موسی جلیل : عظیم روسی مجاہد اور شاعر _موسی جلیل /Musa Cälil (1905-1944) عظیم ت…
موسی جلیل : عظیم روسی مجاہد اور شاعر
_موسی جلیل /Musa Cälil (1905-1944)
عظیم تاتار ۔سوویت یونین مجاہد تھے۔روسی انہیں ایک عظیم محب وطن شاعر ، ادیب ، صحافی اور سپاہی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں گے۔انہوں نے روس اور جرمنی کی جنگ میں بھرپور خدمات سر انجام دیں۔روزانہ پچیس ، تیس کلومیٹر پیدل چل کر محاذ پر جاتے اور واپس دفتر آ کر اخبار میں جنگ کے حالات کا نامہ لکھتے۔نازی فاشسٹوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران ان کو گرفتار کیا اور برلن میں موبت کے جیل خانے میں قید کر دیا جہاں بعد میں انتہائی جوانی میں ہی اس عالی حوصلہ انسان کو فاشسٹ جلادوں نے موت کی نیند سلا دیا۔قید میں رہتے ہوئے بھی وہ زخموں سے چور سلاخوں تک جاتے اور بیڑیوں میں خود کو گھسیٹتے ہوئے دوسرے زندان میں قید اپنے ساتھیوں کو پکار کر نظمیں لکھواتے۔ان کی جیل میں لکھی ڈائری اور نظمیں "موبت کی ڈائری” کے نام سے ان کے جانی دوستوں نے سوویت یونین پہنچائی۔ان کی جانثاری اور محب وطنی پر انہیں بیک وقت دو اعلی روسی ایوارڈ دیے گئے ، ہیرو آف سوویت یونین اور لینن ایوارڈ ۔ان کے علاوہ یہ دونوں انعام کسی ایک شخص کو آج تک نہیں دیے گئے۔موسی جلیل تاتار کے پہاڑوں پہ رہنے والے سرفروش مسلمان خاندان کے فرزند تھے۔ان کی نظمیں موت اور شہادت سے محبت کی روداد سناتی ہیں۔
__زیر نظر تحریر ان کا لکھا ایک خط ہے جو انہوں نے اپنی زوجہ "امینہ جلیل” کے نام لکھا۔یہ خط پڑھ کر آپ کو موسی جلیل کی جانثاری اور عظمت کا احساس ہو گا۔کس قدر محبت کرنے والے زندہ دل مجاہد تھے :
|| ١٢ جنوری ١٩٤٢
میں ڈائری نہیں لکھتا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوتی ہے میں اس کے لیے نہ تو خود کو مجبور کر سکتا ہوں اور نہ کروں گا۔ تا ہم زندگی میں بعض لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب دل و دماغ پر خیالات اور جذبات کی یورش ہونے لگتی ہے اور دل چاہتا ہے۔ کچھ لکھا جائے ۔
ڈائری یا شاید خط!
کازان میں تم سے جدائی میری زندگی کا مشکل ترین لمحہ تھا۔ میں اسے بھول نہیں سکتا۔ جی چاہتا ہے میں تمھیں اس کے بارے میں لکھوں ۔
اس سے پہلے بھی ہم دو مرتبہ بچھڑ چکے ہیں، اس وقت جب میں محاذ پر جا رہا تھا لیکن یوں لگتا ہے جیسے اس آخری جدائی کا غم اس سے کئی سو گنا زیادہ تھا،کیوں……؟ یہ میں تمھیں نہیں بتا سکتا۔ بلکہ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے یہ کسی بد شگونی کا پیش خیمہ ہو۔ مجھے ہمیشہ سے اس بات پر یقین رہا ہے اور آج بھی ہے کہ دل آئندہ پیش آنے والی مصیبتوں کا الہام کر لیتا ہے۔ ( یہ ایک جبلی احساس ہے جو انسانوں میں موجود ہوتا ہے ) چوں کہ جدائی والے دن میرے غم زدہ یا جذباتی ہونے کی کوئی وجہ موجود نہ تھی اس لیے شکوک و شبہات مجھے ستانے لگے۔ کیا ان اندیشوں کا مطلب یہ ہے کہ تمھیں یا اپنی پیاری چلپان کو پھر کبھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ یہ ایک سرسری سا خیال تھا جو مجھے آیا۔ اتنا غم زدہ ہونے کی کیا بات تھی؟ لیکن تم لوگوں سے جدا ہونا کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔اس کا احساس مجھے پہلی مرتبہ اس وقت ہوا جب میں نے اپنی ننھی منی چلپان(Çulpan) سے رخصت ہونا چاہا۔ میں نے بڑی مشکل سے اپنے آپ کو اس کی مسہری سے الگ کیا وہ سوئی ہوئی تھی۔ ہم پس و پیش میں پڑ گئے اسے اٹھایا جائے یا نہیں؟ اسے اٹھاتے ہوئے ہمیں رحم آ رہا تھا۔ لیکن نہ اٹھانے پر بھی افسوس ہو رہا تھا۔
