"تُم اَپنے دُشمَن کو جان لو” تُم اَپنے دُشمَن کو …

"تُم اَپنے دُشمَن کو جان لو”
تُم اَپنے دُشمَن کو جان لو جِس کی سازِشوں سے
تُمہارے شہروں پہ دہشتوں اَور ہلاکتوں کا عذاب جَھپٹا
مَگَر جوانانِ صَف شِکَن نے حِصارِ حُرمَت کی لاج رَکھ لی
دَیارِ عَظمَت کی لاج رَکھ لی
تُم اَپنے دُشمَن کو جان لو
تُمہارا دُشمَن وہی ہے جِس نے زَمِیں پہ فِتنے بِچھا دیے ہیں
شَریف اِنسانِیت کا دُشمَن
جو مَکر و سازِش کے قَحبَہ خانے چلا کے بَدمَست ہوچکا ہے
تُمہارا دُشمَن وہی ہے جِس نے فضا کو زِنداں بنا دیا ہے
شَرارتوں کے تَمام خوردَہ فروش اِسی آڑھتی کے گُرگے ہیں
اَور یہ بیوپار چَل رہا ہے
حُقُوق بَرباد ہو رَہے ہیں حَقِیقَتیں مَسخ ہو رَہی ہیں
زَمِیں پہ قوموں کی ایک چوپال بھی ہے جِس میں
ہر ایک قََضِیّے پہ حَل نہ کرنے کے واسطے غور ہو رَہا ہے
غَرِیب اَقوام کی اُمنگوں کا خُوں بہر طَور ہو رَہا ہے
سو آبرُو باختَہ سِیاسَت کے آبرُو باختَہ اِمامو!
مَیں چاہتا ہُوں کہ تُم ہلاکَت کی کاٹھیوں پر بِٹھائے جاؤ
مَیں چاہتا ہُوں کہ موکَشاں مَحشرِ حوادِث میں لائے جاؤ
کہ تُم نے مَظلُوم آدمِیت کی جان ہلکان کر رَکھی ہے
سَمجھ لِیا جائے وہ زَمِینیں اُدھیڑ دی جائیں گی جِنھوں نے
جَسارَت و جَبر و جابرِیَت کی تَلخ فَصِلیں اُگا رکھی ہیں
تُم اَپنے دُشمَن کو جان لو
تُمہارا دُشمَن وہی ہے جِس نے زَمِیں پہ فِتنے بِچھا دیے ہیں۔۔۔!
جونؔ ایلیا

