مارکیز: یاد، طلسم اور تخیل کا امتزاج
امجد طفیل
دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں ماہِ اپریل کی سترہ تاریخ کو یہ خبر غم ناکی سے سنی گئی کہ وہ جو ہمیں اپنی کہانیوں سے مسحور کرتا تھا، اب خود موت کے طلسم کا اسیر ہوچکا ہے۔ مارکیز کے بارے میں ایسی ایک خبر چند سال قبل بھی کانوں میں پڑی تھی، تب یہ افواہ تھی جبکہ اب مصدقہ بات۔ مارکیز کا شمار اُن لکھنے والوں میں ہوتاہے۔ جنہوں نے لاطینی امریکہ کو شناخت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دنیا کا وہ خطہ جو شمالی امریکہ کی چکا چوندکے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ اسے ہماری آنکھوں کے سامنے اتنا روشن کردیا کہ کم از کم ادبی سطح پر بیسویں صدی میں شمالی امریکہ کی روشنی ماند پڑگئی۔
لاطینی امریکہ کے لکھنے والوں نے ادب میں ایک نئی اختراع کی، اسے طلسمی حقیقت نگاری(Magical Realism) کہا جاتا ہے۔ اس طرز کی ایجاد کا سہرا تو میکسیکو کے ناول نگار حوان رُلفو کے سرجاتا ہے۔ حوان رُلفو کا ادبی سرمایہ قیمت میں تو مختصر ہے صرف ایک ناول پیڈرو پرامو اور چند افسانے، مگر کیفیت کے اعتبار سے حوان رُلفو کسی پڑھنے لکھنے والے سے کم نہیں ہے۔ خود گارسیا مارکیز نے اعتراف کیا ہے کہ اُس کے لئے ”پیڈرو پرامو“ کو دریافت کرنا کافکا کی ”کایا چکر“کی دریافت جیسا تھا۔ مارکیز نے ایک ہی رات میں اس ناول کو خود کئی بار ختم کیا اور پھر اِسے اتنی لگن اور دلچسپی سے پڑھا کہ یہ ناول اُسے تقریباً زبانی یاد ہوگیا۔ حوان رُلفو کے اس ناول کو اب اردو کے نامور شاعر احمد مشتاق نے ”بنجر زمین “ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے۔ اسی طرح حوان رلفو کی چند کہانیاں بھی اسد محمد خان اور اجمل کمال کی وساطت سے اردو ترجمے کا روپ دھار چکی ہیں۔ مارکیز نے حوان رُلفو سے سیکھا اور پھر اُسے فنی کمال تک پہنچا دیا۔
مارکیز کا تخیل مجھے ان داستان سنانے والوں کی یاد دلاتا ہے جو اپنے لفظوں سے طلسم تخلیق کرتے تھے اور سننے / پڑھنے والے اس طلسم میں کھو سے جاتے تھے۔ طلسم کے معنی ہی یہ ہیں کہ سب کچھ نظر کا دھوکہ ہو لیکن دیکھنے والوں کو اس پر ایسا اعتبار آئے کہ فریب‘ حقیقت میں ڈھل جائے اور انسان اس میں ایسا اسیر ہو کہ باہر نکلنے کا راستہ تک نہ ملے۔ تنہائی کے سو سال (One Hundred Years of Solitude) پڑھتے ہوئے مجھے یہی گمان گزرا۔ جیسے میں ایک ایسی دنیا میں داخل ہوچکا ہوں جس میں انسان، روحیں، چرند، پرند اور پودے سب ایک دوسرے سے گندھے ہوئے ہیں۔ مارکیز کے قدم سختی سے زمین میں گڑے ہیں لیکن اس کے تخیل کی اُڑان ایسے کردار تراشتی ہے جو ہاتھوں کی قوت سے طاقتور بیل کو روک سکتے ہیں۔
