جون ایلیا (14 دسمبر 1931، امروہہ — 8 نومبر 2002، کراچی) جدید اردو غزل کے سب سے مقبول شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں عشق، تنہائی، بغاوت اور فلسفہ ایک ساتھ ملتے ہیں — ان کے اشعار آج بھی اردو کی سب سے زیادہ پڑھی اور سنائی جانے والی شاعری ہیں، خاص طور پر نوجوانوں میں۔
جون ایلیا کون تھے؟
جون امروہہ میں پیدا ہوئے، تقسیم کے بعد پاکستان آئے اور کراچی میں زندگی گزاری۔ وہ شاعر ہونے کے ساتھ مترجم، محقق اور دانشور بھی تھے۔ ان کی پہلی کتاب "شاید” ان کی زندگی میں شائع ہوئی، باقی کتابیں ان کے انتقال کے بعد آئیں — اور تب سے ان کی مقبولیت بڑھتی ہی گئی۔
جون کی شاعری کیسی ہے؟
جون کی غزل سیدھی اور بے باک ہے — وہ عشق، موت، خدا اور دنیا کے بارے میں وہ باتیں کہتے ہیں جو دوسرے شاعر نہیں کہتے۔ ان کے یہاں طنز، درد اور فلسفہ ایک ساتھ ملتے ہیں۔ ان کی زبان جدید اور روزمرہ کی ہے، اسی لیے نوجوان قاری ان سے فوراً جڑ جاتا ہے۔
جون کی 5 مشہور غزلیں اور اشعار
- میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں — جون کی سب سے مشہور غزل؛ بے باکی اور سچائی پر۔
- یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا — بے چینی اور تنہائی پر غزل؛ جون کے درد کی بہترین مثال۔
- کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے — زندگی اور ویرانی پر؛ جون کے فلسفے کی نمائندہ غزل۔
- تمھارا ہجر منا لوں — جدائی اور یاد پر غزل۔
- شاید — ان کی پہلی کتاب کا عنوان اور ان کی شاعری کا مرکزی لفظ؛ امکان اور شک پر۔
جون کی کتابیں
- شاید (1991) — ان کی زندگی میں شائع ہونے والی پہلی کتاب۔
- یعنی — ان کے انتقال کے بعد شائع ہونے والا مجموعہ۔
- گمان — ان کی غزلوں کا اہم مجموعہ۔
- لیکن — ان کی آخری دور کی شاعری۔
جون سے شروع کریں؟
اگر آپ جون کو پہلی بار پڑھ رہے ہیں تو "میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں” سے شروع کریں، پھر "یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا” پڑھیں۔ غزل کی ساخت سمجھنے کے لیے ہمارے صفحات "غزل کیا ہے؟” اور "ردیف و قافیہ کیا ہے؟” بھی پڑھ سکتے ہیں — اور کلاسیکی غزل کے لیے "مرزا غالب” اور "میر تقی میر” کے صفحات دیکھیں۔