"کلامِ شاعر، بزبانِ شاعر”
رفاقتوں میں پشیمانیاں تو ہوتی ہیں
کہ دوستوں سے بھی نادانیاں تو ہوتی ہیں
بس اس سبب سے کہ تجھ پر بہت بھروسہ تھا
گِلے نہ ہوں بھی تو حیرانیاں تو ہوتی ہیں
اُداسیوں کا سبب کیا کہیں بجُز اس کے
یہ زندگی ہے ، پریشانیاں تو ہوتی ہیں
فراؔز بھول چُکا ہے ترے فراق کے دُکھ
کہ شاعروں میں تَن آسانیاں تو ہوتی ہیں
"احمد فراؔز”۔۔!!!
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