جوزے آرکادیو (Jose Arcadio) کی علامت اتنی بڑی ہے کہ اس کی والدہ جب پہلی بار دیکھتی ہے تو خوف اور فخر سے کانپ جاتی ہے پراسرار بیماریاں حملہ آور ہوکر سارے قصبے کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں۔ تب کہیں سے ایک خانہ بدوش بوڑھا نمودار ہوتا ہے اپنے محلول کے چند قطروں سے تمام قصبے کو نجات دلاتا ہے۔ قتل ہونے والے انسانوں کی روحیں اپنے قاتل کو پریشان کرتی ہیں۔ اپنے زخموں سے بہتے خون کو روکنے کے لئے پانی کی تلاش میں مقتول کے گھر میں بے چین و پریشان پھرتی ہیں۔ قتل ہونے والے کی روح جوزے آرکادیو بوئندیا (Jose Arcadio Buendia) سے انتقام لیتی ہے اور اسے اپنی بستی چھوڑ کر ایک نئے جہان کی تلاش میں نکلنا پڑتا ہے۔ اس سے ناول نگار اس نئے جہاں کی تخلیق کرتا ہے جو ”تنہائی کے سو سال“ میں ہمارے سامنے آشکار ہوتا ہے۔
ناول کا آغاز لاطینی امریکہ کے نو آبادیاتی بننے کے عمل کے آغاز سے شروع ہوتا ہے جب قزاق سر فرانسز ڈریک (Sir Francis Drake) سولہویں صدی میں ریوہا چا(Riohacha) پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تب ارسلا کے آباﺅ اجداد کو ہجرت کرکے مقامی انڈین کی ایک پُرسکون بستی میں جانا پڑتا ہے جہاں بوئندیا کے اجداد سے ان کی رشتہ داری استوار ہوتی ہے۔ جو آئندہ تین صدیوں تک ایک مضبوط بندھن میں ڈھل جاتی ہے۔ انہی خاندانوں کے دو افراد ارسلا اور بوئندیا جب آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خاندانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ آپس میں شادیوں سے عجیب الخلق بچے پیدا ہورہے ہیں۔ ارسلا اور بوئندیا شادی کے بعد ایک بددعا کے اثر میں ہیں اور اس سے نجات پانے کے لئے ایک لمبے سفر پر نکلتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ناول کی کہانی ابتدا ہی میں داستان اور طلسم کے عناصر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس سفر کا اختتام دو سال کے بعد ایک بے آباد علاقے میں دریا کے کنارے پر ہوتا ہے جہاں بوئندیا پڑاﺅ ڈالتا ہے اور ایک نئے جہاں کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ اس جہان کا خالق خود ایک بچے یا ابتدائی انسان کی حیرت سے دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ ماکوندو (Macondo) مارکیز کا خواب نگرجسے اس نے خودتخلیق کیا ہے۔ جس کی گلیوں، گھروں کا نقشہ اس کا اپنا تیار کردہ ہے یہ قصبہ بار بار مارکیز کے تخلیقی شعور میں ابھرتا ہے۔ ماکوندو ہی ہے جہاں چیزیں اور انسان ایک ابدی آہنگ میں زندہ ہیں۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے کہ ایک دن مارچ کے مہینے میں مفلوک الحال خانہ بدوشوں کاقبیلہ گاﺅں کے قریب ڈیرے ڈالتا ہے یہ برسوں بعد بیرونی دنیا میں ماکوندو کے باشندوں کا پہلا رابطہ ہے۔ خانہ بدوش اپنے ساتھ دنیا میں ہونے والی ایجادات لاتے ہیں جو اس مختصر سی بستی کے لوگوں کے لئے حیرتوں کے جہاں وا کرتی ہیں تب بوئندیا ایک تخلیق کار کی حیرت سے ان ایجادات کو قبول کرتا ہے اور اپنے طور پر ان امکانات کو کھنگالتا ہے جن کا ظہور ان ایجادات کی بدولت ممکن ہے۔ ماکوندو کی دنیا رسمی اخلاقیات کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہے۔ قانون اور کلیسا اس کی سرحدوں سے بہت دور ہیں۔ سب لوگ اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں۔
