Category: عکسِ خیال
-

ویلنٹائن ڈے پر ایک لڑکا بھاگا بھاگا ایک لڑکی کے پا…
ویلنٹائن ڈے پر ایک لڑکا بھاگا بھاگا ایک لڑکی کے پاس گیا اور بولا ، ”میں آپ سے دوستی کرنا چاھتا ھُوں“۔ لڑکی بڑے پیار سے بولی ، ”ھماری دشمنی کب تھی ؟؟ ، بھیا“۔ ”ھیپی ویلنٹائن ڈے“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

ﺳﺮﺥ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻮﺳﻢ ، ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ھﺮ ﺻﺒﺢ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺍﺟﺎﻻ…
ﺳﺮﺥ ﮔﻼﺏ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﻣﻮﺳﻢ ، ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ ھﺮ ﺻﺒﺢ ﮐﺎ ﭘﮩﻼ ﺍﺟﺎﻻ ﺗﯿﺮﮮ ﻧﺎﻡ۔ <3 بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

ویلنٹائن ڈے (سُرخ گلابوں کا تہوار) کی بات کرنا جیس…
ویلنٹائن ڈے (سُرخ گلابوں کا تہوار) کی بات کرنا جیسے کوئی گناہ ھو۔ اِسی پر افتخار حیدر کی ایک حسبِ حال نظم آپ کی بصارتوں کی نذر ھے ۔ "سرخ گلابوں کا تہوار” یہ کہاں کی روایت اٹھا لائے ھو؟؟ یہ مہذب جہانوں کے تہوار ھیں ھم سے وحشی کہاں اور محبت کہاں؟؟ خوشبوؤں کی…
-

فیض نے یہ نظم ١٩٧٤ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی ھم…
فیض نے یہ نظم ١٩٧٤ء میں ڈھاکہ سے واپسی پر لکھی ھم کہ ٹھہرے اجنبی اتنی مداراتوں کے بعد پھر بنیں گے آشنا کتنی ملاقاتوں کے بعد ؟؟ کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار؟؟ خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد ؟؟ تھے بہت بے درد لمحے ، ختمِ…
-

فیض کے چاھنے والوں کی کمی نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں …
فیض کے چاھنے والوں کی کمی نہیں لاکھوں نہیں کروڑوں ھیں۔ ایک یُوسف ابراھیم بھی ھیں۔ آئیں اُن سے فیض کی ایک خُوبصورت نظم سنیں۔ ”آج اِک حرف کو ، پھر ڈھونڈتا پھرتا ھے خیال“ آج اِک حرف کو ، پھر ڈھونڈتا پھرتا ھے خیال مدھ بھرا حرف کوئی ، زھر بھرا حرف کوئی دل…
-

فیض کے چاھنے والوں کی فہرست بہت طویل ھے اور زھرہ ن…
فیض کے چاھنے والوں کی فہرست بہت طویل ھے اور زھرہ نگاہ سرِ فہرست ھیں۔ آئیں ایک خوبصورت نظم فیض صاحب سے اور زھرہ نگاہ کی خُوبصورت آواز میں ترنُم میں سنیں۔ ”کیا کریں“ میری تیری نگاہ میں جو لاکھ انتظار ھیں جو میرے تیرے تن بدن میں لاکھ دِل فِگار ھیں جو میری تیری…
-

یہ تیرے حُسن سے لپٹی ھُوئی , آلام کی گرد اپنی دو ر…
یہ تیرے حُسن سے لپٹی ھُوئی , آلام کی گرد اپنی دو روزہ جوانی کی شِکستوں کا شمار چاندنی راتوں کا ، بے کار دھکتا ھُوا درد دل کی بے سُود تڑپ ، جسم کی مایُوس پکار چند روز اور میری جان ! فقط چند ھی روز ”فیض احمّد فیض“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

”سرود“ موت اپنی ، نہ عمل اپنا ، نہ جینا اپنا کھو …
”سرود“ موت اپنی ، نہ عمل اپنا ، نہ جینا اپنا کھو گیا شورشِ گیتی میں قرینہ اپنا ناخدا دُور، ھوا تیز ، قریں کامِ نہنگ وقت ھے ، پھینک دے لہروں میں سفینہ اپنا عرصۂ دھر کے ھنگامے , تہِ خواب سہی گرم رکھ ، آتشِ پیکار سے سینہ اپنا ساقیا رنج نہ کر…
-

چھنتی ھُوئی نظروں سے , جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں…
چھنتی ھُوئی نظروں سے , جذبات کی دنیائیں بے خوابیاں ، افسانے ، مہتاب ، تمنائیں کچھ الجھی ھُوئی باتیں ، کچھ بہکے ھُوئے نغمے کچھ اشک جو آنکھوں سے ، بے وجہ چَھلک جائیں ”فیض احمّد فیض“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
-

فسردہ رُخ ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل…
فسردہ رُخ ، لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی تبسم مضمحل تھا ، مَرمَریں ھاتھوں میں لرزش تھی وہ کیسی بے کسی تھی ، تیری پر تمکیں نگاھوں میں ؟؟ وہ کیا دُکھ تھا ، تیری سہمی ھُوئی خاموش آھوں میں ؟؟ ”فیض احمّد فیض“ بشکریہ https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house