Category: منتخب غزلیں
-
ساقیا تشنگی کی تاب نہیں زہر دے دے اگر شراب نہیں داغ دہلوی
ساقیا تشنگی کی تاب نہیں زہر دے دے اگر شراب نہیں داغ دہلوی
-
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب…
میرے ہم نفس میرے ہم نوا مجھے دوست بن کے دغا نہ دے میں ہوں درد عشق سے جاں بہ لب مجھے زندگی کی دعا نہ دے میرے داغ دل سے ہے روشنی اسی روشنی سے ہے زندگی مجھے ڈر ہے اے مرے چارہ گر یہ چراغ تو ہی بجھا نہ دے مجھے چھوڑ دے…
-

گوشہ ء ظفر اقبال ( غیر مطبوعہ کلام ) ۔۔ پیش کَش ان…
گوشہ ء ظفر اقبال ( غیر مطبوعہ کلام ) ۔۔ پیش کَش انتظامیہ ” سنہری حلقہ ” 1۔ دَرپیش ہے صحرا ‘ وہی صحرا سے گُذر کر دُنیا میں ہی موجود ہُوں’ دُنیا سے گُذر کر دریا مِرے اندَر تھا’ کنارے پہ جو پہنچا مَیں اور پریشاں ہُوا ‘ دریا سے گُذر کر اِک ریت…
-
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے …
غم عاشقی سے کہہ دو رہ عام تک نہ پہنچے مجھے خوف ہے یہ تہمت ترے نام تک نہ پہنچے میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن وہ صدائے…
-

نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمَجھتا ہوں سمجھ تو لیتا …
نہیں کہ تیرے اشارے نہیں سمَجھتا ہوں سمجھ تو لیتا ہوں’ سارے نہیں سمَجھتا ہوں ترا چڑھا ہُوا دریا سمجھ میں آتا ہے ترے خموش کنارے نہیں سمَجھتا ہوں کدھر سے نکلا ہے یہ چاند ؟ کچھ نہیں معلوم کہاں کے ہیں یہ ستارے ‘ نہیں سمَجھتا ہوں کہیں کہیں مجھے اپنی خبر نہیں ملتی…
-
غم حیات بھی آغوش حسن یار میں ہے یہ وہ خزاں ہے جو ڈوبی ہوئی بہار میں ہے اثر ش…
غم حیات بھی آغوش حسن یار میں ہے یہ وہ خزاں ہے جو ڈوبی ہوئی بہار میں ہے اثر شراب کا عہد وفائے یار میں ہے قدم قدم پہ جو لغزش سی اعتبار میں ہے شگفتگئ دل کارواں کو کیا سمجھے وہ اک نگاہ جو الجھی ہوئی بہار میں ہے شکست حوصلۂ ضبط غم مجھے…
-

وہ جو اک الزام تھا اُس پر کہِیں آ نہ جائے اب ہمار…
وہ جو اک الزام تھا اُس پر کہِیں آ نہ جائے اب ہمارے سَر کہِیں جس کی خاطر قافلہ روکا گیا وہ مسافِر چل دیا اٹھ کر کہِیں جب وہ دو پنچھی مِلے تھے کھیت میں پھر نظر آ جائے وہ منظر کِہیں خواہشوں کے غار کا منہہ بند ہے تم ہٹا دینا ‘ نہ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) نگار ِ خانۃ جاں میں اُتر کے …
( غیــر مطبــوعــہ ) نگار ِ خانۃ جاں میں اُتر کے دیکھتے ہیں یہ کیا جہاں ہے ‘ اِسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں فــراز ِ دار پہ شاید کُھلے دَر ِ اِلہــام سو ‘ اِس ” نہایت ِ لا ” سے گذر کے دیکھتے ہیں یہی ہے شرط ۔۔۔۔ اگر باریاب ہونے کی تو…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) کوئی دیا کسی چوکھٹ پہ اب نہ …
( غیــر مطبــوعــہ ) کوئی دیا کسی چوکھٹ پہ اب نہ جلنے کا سیاہ رات کا منظر نہیں بدلنے کا وہ رُت بدل گئی ۔۔۔ سب سے قریب رہنے کی زمانہ ختم ہوا ‘ سب کے ساتھ چلنے کا لو اپنے جرم کا اقرارکر رہے ہیں ہم ہُنر نہ آیا ہمیں بات کے بدلنے کا…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) سورج سے ہے’ نہ چاند ستاروں س…
( غیــر مطبــوعــہ ) سورج سے ہے’ نہ چاند ستاروں سے روشنی پھیلی جہان بھر میں ‘ اندھیروں سے روشنی پھر ایک دن وہ اُس سے ہم آغوش ہو گئی دریا کو دیکھتی تھی کناروں سے روشنی جلتا ہے کس مکاں میں دیا ، کس مکاں میں دل یہ بات لے اُڑی ہے’ دریچوں سے…