مارکیز اپنی تخلیقی قوت ”یاد“ کے مظہر سے حاصل کرتا ہے۔ وہ یادیں جو اس کے بچپن کے لاطینی امریکہ اور خاص طور پر کولمبیا کے معاشرے میں موجود حقیقت پر مبنی ہیں۔ جو بیسویں صدی کے یورپی معاشرے سے بالکل جدا ایک ایسی دنیا ہے جس میں بہت سے زمانے ایک ساتھ زندہ ہیں۔ کچھ دن پہلے ٹیلی ویژن نے ایک مختصر فلم دکھائی کہ پیرو کے ساحل کے پاس ایک غرق شدہ جہاز میں مرنے والوں کی روحوں کو بھگانے کے لئے وچ ڈاکٹروں سے ان کے مخصوص عمل کروائے گئے یہ ڈاکٹر جن کشتیوں میں سوار تھے ان کے کناروں پر صلیبیں بنی تھیں اور یہ اپنے جادوئی عمل سے مرنے والوں کی روحوں کو بھگارہے تھے۔ تو یہ وہ معاشرہ ہے جس میں مارکیز نے پرورش پائی ہے ۔ اس لئے وہ جب اپنے ارد گرد پھیلے لوگوں کا احوال اسی طرح بیان کرتا ہے جیسے وہ ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ اس کا اسلوب حقیقت نگاری (Realism) سے جدا کوئی چیز ہے کیوں کہ ہم نے حقیقت نگاری کی تعریف مغربی فکر اور معاشرت سے لی ہے جہاں چارسو سالوں کی عقلیت نے چیزوں کو دیکھنے کے سطحی نقطہ نظر کو عام کیا ہے۔ اردو ادب میں حقیقت نگاروں نے اپنی معاشرت میں موجود حقائق کو بیان کرنے کی بجائے مغرب سے مستعار تصوّرات کے تحت حقیقت کی ترمیم شدہ تصویر پیش کی ہے۔ اب ایک ایسا معاشرہ جس میں بہت سے زمانے ایک ساتھ سانس لے رہے ہوں۔ جہاں عقلیت کی بنیاد پر بننے والے ذہن کے ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اب بھی روح، جادو اور مافوق الفطرت قوتوں کی عمل کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ جہاں زرعی اور قبائلی معاشرت، صنعتی معاشرت کے پہلو بہ پہلو موجود ہے جہاں لوگ ماہر ترین معالج سے دوائی لینے کے بعد کسی پیر یا بزرگ کی درگاہ پر ثواب اور برکت کے حصول کے لئے حاضری دیتے ہیں تو ایسے معاشرے میں چیزوں کو سیدھی لکیر کے طور پر بیان کرنے سے سپاٹ حقیقت نگاری جنم لیتی ہے۔ مارکیز کے ذریعہ لاطینی امریکہ کے جس معاشرے سے میرا تعارف ہوا وہ مجھے اپنے ہاں کے معاشرے سے حیرت انگیز مماثلت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ مارکیز جس ماحول کی تعمیر کرتا ہے وہ مجھے اپنے ارد گرد سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں میں اسے ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر پڑھتا ہوں جو ہماری ہی کہانی بیان کررہا ہے۔
یادیں مارکیز کا وہ سرمایہ ہیں جن سے وہ اپنی تخلیقات کی بنیادیں استوار کرتا ہے اور پھر اپنے تخیل کی بے پناہ جولانی سے ایک طلسمی فضا کی تعمیر کرتا ہے۔ مارکیز کے دوست پلینیو اپولیو مینڈوزا (Plinio Apuleyo Mendoza) نے مارکیز کے تخلیقی سوتے کی طرف اپنے مضمون گابرئیل (Gabriel) میں یوں اشارہ کیا ہے۔
