وہ جو اک الزام تھا اُس پر کہِیں
آ نہ جائے اب ہمارے سَر کہِیں
جس کی خاطر قافلہ روکا گیا
وہ مسافِر چل دیا اٹھ کر کہِیں
جب وہ دو پنچھی مِلے تھے کھیت میں
پھر نظر آ جائے وہ منظر کِہیں
خواہشوں کے غار کا منہہ بند ہے
تم ہٹا دینا ‘ نہ وہ پتّھر کہِیں
آسماں سے آنے والے سات رنگ
تھے کسی کے’ آ کے اترے پر کہیں
دل کی اک امّید دل میں رہ گئی
اک دیا سا بجھ گیا ‘ جل کر کہیں
لاپتا ہے اک سمُندر آج تک
جھانک بیٹھا تھا مِرے اندر کہیں
ڈس نہ لے مجھ کو کہیں خوش بُو تری
کھا نہ جائے مجھ کو یہ بستر کہیں
آ گیا وہ جسم کے ملبے تلے
مَیں گِرا دہلیز سے باہَر کہیں
دھوپ کے لمبے سفر کے بعد’ ہم
سانس لیں گے ‘سایے میں رُک کر کہیں
( توقیر رضا )

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