پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

مجھ کو معلوم تھا میں اور سنور جاؤں گا گھر سے نکلو…

مجھ کو معلوم تھا میں اور سنور جاؤں گا
گھر سے نکلوں گا تو ہر سمت بکھر جاؤں گا

راز موجوں کے سمندر نے بتائے ہیں مجھے
یہاں ڈوبوں گا، کہیں اور ابھر جاؤں گا

ابھی سستاؤں گا کچھ دیر اسی دوراہے پر
بعد میں سوچوں گا دیکھوں گا کدھر جاؤں گا

میں تو برزخ کے اندھیروں میں جلاؤں گا چراغ
میں نہیں وہ کہ جو موت آئی تو مر جاؤں گا

زندگی!! یوں تجھے رہنے نہیں دوں گا بے رنگ
تیری تصویر میں کچھ رنگ تو بھر جاؤں گا

میں ہوں دریا ہے روانی مری دائم بیتاب
کوئی سیلاب. نہیں ہوں کہ اتر جاؤں نگا

(پرتپال سنگھ بیتاب)

المرسل :-: ابوالحسن علی دوی

I knew I would get better
If I get out of the house, I will scatter everywhere

The sea of waves has told me secrets
I'll drown here, rise somewhere else

Now I will make you cheap, at this time.
Later I will think and see where I will go.

I will light the lamp in the darkness of the barrier
I am not the one who will die when death comes

Life!! I will not let you live without any color
I will fill some colors in your picture

I am the river, it is flowing, my life is curious.
No flooding. I am not going to get down.

(Pratpal Singh curious)

Marsal :-: Abul Hasan Ali

Translated