”وہ ناترانکیلینا (مارکیز کی نانی) اس مکان پر حکمران تھیں جس کو وہ بعدمیں ایک وسیع و عریض، قدیم مکان کے طور پر یاد رکھنے والا تھا، جس کے پائیں باغ میں تپتی ہوئی راتوں میں چنبیلی کی گاڑھی خوشبوئیں تیرتی رہتی تھیں اور جس کے بے شمار کمرے تھے جن میں سے گاہے بگاہے مرحوم رشتہ داروں کے آہیں بھرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ وہ ناترانکیلینا کا خاندان جھلتی ریت کے جزیرہ نما گواہرا سے تعلق رکھتا تھا جو مقامی انڈین باشندوں، اسمگلروں اور ساحروں کا مسکن تھا۔ وہ غیر معمولی چیزوں کے بارے میں اس طرح بات کرنے کی عادی تھیں گویا وہ روز مرہ کی باتیں ہوں۔ آہنی عزم کی مالک، پستہ قد اور بھینگی آنکھوں والی اس عورت کے ذہن میں مرے ہوﺅں اور زندوں کے درمیان سرحد واقع نہ تھی اور جوں جوں ان کی عمر میں اضافہ اور بینائی میں کمی ہوتی گئی یہ سرحد اور بھی زیادہ دھندلی ہونے لگی، یہاں تک کہ خاتمے کے قریب انہیں اکثر مُردوں سے باتیں کرتے اور ان کی آہیں، سسکیاں اور شکایتیں سنتے ہوئے پایا جاسکتا ہے۔“
(ترجمہ: اجمل کمال)
مارکیز کی ننھیال کا گھر، اس کا پُر ہیبت ماحول، اس کے ننھیالی رشتے دار، بار بار اس کے ہاں ظاہر ہوتے ہیں۔ مارکیز کا بچپن اپنے نانی نانا کے ہاں گزرا۔ وہ بڑوں کی دنیا میں گم ایک ایسا بچہ تھا جو اپنے ماحول کو سمجھنے اور اس میں اپنے مقام کا تعین کرنے میں سر کھپاتا لیکن اس کا حیرت سے پُر بچکانہ ذہن اس کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھا۔ یہ سوال آگے چل کر ساری زندگی مارکیز کا پیچھا کرنے والے تھے۔ بار بار اس کے ذہن کی سطح پر ابھر کر نت نئی شکلوں میں ظاہر ہونے والے تھے۔ غرض کہا جاسکتا ہے کہ مارکیز کا تخلیقی شعور، بچے کی حیرت، بڑے کی سمجھ بوجھ ، دانا کی حکمت اور متجسس ذہن کی تلاش اور جوانی کی جذباتیت سے عبارت ہے۔
مارکیز نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں جو کردار تراشے وہ روز مرہ زندگی میں نظر آنے والے معمولی لوگ نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں، خوبیوں اور جسمانی خصائص کے حامل افراد ہیں۔ مارکیز کو غیر معمولی افراد اور واقعات اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ان غیر معمولی کرداروں کو پیش کرنے کے لئے مارکیز جو فضا تیار کرتا ہے وہ بھی غیر معمولی عناصر سے پُر ہے۔ مافوق الفطرت عناصر، انسان، جانور، پودے، بے جان چیزیں، مُردے سب ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ مارکیز کی تحریروں میں ہمیں لاطینی امریکہ کا معاشرہ سانس لیتا نظر آتا ہے۔ اسے اپنی تحریروں میں کوئی غیر معمولی پن دکھائی نہیں دیتا جو مغربی نقاد اس میں دریافت کرتے ہیں۔ اجمل کمال نے مارکیز کے اسلوب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے۔
