منتخب غزلیں
چھٹ گیا اَبر، شَفق کُھل گئی٫ تارے نِکلے بند کمروں …
چھٹ گیا اَبر، شَفق کُھل گئی٫ تارے نِکلے
بند کمروں سے تیرے دَرد کے مارے نِکلے
بند کمروں سے تیرے دَرد کے مارے نِکلے
شاخ پر پنکھڑیاں ہوں٫ کہ پلک پر آنسو
تیرے دامن کی جھلک دیکھ کے سارے نکلے
تو اگر پاس نہیں ہے٫ کہیں موجود تو ہے
تیرے ہونے سے٫ بڑے کام ہمارے نکلے
تیرے ہونٹوں٫ میری آنکھوں سے٫ نہ بدلی دُنیا
پھر وہی پُھول کھلے٫ پھر وہی تارے نکلے
رہ گئی لاج میری٫ عرضِ وَفا کی مُشتاقؔ
خامشی سے تیری٫ کیا کیا نہ اشارے نکلے
(احمد مُشتاق)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