اسے چھوڑتے ہوئے میں کیسے کرب میں مبتلا تھا۔ اگر ہم جگاتے تو یقینا اس بات کا احساس کر کے کہ کیا ہو رہا ہے وہ رونے لگتی مجھ سے بچھڑنا اس کے لیے بے حد تکلیف دہ ہوتا۔ اسے بخار تھا لیکن وہ ہمارے ساتھ چلنے کے لیے بضد ہوتی اور اگر ہم اسے نہ اُٹھاتے تو وہ جاگنے پر پوچھتی ، ابو کہاں ہیں؟ اور یہ جان کر اُسے دُکھ ہوتا کہ وہ مجھے رخصتی پیار بھی نہ کر سکی۔ میری آنکھوں میں جھانک کر پیار سے مجھے رخصت نہ کر سکی۔
ہم نے اسے اٹھا دیا، نیند میں مدہوش وہ سمجھ نہ سکی کہ کیا ہو رہا ہے؟
چلپان!! بیٹی میں جا رہا ہوں !
جاؤں نا بیٹی ؟
آنکھیں کھولے بغیر اس نے سر ہلا دیا۔ تو اب میں جا سکتا ہوں۔ میری چھوٹی ننھی منی بیٹی اپنے باپ کو ملک کی خاطر لڑنے کے لیے بھیج رہی تھی ۔ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا۔ اگر میں اس سفر سے لوٹ کر آ بھی نہ پاؤں اور اسے میرے مبہم تخیل کے سہارے جوان ہونا پڑے تب بھی جدائی کے موقع پر اس کا آخری جواب ہمیشہ اس کی زندگی کا اہم ترین لمحہ رہے گا۔ اپنے باپ سے بچھڑ کر بھی وہ ہمیشہ خود پر فخر محسوس کرے گی کہ خود اس نے اپنے باپ کو عظیم جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی ..
جب بھی میں چلپان کے بارے میں سوچتا ہوں مجھے بڑا رنج ہوتا ہے۔ مجھے یہ خوف نہیں ستاتا کہ میں مر جاؤں گا ۔ یہ خالی خولی الفاظ نہیں ہیں جب ہم یہ کہتےہیں کہ ہم موت کو حقیر سمجھتے ہیں تو صداقت یہی ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی خود کو خطروں میں گھرا پا کر موت سے خوف محسوس کیا ہو۔ وطن کی خاطر مر مٹنے کا عظیم احساس ذاتی خوف پر چھا جاتا ہے۔ جب موت کا خیال آتا ہے تو ہم اپنے آپ سے کہنے لگتے ہیں۔ موت کے بعد بھی لحد سے باہر بھی ایک اور زندگی موجود ہے۔ اس دنیا کی زندگی نہیں جس کی تبلیغ پادری اور ملا کرتے ہیں۔ مجھے اس پر یقین نہیں لیکن لحد کے باہر بھی ، موت کے بعد بھی ایک اور زندگی موجود ہے۔ بعد از مرگ زندگی جو عوام کے دل میں، ان کے ذہن میں جگہ بناتی ہے۔ اگر میں نے اس زندگی میں ایسا کوئی کارنامہ کیا ہے تو مجھے یہ بعد از مرگ زندگی ملے گی کیوں کہ لوگ میری باتیں کریں گے۔ میرے بارے میں لکھیں گے۔ میری تصویریں بنائیں گے۔ اگر میں نے خود کو اس کا اہل ثابت کیا ہے تو پھر موت سے کیوں ڈروں؟
