وہ جو اک الزام تھا اُس پر کہِیں آ نہ جائے اب ہمار…


وہ جو اک الزام تھا اُس پر کہِیں
آ نہ جائے اب ہمارے سَر کہِیں

جس کی خاطر قافلہ روکا گیا
وہ مسافِر چل دیا اٹھ کر کہِیں

جب وہ دو پنچھی مِلے تھے کھیت میں
پھر نظر آ جائے وہ منظر کِہیں

خواہشوں کے غار کا منہہ بند ہے
تم ہٹا دینا ‘ نہ وہ پتّھر کہِیں

آسماں سے آنے والے سات رنگ
تھے کسی کے’ آ کے اترے پر کہیں

دل کی اک امّید دل میں رہ گئی
اک دیا سا بجھ گیا ‘ جل کر کہیں

لاپتا ہے اک سمُندر آج تک
جھانک بیٹھا تھا مِرے اندر کہیں

ڈس نہ لے مجھ کو کہیں خوش بُو تری
کھا نہ جائے مجھ کو یہ بستر کہیں

آ گیا وہ جسم کے ملبے تلے
مَیں گِرا دہلیز سے باہَر کہیں

دھوپ کے لمبے سفر کے بعد’ ہم
سانس لیں گے ‘سایے میں رُک کر کہیں

( توقیر رضا )


Comments

جواب دیں