Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) دُکھڑا بابا ! جب تک آپ سلا…
( غیــر مطبــوعــہ ) دُکھڑا بابا ! جب تک آپ سلامت تھے ناں تب تک رشتے تھے آپ کی آنکھیں مُندھتے ہی سب رشتوں کی آنکھیں اُن کے ماتھوں پر اُگ آئی تھیں سب رشتوں نے جبڑے کھولے اور اپنے نوکیلے دانتوں کی وَحشت سے سارا جسم اُدھیڑ دیا بابا !جب تک آپ سلامت تھے…
-

کیفی اعظمی . وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد د…
کیفی اعظمی . وہ بھی سراہنے لگے اربابِ فن کے بعد دادِ سُخن ملی مجھے ترکِ سُخن کے بعد دِیوانہ وار چاند سے آگے نِکل گئے ٹھہرا نہ دِل کہِیں بھی تری انجمن کے بعد ہونٹوں کو سی کے دیکھیے پچھتائیے گا آپ ہنگامے جاگ اُٹھتے ہیں اکثر گھٹن کے بعد غربت کی ٹھنڈی چھاؤں…
-

( غیر مطبوعہ ) کوئی پوچھے اگر اُداسی کا آئنے میں …
( غیر مطبوعہ ) کوئی پوچھے اگر اُداسی کا آئنے میں ہے گھر اداسی کا نور افشاں ہوئی تمہاری یاد چمک اٹّھا گہَر اداسی کا راستے نے کہا مسافر سے زندگی ہے سفر اداسی کا یہ جو خوش بُو بھری ہے لفظوں میں یہ ہے زخمِ ہنر اداسی کا دل دریچے میں پھول رکھتا ہے…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) آخری گُفت گُو ۔۔۔ الوداع اب …
( غیــر مطبــوعــہ ) آخری گُفت گُو ۔۔۔ الوداع اب نہیں مجھ میں تُو ۔۔۔ الوداع کُنج ِ خلوت میں خوش آمدِید دہر کے رُو بَہ رُو ۔۔ الوداع مجھ رفو گر سے مت چھین دل ہو چکا جو رفُـو ۔۔۔ الوداع ڈوب دیکھا تری موج میں تو ہے خشک آب جُو ۔۔۔ الوداع میں…
-

داغؔ دہلوی طَور بے طَور ہُوئے جاتے ہیں وہ تو کچھ…
داغؔ دہلوی طَور بے طَور ہُوئے جاتے ہیں وہ تو کچھ اور ہُوئے جاتے ہیں یہ عنایت پہ عنایت ہے ستم لطف بھی جَور ہُوئے جاتے ہیں اب تو بیمارِ محبّت تیرے ! قابلِ غور ہُوئے جاتے ہیں نشہ ہوتا ہی نہیں، اے ساقی ! بے مزہ دَور ہُوئے جاتے ہیں دیر ہے حکم کی،…
-

کیوں کسی سے وفا کرے کوئی دِل نہ مانے تو کیا کرے کو…
کیوں کسی سے وفا کرے کوئی دِل نہ مانے تو کیا کرے کوئی نہ دَوا چاہیے مجھے، نہ دُعا کاش اپنی دَوا کرے کوئی مُفلسی میں مزاج شاہانہ کس مرض کی دَوا کرے کوئی درد ہو تو دَوا بھی ممکن ہے وہم کی کیا دَوا کرے کوئی ہنس بھی لیتا ہوں اُوپری دِل سے جی…
-

جاں نثار اختر ۔ رہی ہیں داد طلب اُن کی شوخیاں ہم س…
جاں نثار اختر ۔ رہی ہیں داد طلب اُن کی شوخیاں ہم سے اَدا شناس بہت ہیں، مگر کہاں ہم سے سُنا دیئے تھے کبھی کچھ غلط سلط قصّے وہ آج تک ہیں اُسی طرح بدگماں ہم سے یہ کُنج کیوں نہ زیارت کدہ محبّت ہو ! ملے تھے وہ اِنھیں پیڑوں کے درمیاں ہم…
-

-

( غیر مطبوعہ ) نگاہ سے نہیں ہٹتے ‘ تِرے دَر و دیو…
( غیر مطبوعہ ) نگاہ سے نہیں ہٹتے ‘ تِرے دَر و دیوار یہ میرے ساتھ کہاں چل پڑے ‘ دَر و دیوار نہ مُنہہ سے بول سکیں کچھ ‘ نہ سَر سے بول سکیں ہمیں گواہ بھی کیسے مِلے ‘ دَر و دیوار پھر اُس دیار ِ محبّت میں جا کے لَوٹ آئے نہ…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تُو اگر سامنے سے ہٹ جائے تو …
( غیــر مطبــوعــہ ) تُو اگر سامنے سے ہٹ جائے تو مِرا راستـہ بھی کٹ جائے تاب ِ نظّـارگی نہیں مجھ میں حُسن سے کیا کہوں؟ پلٹ جائے کیا یہ ہجرت بہُت ضروری ہے یعنی ‘ اِس دل کا بَوجھ گھٹ جائے اس سے پہلے کہ خامشی توڑوں آئنے میں صـــدا سمٹ جائے دل کا…