Category: منتخب غزلیں
-

مابین بچپن تاپا خوف کی گرم دو پہروں میں رات گزار…
مابین بچپن تاپا خوف کی گرم دو پہروں میں رات گزاری لمبے کَھنبے شہروں میں بچّوں کی آنکھوں میں اُترے شکتی لی خاکی پنجرہ خاک سے لِیــپا بھید چُنے سرگوشی کی ہم جمع ہُوئے / تفریق ہُوئے ضربیں کھائیں اور کھڑے کھڑے تقسیم ہوئے رَلا مِلا سنگیت اٹھایا ! کہیں کہیں شُدھ جائیں رکّھیں اندر…
-

( غیر مطبوعہ ) انا ابھی فعال ہے نہیں’ نہیں کہ جا…
( غیر مطبوعہ ) انا ابھی فعال ہے نہیں’ نہیں کہ جان کا خروج ناگزیر ہو تو ہو ، مگر مِری انا کا’ زات سے خروج ایک جھوٹ ہے بتا چکا بتا چکا’ نجومیوں کو غیب دان کاہنوں کو ہاتفوں کو’ کاشِفوں کو لاکھ بار … پَر وہ مانتے نہیں تو کیا ثبوت دوں اُنہیں؟…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) خشک روٹی توڑنی ہے’ سرد پانی…
( غیــر مطبــوعــہ ) خشک روٹی توڑنی ہے’ سرد پانی چاہیے کیا کسی گِرجے کی کُنڈی کھٹکھٹانی چاہیے اے سماعت! اِس فَضا میں آج بھی موجود ہے ہاں نواے نغمہء کُن ۔۔، تجھ کو آنی چاہیے رنج کے پھاٹک سے نکلے ہیں ضـریح و ذوالجناح کوچۃ غم سے برابر سُوز خوانی چاہیے کاہنا! ہم سے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) یہ آخــــــری چــراغ ہَوا م…
( غیــر مطبــوعــہ ) یہ آخــــــری چــراغ ہَوا میں اُچھال دوں ممکن ہے’ آج دل سے تجھے بھی نکال دوں سوچا ہے کتنی بار ۔۔۔ اُلٹ دوں یہ کائنات اِس کو نئے سِرے سے’ نئے خدّ و خال دوں تُو جو سُجھا رہا ہے یہ آسانیاں مجھے ایسا نہ ہو کہ میں تجھے مشکِل میں…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) اِس روانی میں کہاں تک ہے بہا…
( غیــر مطبــوعــہ ) اِس روانی میں کہاں تک ہے بہاو میرا ! سامنے میرے کنارہ بھی تو لاؤ میرا میری یخ بستگی ظاہر نہ شرارہ کوئی کبھی بجھتا ‘کبھی جلتا ہے الاو میرا ! اپنی دل چسپ کہانی میں نئے موڑ کے بعد واقعہ پہلی ہی فرصت میں سناؤ میرا نہ رہے قید عقائد…
-

مجازؔ لکھنوی (اسرارالحق مجازؔ) . بس اِس تقصیر پر ا…
مجازؔ لکھنوی (اسرارالحق مجازؔ) . بس اِس تقصیر پر اپنے مقدّر میں ہے مرجانا تبسّم کو تبسّم کیوں،نظر کو کیوں نظر جانا خِرد والوں سے حُسن و عِشق کی تنقید کیا ہوگی نہ افسونِ نِگہ سمجھا، نہ اندازِ نظر جانا مئے گُلفام بھی ہے، سازِ عشرت بھی ہے،ساقی بھی ! بہت مشکل ہے آشوبِ حقیقت…
-

( غیر مطبوعہ ) ایک گلی میں مُڑتے ہی ‘ اِک شام سہا…
( غیر مطبوعہ ) ایک گلی میں مُڑتے ہی ‘ اِک شام سہانی پڑتی ہے اُس کے گھر کے رستے میں’ بس یہی نشانی پڑتی ہے پہلے پہَل تو سب کچھ اپنے دل میں چُھپائے رکھتی ہوں آخر اُس کو دل کی ساری بات بتانی پڑتی ہے جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ہَوا سے ہاتھ چُھڑایا، فلک کے…
( غیــر مطبــوعــہ ) ہَوا سے ہاتھ چُھڑایا، فلک کے زینے سے کی جو تم سے کہہ نہ سکے بات ‘ وہ سفینے سے کی یقیں ہے دل کا’ مَحبّت پہ خاتمہ ہو گا وفا کی ابتدا ہم نے اگر مدینے سے کی فگار خود ہی کئے ہم نے جان و دل اپنے یہ دشمنی…
-

( غیر مطبوعہ ) ضِیاے رنگ سے بھی کچھ تو دوستی کرو’…
( غیر مطبوعہ ) ضِیاے رنگ سے بھی کچھ تو دوستی کرو’ یار ! بہُت اندھیرا ہے کمرے میں ‘ روشنی کرو ‘ یار ! مَیں اِس ملال کی لذّت سے خود بھی واقِف ہوں دل۔ِ فسُردہ جو کہتا ہے’ تم وہی کرو ‘ یار ! یہاں فراغتیں بار۔ گراں ہیں رشتوں پر قرابتوں کا…
-

( غیر مطبوعہ ) کیا مِثل. مُرغ. باد نُما ‘ سانس ل…
( غیر مطبوعہ ) کیا مِثل. مُرغ. باد نُما ‘ سانس لیجیے جب دل ہی بُجھ گیا ہو تو ‘ کیا سانس لیجیے اُس جان. بزم ِ خوش نفَساں سے مِل آئے آپ اب میرے پاس آ کے ‘ ذرا سانس لیجیے بُوے ِحنا نہیں’ نہ سہی ۔۔۔ بُوے خوں سہی کیسے فَضا سے ہو…