے
پھول کِھلنے بھی نہ پائے تھے کہ چپکے چپکے
گشت کرنے لگے خوشبو کے دوانے کتنے
تجھ کو معلوم نہیں ایک ترے دل کے سوا
تیرے جوگی ہوئے دنیا میں ٹھکانے کتنے
دھوپ اس جسم کے سورج کی چرانے کے لیے
ہجر کی رات تراشے ہے بہانے کتنے
شمع شب شعر شفق شام شباب اور شراب
شوخئ لب کے ہیں اے ہوش فسانے کتنے
….
اپنی جب وفاؤں پر ان کو بد گماں دیکھا
ہم نے کتنی حسرت سے سوئے آسماں دیکھا
تیلیوں سے ٹکرا کر کیا کہا ہواؤں نے
چونک کر اسیروں نے سوئے گلستاں دیکھا
ساز حال پر چھیڑا ہر ترانۂ ماضی
دل کو جب کبھی ہم نے مائل فغاں دیکھا
تیرگی کے پردے میں مرگ تیرگی ہے ہوشؔ
جب اٹھا حجاب شب مہر ضو فشاں دیکھا
……
زندگی اس لئے شاید ہے پشیماں اے ہوشؔ
کہ فقط موت ہے سرمایۂ انساں اے ہوشؔ
خشک ہونٹوں پہ بھی رکھتے ہیں تبسم کی چمک
کون کہتا ہے ہمیں بے سر و ساماں اے ہوشؔ
وقت کی آنچ سکھا دیتی ہے جسموں کا لہو
دل میں رہتے ہیں مگر خون کے طوفاں اے ہوشؔ
ان کے سینوں میں دہکتے ہوئے انگارے ہیں
تم نے دیکھے ہیں جو ہنستے ہوئے انساں اے ہوشؔ
…………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/