کیفین، کافی، چائے، انرجی ڈرنکس وغیرہ میں موجود جسم کو اصل میں کوئی نئی توانائی نہیں دیتی۔ یہ آپ کے دماغ میں موجود ایڈینوسین نامی کیمیکل کے ریسیپٹرز کو بلاک کر دیتی ہے۔ ایڈینوسین کیا کرتا ہے؟
دن بھر جاگنے کے دوران دماغ میں ایڈینوسین کی مقدار بڑھتی جاتی ہے۔ یہ ریسیپٹرز سے جڑ کر تھکاوٹ، نیند اور سستی کا احساس پیدا کرتا ہے یہ جسم کا قدرتی سونے کا سگنل ہے۔
کیفین کیا کرتی ہے؟
اس کی ساخت ایڈینوسین سے ملتی جلتی ہے، اس لیے یہ ریسیپٹرز پر جا کر بیٹھ جاتی ہے۔ ایڈینوسین کو جڑنے سے روک دیتی ہے تھکاوٹ کا سگنل نہیں پہنچتا آپ کو لگتا ہے کہ تھکاوٹ ختم ہو گئی ہے اور توانائی آ گئی ہے۔
یہ دراصل تھکاوٹ کو چھپانے کا کام ہے، نہ کہ اصل توانائی دینے کا۔ اس لیے جب کیفین کا اثر ختم ہوتا ہے تو جمع شدہ ایڈینوسین اچانک ریسیپٹرز سے جڑ جاتا ہے۔ شدید تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے اگر آپ روزانہ کیفین لیتے رہیں تو دماغ زیادہ ریسیپٹرز بنا لیتا ہے، اور کیفین کا اثر کم ہو جاتا ہے
منتخب
Source