زندگی کا نصب العین یہی ہونا چاہیے، ایسی زندگی جو امر بن جائے، جب میں اپنے بارے میں یہ سوچتا ہوں کہ میں حب الوطنی کی اس عظیم جنگ میں لڑتا ہوا شہید ہو چکا ہوں تو مجھے اپنے انجام پر افسوس نہیں ہوتا۔ کسی نہ کسی وقت میرے ارضی وجود کو فنا ہونا ہے۔ فطرت کے قوانین کبھی نہ کبھی تار زندگی نوچ لیں گے۔ لیکن شاید اس وقت تک میں بوڑھا ہو جاؤں ۔ شاید میں بڑھاپے میں مروں ۔ اگر میں تیس چالیس سال تک زندہ رہوں گا تو شاید میں بہت اچھی اچھی چیزیں لکھ جاؤں ۔ سماج کو فائدہ پہنچاؤں ۔ یقیناً ایسا ہوسکتا ہے ہم جتنا عرصہ زندہ رہیں، جتنا زیادہ کام کریں۔ ہم سماج کے لیے اتنا ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ چناں چہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم موت سے خوفزدہ نہیں تو اس کا لازماً یہ مطلب نہیں کہ ہم زندہ رہنا نہیں چاہتے یا ہم اس سے لاتعلق ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ ہمیں زندگی عزیز ہے، ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں اور اس لیے ہم موت کو حقیر سمجتے ہیں۔ لیکن اگر موت ناگزیر ہو جائے ( مثلاً اپنے ملک کے لیے لڑتے ہوئے جان دینا) تو پھر یہ شاندار موت اس سے کہیں زیادہ (یا شاید اتنی ہی اہم ) اور اچھی ہے جو تیس چالیس سال تک چپ چاپ کام کرتے گزرے۔ تب ہمیں اس بات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی کہ ہم جوانی میں مرجائیں گے۔ وہ اپنے ملک کے لیے زندہ رہا۔ اپنے ملک کے لیے کام کرتا رہا اور جب ملک نے چاہا اس نے اپنی زندگی قربان کر دی۔ اسی قسم کی موت زندگی کو امر بناتی ہے۔ یہ میری منطق ہے میرے اپنے سوچنے کا انداز ہے۔ موت ہمیں ڈرا نہیں سکتی۔ ہم نہ صرف اس طرح اس کی توضیح کرتے ہیں بلکہ ہم اسے محسوس بھی کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ سوچ ہمارے کردار کا حصہ بن چکی ہے،
ہمارے خون میں رچ بس گئی ہے۔…
لیکن بعض ایسے لمحات میری زندگی میں آتے ہیں جب میں چلپان کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے وہ یتیم ہو جائے گی۔ میں سوچتا ہوں یہ جدائی دائمی جدائی تو نہیں۔ مجھ پر خوف غالب آجاتا ہے لیکن ساری مصیبتیں، ساری اذیتیں برداشت کر سکتا ہوں ۔ لیکن میری روح کبھی بھی اس بات کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتی کہ ۸ جنوری ١٩٤٢ء کی رات کو چلپان نے اپنے باپ کو ہمیشہ کے لیے رخصت کیا تھا۔ میری روح اپنی ساری قوت سے چیخنے لگتی ہے کیوں کہ اپنی بچی سے میری محبت اس محبت سے کہیں زیادہ مضبوط ہے جو مجھے موت سے ہے………..!!
یہ میری فطرت ہے، جنگ کے ان سنگین لمحوں میں، میں نے اپنی جذباتی کیفیت کا اظہار کرتے ہوئے پورے پورے صفحے سیاہ کر دیے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرے پاس خاصا فاضل وقت ہے۔ (جب ہم محاذ کے عقب پر ہوتے ہیں تو واقعی ہمارے پاس وقت ہوتا ہے) لیکن اس کے لیے میں خود کو لعنت ملامت نہیں کروں گا ۔ میری وہ پرانی نظموں کی فہرست میرے دوست غازی کشاف کو دے دینا۔صرف جذبات اور احساسات سے بھرا ہوا دل ہی عظیم کارنامے انجام دے سکتا ہے۔ جلد ہی محاذ جنگ پر چلا جاؤں گا اور تم دیکھو گی کہ یہ خوابیدہ جذباتی روح تمھیں بتادے گی کہ وہ کیا کچھ کر سکتی ہے!!
جان !
اس وقت تک کے لیے……..
فتح کے لمحوں تک کے لیے رخصت ! ||
/ موسی جلیل ۔ ننھی چلپان کے ساتھ ۔ان کی بیوی امینہ اور بیٹی چلپان۔ محاذ جنگ میں نبرد آزما مجاہد ۔ ضعیف عمر چلپان اپنے اور بابا موسی جلیل کی پورٹریٹ کے ساتھ




بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3867189040178267