Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) مِری خامُشــی مِرا تیر ہے ‘ …
( غیــر مطبــوعــہ ) مِری خامُشــی مِرا تیر ہے ‘ مِری عـاجِــزی مِری ڈھال ہے مجھے اہل ِ عشــق کی بزم میں ‘ کرے زیر ۔۔ کس کی مجــال ہے کبھی ہِجــر باعث ِ لُطفــــ ہے ‘ کبھی بار رنگ ِ وِصال ہے یہ عجیب حالت ِ عشق ہے ‘ یہ غریب صُـورت ِ حــال…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) مجھے دیکھو کہ میں چاہوں فقَط…
( غیــر مطبــوعــہ ) مجھے دیکھو کہ میں چاہوں فقَط اُس کا ہونا جس کو مرغُـــوب ہے محبوب ِ زمانہ ہونا اب ذرا میرا چمـَکنا بھی گــوارا کر لے تو نے ہی اِذن دیا تھــا کہ سِــــــــتارہ ہونا میں بُرا ہونے کو اب کیسے بُرائی سمجھوں اُس کو اچّھــا نہیں لگتا ‘ مِرا اچّھـــا ہونا…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) درد کی تفســیـر میں اب زخـــ…
( غیــر مطبــوعــہ ) درد کی تفســیـر میں اب زخــــم کھولا جائے گا اب کے دل کو پھر جلانے اک بھبھولا جائے گا آنکھ جیسے کُھل چکی ہے’ سَر میں سودا بھی نہیں سو ‘ کہانی کا بھی اک اک حرف تولا جائے گا فیصلہ ہے’ ہر صداقت کو رگیدا جائے گا سچ کے سارے…
-

yaad aa’ay aaj haar ke baiThay peh woh Khalish jin…
yaad aa’ay aaj haar ke baiThay peh woh Khalish jin ko badel diya tha gham-e-roazgaar say . shafiq khalish
-

(غیر مطبوعہ ) آؤ ‘ کچھ ایسا کریں ‘ چھانو بچھانے …
(غیر مطبوعہ ) آؤ ‘ کچھ ایسا کریں ‘ چھانو بچھانے لگ جائیں ہر گلی کوچے سے اب دھوپ ہٹانے لگ جائیں سوکھے پیڑوں کو نئی ٹہنیاں تقسیم کریں دشت و صحرا میں ہری گھاس اگانے لگ جائیں چاند کو ٹانگیں سیہ رات کی پیشانی پر تیرہ راہوں کو اجالوں سے سجانے لگ جائیں کبھی…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ…
( غیــر مطبــوعــہ ) پھیلتا جاتا ہے دریا کا کنارہ کافی میری مٹّی ابھی سہنا ہے خسارہ کافی کُھل کے ہوتی نہیں ہر بات بتانے والی صاحبِ فہــم کو ہوتا ہے اِشارہ کافی کَہ کشاؤں پہ تسلُّط کی ہوَس میں گُم ہے ذرّۂِ خــاکـــ کو تھا ایک ســـتارہ کافی اور بھر لیں گےاب اِس جسم…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) تم کون ہوتے ہو ! چُھـری کان…
( غیــر مطبــوعــہ ) تم کون ہوتے ہو ! چُھـری کانٹے کے کلچر کی کتھا پنج منزلہ برگر تک آ پہنچی اک ایسی صورتِ راتب کہ حیوانی کشاکش کا تماشا بے ٹکٹ دیکھے مگر تم ہو کہ نا انسانیت کی ہر ادا پر بند آنکھوں صاد کرنے کو ثقافت کا ترقّی یافتہ مظہِـر سمَجھتے ہو…
-
بربادئ دل جبر نہیں فیضؔ کسی کا وہ دشمن جاں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
بربادئ دل جبر نہیں فیضؔ کسی کا وہ دشمن جاں ہے تو بھلا کیوں نہیں دیتے
-

Visit You will fall in love with .. Be Part of i…
https://www.rekhta.org/ Visit You will fall in love with .. Be Part of it. The Largest Urdu Lovers Place True Treasure 🙂 https://www.youtube.com/watch?v=Kq8uzGmroyI "Manto Ke Rubaru” Nawazuddin Siddiqui and Nandita Das Moderated by RJ Sayema at Jashn-e-Rekhta 4th Edition 2017 Connect with us : Facebook: https://www.faceb…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) دُکھڑا بابا ! جب تک آپ سلا…
( غیــر مطبــوعــہ ) دُکھڑا بابا ! جب تک آپ سلامت تھے ناں تب تک رشتے تھے آپ کی آنکھیں مُندھتے ہی سب رشتوں کی آنکھیں اُن کے ماتھوں پر اُگ آئی تھیں سب رشتوں نے جبڑے کھولے اور اپنے نوکیلے دانتوں کی وَحشت سے سارا جسم اُدھیڑ دیا بابا !جب تک آپ سلامت تھے…