Category: منتخب غزلیں
-

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی دِل نہ مانے تو کیا کرے کو…
کیوں کسی سے وفا کرے کوئی دِل نہ مانے تو کیا کرے کوئی نہ دَوا چاہیے مجھے، نہ دُعا کاش اپنی دَوا کرے کوئی مُفلسی میں مزاج شاہانہ کس مرض کی دَوا کرے کوئی درد ہو تو دَوا بھی ممکن ہے وہم کی کیا دَوا کرے کوئی ہنس بھی لیتا ہوں اُوپری دِل سے جی…
-

جاں نثار اختر ۔ رہی ہیں داد طلب اُن کی شوخیاں ہم س…
جاں نثار اختر ۔ رہی ہیں داد طلب اُن کی شوخیاں ہم سے اَدا شناس بہت ہیں، مگر کہاں ہم سے سُنا دیئے تھے کبھی کچھ غلط سلط قصّے وہ آج تک ہیں اُسی طرح بدگماں ہم سے یہ کُنج کیوں نہ زیارت کدہ محبّت ہو ! ملے تھے وہ اِنھیں پیڑوں کے درمیاں ہم…
-

-

( غیر مطبوعہ ) نگاہ سے نہیں ہٹتے ‘ تِرے دَر و دیو…
( غیر مطبوعہ ) نگاہ سے نہیں ہٹتے ‘ تِرے دَر و دیوار یہ میرے ساتھ کہاں چل پڑے ‘ دَر و دیوار نہ مُنہہ سے بول سکیں کچھ ‘ نہ سَر سے بول سکیں ہمیں گواہ بھی کیسے مِلے ‘ دَر و دیوار پھر اُس دیار ِ محبّت میں جا کے لَوٹ آئے نہ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تُو اگر سامنے سے ہٹ جائے تو …
( غیــر مطبــوعــہ ) تُو اگر سامنے سے ہٹ جائے تو مِرا راستـہ بھی کٹ جائے تاب ِ نظّـارگی نہیں مجھ میں حُسن سے کیا کہوں؟ پلٹ جائے کیا یہ ہجرت بہُت ضروری ہے یعنی ‘ اِس دل کا بَوجھ گھٹ جائے اس سے پہلے کہ خامشی توڑوں آئنے میں صـــدا سمٹ جائے دل کا…
-

( خُورشیدؔ رِضوی ) 1۔ یہی ہے عشق کہ سَر دو ‘ مگر …
( خُورشیدؔ رِضوی ) 1۔ یہی ہے عشق کہ سَر دو ‘ مگر دُہائی نہ دو وفُور ِ جَذب سے ٹُوٹو ‘ مگر سُنائی نہ دو یہ دَور وہ ہے کہ بیٹھے رہو چراغ تَلے سبھی کو بزم میں دیکھو ‘ مگر دِکھائی نہ دو زمیں سے ایک تعلُّق ہے نا گُزیر مگر جو ہو…
-

سعیدؔ شہیدی . مے گُلِ رنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کر…
سعیدؔ شہیدی . مے گُلِ رنگ ہے اور جام ہے کیا عرض کروں کتنی رنگیں یہ مری شام ہے کیا عرض کروں کل تہِ دام مجھے دیکھ کے خوش ہوتا تھا آج صیّاد تہِ دام ہے کیا عرض کروں بجلیاں میرے نشیمن کو جلادیتی ہیں میری محنت کا یہ انعام ہے کیا عرض کروں جانے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) نہ مَیں خواب ہوں ‘ نہ خیال ہ…
( غیــر مطبــوعــہ ) نہ مَیں خواب ہوں ‘ نہ خیال ہوں میں حقیــقتوں کا ہی جال ہوں کوئی آج مجھ سے مِلے بھی کیوں کہ میں گذری کل کا ملال ہوں وہ جو رکھتا ہے مِرے باب میں انھیں نفرتوں کا کمال ہوں وہ مسرّتوں سے ہے چُور چُور میں غموں سے اپنے نڈھال…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) بُجھ گئی آگ ‘ سو مَیں اپنی ت…
( غیــر مطبــوعــہ ) بُجھ گئی آگ ‘ سو مَیں اپنی تن آسـانی کو اوڑھ لیتا ہوں ترے جســم کی عریانی کو واپَس آئے تو دَر و بام بھی اپنے نہ رہـے ہم جو گھر چھوڑ کے نکلے تھے جہاں بانی کو خوف کھائیں گے تو مر جائیں گے ویرانے میں تم ذرا آگـــــــ جَــلاؤ…
-

( غیر مطبوعہ ) شور ایسے مچا رہے ہو تم جیسے دُنیا…
( غیر مطبوعہ ) شور ایسے مچا رہے ہو تم جیسے دُنیا چلا رہے ہو تم چاک پر شکل کیسے بنتی ہے کوزہ گر کو بتا رہے ہو تم آنکھ میں ایک خواب تک نہيں ہے اور آنکھیں دِکھا رہے ہو تم کون سے سُر تمہیں سِکھائے تھے اور کس لَے میں گا رہے ہو…