یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا
فہمیدہ ریاض
یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا
تو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھا
مجھے مآل سفر کا ملال کیوں کر ہو
کہ جب سفر ہی مرا فاصلوں کا دھوکا تھا
میں جب فراق کی راتوں میں اس کے ساتھ رہی
وہ پھر وصال کے لمحوں میں کیوں اکیلا تھا…

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