ہم نہ نکہت ہیں نہ گُل ہیں جو مَہکتے جاویں آگ کی طر…



ہم نہ نکہت ہیں نہ گُل ہیں جو مَہکتے جاویں
آگ کی طرح جِدھر جاویں دہکتے جاویں

اے خوشامست کہ تابُوت کے آگے جِس کے
آب پاشی کے بدل مے کو چِھڑکتے جاویں

جو کوئی آوے ہے نزدیک ہی بیٹھے ہے تِرے
ہم کہاں تک تِرے پہلُو سے سرکتے جاویں

غیر کو راہ ہو گھر میں تِرے سُبحان اللہ
اور ہم دُور سے دَر کو تِرے تکتے جاویں

وقت اب وہ ہے کہ اِک ایک حسنؔ ہو کے بتنگ
صبر و تاب و خِرد و ہوش کِھسکتے جاویں۔۔۔!

کلام میر حسنؔ دہلوی
آواز مادام نُور جہاں