”مارکیز کے اسلوب کو بیان کرنے کے لئے مغربی دانش وروں نے ”طلسمی حقیقت نگاری“ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ مارکیز کو اس سے قطعی اتفاق نہیں، وہ اپنے اسلوب کو محض حقیقت نگاری کہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تخلیق کا سرچشم، آخری تجزیے میں، حقیقت ہی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں مبالغے کی کارفرمائی کم ہی دیکھتا ہے، لیکن بلاشبہ مارکیز کی حقیقت نگاری اس سہل انگار اسلوب سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی جو حقیقت کو یک رخا دیکھنے کی عادی ہے اور جس کا ہمارے ہاں بھی بہت چلن رہ چکا ہے۔ دوسری جانب اس کا حقیقت نگاری کے اس بے بنیاد رو سے بھی کچھ واسطہ نہیں، ہمارا آج کل کا بیشتر فنکشن جس کا شکار ہے ”آپ عقلیت کا برگ انجیر اسی وقت اتار کر پھینک سکتے ہیں“ مارکیز کہتا ہے ”جب آپ مکمل انتشار اور لغویت اور فینٹسی کی دلدل میں دھنس جانے کے خطرے سے آزاد ہوں۔ تخیل اور حواس سے کام لے کر اپنی حقیقت کو دریافت کرنے کے علاوہ لکھنے کے عمل کا نوے فیصد حصہ بڑھئی کے کام پر مشتمل ہے جس پر اس کے خیال میں لکھنے والے کو پوری طرح حاوی ہونا چاہئے“۔
”حقیقت کو پوری طرح اپنے شعور اور بیان کی گرفت میں لے آنا اسے تسخیر کرلینے ہی کی ایک شکل ہے۔ مارکیز کی تحریروں میں آپ یہی سحر دیکھیں گے اور اس کی حیرت اور مسرت سے گزرجانے کے بعد شاید یہ سوال باقی رہ جائے کہ آخر کیوں ہماری حقیقت ہمارے ادیبوں کی تحریروں میں اپنا مکمل اظہار پانے سے محروم ہے۔“
مارکیز کے اسلوب کے جن اجزا کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے ان کے علاوہ بھی کئی اہم عناصر ہیں جن میںسے ایک کی طرف میں اس وقت اشارہ کرنا چاہوں گا جیسا میں نے اوپر لکھا ہے کہ ”یاد“ مارکیز کے بنیادی سوتے کا درجہ رکھتی ہے۔ ماضی ایک ایسا خزانہ ہے جسے وہ بار بار کھنگالتا ہے اور ہر بار ایک نئے اسرار سے ہمیں متعارف کرواتا ہے لیکن مارکیز خود کو صرف ماضی کی یادوں تک محدود نہیں رکھتا۔ اس کے کردار اور وہ خود اپنے کرداروں کی مستقبل کی زندگی کو بھی پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔ اس خاص وقت میں رونما ہونے والا واقعہ اور حاصل ہونے والا تجربہ آگے چل کر کیا اثرات مرتب کرے گا اس کی جانب بھی وہ اشارے کرتا جاتا ہے اور یہ اس کا ایک امتیازی وصف ہے۔
مارکیز کے ادبی اور تخلیقی سفر کا آغاز ۰۵۹۱ءکے قریب ہوتا ہے۔ جب اس نے تعلیم چھوڑ کر اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اس نے کہانیاں لکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے پہلے ناول ”پتوں کا طوفان“ (Leaf Storm) پر کام کرتا رہا۔ ۵۵۹۱ءمیں ایک اخبار ”ایل ایسپیکتا دور“ کے نامہ نگار کی حیثیت سے اس نے یورپ کا سفر کیا۔ فرانس میں اس نے اپنے ناول ”کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا“(No one writes to the colonel) پر اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ ناول ۱۶۹۱ءمیں شائع ہوا۔ ”منحوس وقت“ (In Evil Hour) ۲۶۹۱ءمیں چھپا۔ اس دوران مارکیز کی آٹھ کہانیوں پر مشتمل مجموعہ (Big Mama’s Funeral) ۱۶۹۱ءمیں چھپ چکا تھا۔ مارکیز کے یہ ابتدائی افسانوی مجموعے اور ناول اس کے لئے کوئی ادبی مقام بنانے میں ناکام رہے۔ اگرچہ ان میں وہ تمام حالات و واقعات موجود ہیں جو آگے چل کر ”تنہائی کے سوسال“ میں زیادہ خوبصورتی اور ماہرانہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا کہ مارکیز یادوں سے تخلیقی انگیخت حاصل کرتا ہے۔ دوسرا وہ اپنی زندگی کے واقعات کو ناول اور افسانے کی بنیاد بناتا ہے اس لئے ہمیں اس کا فکشن(Auto Biographycal) نظر آتا ہے دوسرا واقعات و حالات کی تکرار ملتی ہے لیکن مارکیز کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر بار کسی واقعہ کو دہراتے ہوئے اس میںکسی نئی بات، پہلو یا سمت کا اضافہ کردیتا ہے۔
مارٹن لنگز (Martin Lings) نے ولیم شیکسپیئر پر اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ایک بڑا تخلیق کار اپنے طور پر کائنات کی تشکیل کرتا ہے، وہ جس دنیا میں رہتا ہے روز مرہ کی زندگی گزارتا ہے اس میں اپنی آزروئیں، خواہشات اور خواب شامل کرکے ایک نئی دنیا کی تخلیق جو پرانی دنیا سے بیک وقت مماثل اور متضاد ہوتی ہے۔ اسی طرح جوزف کارٹرڈ (Joseph Corand) نے ایک جگہ فکشن اور غیر فکشن میں فرق اس طرح کیا ہے کہ فکشن دنیا کی تخلیق(Create) کرتا ہے اور غیر فکشن دنیا کو پیش کرتا ہے۔ مارکیز کے ہاں ہمیں ایک نئی دنیا کی تخلیق کی کوشش نظرآتی ہے۔ اس نے ابتدا میں اپنی کہانیوں اور ناولوں میں اس دنیا کو اجزا میں تخلیق کیا۔ مثلاً” پتوں کاطوفان“ میں وہ عناصر کافی حد تک موجود ہیں جو اس کے بعد کے بڑے فکشن کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ ”ماکوندو“ گارسیا مارکیز کے خواب نگر(Dream Town) کے نقوش ابھرنے لگے تھے۔ انسان کی خارجی دنیا کی ویرانی اور انسان کا اپنی گزاری ہوئی زندگی کے ساتھ شدید وابستگی کا رویہ ناول میں ظاہر ہوچکا تھا۔ اسی طرح کا معاملہ اس کی کہانیوںکا ہے جو دو مجموعوں کی شکل میں شایع ہوئیں اور پھر ”منحوس وقت“ ایک بار پھر قصبے کی زندگی پر غیر معمولی واقعات کے ظہور اور قصبے کی ہم آہنگ زندگی میں رخنہ اندازی کو پیش کرتا ہے۔ ”پتوں کے طوفان“ کا ابتدائیہ بھی ایک سطح پر ”تنہائی کے سوسال“ کے ابتدائیے سے مماثل ہے۔ پہلے ناول میں ابتدائی منظر ایک تدفین کا ہے اور پھر وقت میں پیچھے کی طرف سفر (Flash Back) سے ہوتا ہے۔ ”تنہائی کے سو سال“ میں ابتدا کرنل کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرتے ہوئے وقت میں پیچھے کی طرف سفر میں پورا ناول کھلتا (Unfold) ہوتا ہے۔ منحوس وقت(In Evil Hour) میں ہمیں لاطینی امریکہ کا ایک خوابیدہ قصبہ کے پرسکون ماحول میں ہلچل مچادیتے ہیں اور قصبے امراءکی زندگی کے خفیہ گوشوں کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ پورے قصبے کو جیسے ایک دم بدی کی بہت سی قوتیں اپنے گھیرے میں لیتی ہیں۔ ان واقعات کا مرکزی کردار قصبے کا میئر ہے جو جائزو ناجائز طریقے سے دولت سمیٹنے میں مصروف ہے۔ وہ قصبے کے لوگوں کو بتاتا ہے کہ ہم مہذب اور پُرامن قصبہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو قصبے کی ایک عورت جواباً طنز کرتی ہے کہ تمہاری آمد سے پیشتر یہ قصبہ ایسا ہی تھا یہ جگہ ہمیں پھر ”تنہائی کے سوسال“ کی طرف لے جاتی ہے۔ جب قصبہ میں پہلی بار داخل ہونے والے مجسٹریٹ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ قصبہ کے لوگ کسی بیرونی عنصر کو اپنے اندر جگہ دینے کو تیار نہیں تاکہ وہ ان کی زندگی کے ڈھرے میں رخنہ اندازی نہ کر سکے۔ مارکیز کے نقاد مائیکل وڈ نے مارکیز کی تحریروں میں مماثلات کے بارے میں لکھا ہے۔
”پتوں کا طوفان“ (۵۹۹۱ئ) میں گارسیا مارکیز کوندو کی دنیا کو دریافت کرنا شروع کرتا ہے۔ ماکوندو منطقہ حارہ کی بارشوں کا شکار، کیلے کے باغوں والا قصبہ جو ”تنہائی کے سو سال“ کا محل وقوع ہے اور جو ”بڑی ماما کا جنازہ“ نامی مجموعے کی کہانیوں میں، کبھی اپنے نام کے ساتھ اور کبھی گمنام نمودار ہوتا ہے۔ گارسیا مارکیز انکسار کے ساتھ بالزاک اور فاکنر کی پیروی کرتے ہوئے، کرداروں اور واقعات کی جابجا تکرار سے کام لیتا ہے۔ اس طرح کہ کہانی کے ٹکڑے بہتے بہتے ایک متن سے دوسرے متن میں چلے جاتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت بھی پیش آتا ہے۔ مثلاً”کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا، منحوس وقت اور ایک پیش گفتہ موت کی روداد“ میں جب یہ مقام ماکوندو میں بلکہ اس بے نام ملک کے اسی حصے میں واقع ایک اور قصبہ ہے جہاں ریلوے لائن نہیں ہے اور جہاں تک صرف دریائی کشتی سے پہنچا جاسکتا ہے۔ خود مارکیز نے ایک جگہ کہا ہے ”عام طور پر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ادیب ایک ہی کتاب لکھتا ہے، اگرچہ واحد کتاب کئی جلدوں میں مختلف عنوانات کے تحت شایع ہوتی ہے۔ یہ بات آپ کو بالزاک، کونریڈ، میلول اور بلاشبہ فاکنر کے ہاں نظر آتی ہے۔ (امرود کی مہک، ترجمہ اجمل کمال)
تنہائی کے سو سال (One Hundred Years of Solitude)۷۶۹۱ءمیں چھپا اور اس کے ساتھ ہی مارکیز کی عالم گیر شہرت کا آغاز ہوتا ہے۔ اسے (The Magnificent Family Chronicle)کہا گیا ہے۔ اس ناول میں ہمیں بانڈو خاندان کے عروج و زوال کی کہانی ملتی ہے۔ اس ناول میںہمیں متضاد موضوعات ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو نظر آتے ہیں۔ موت، پیار، جنگ، امن، جوانی، بڑھاپا، ان موضوعات کے ساتھ ناول کی خوابناک فضا قاری کے باطن میں سلگنے کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس ناول میں ہم قدم قدم پر حیرت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ حیرت حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے انوکھے پن سے پیدا ہوتی ہے۔ اس ناول میں مارکیز کی ابتدائی زندگی کے حالات و واقعات اس کی اپنی نانی اور خالاﺅں سے سنی زبانی روایات اور داستانیں ایک بڑے کینوس پر متشکل ہوتی ہیں۔گارسیا مارکیز کا زرخیز تخیل ان کہانیوں کو حیرت انگیز شکل دینے لگتا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ میں ایک واقعہ ہے جب ماکوندو کے باشندے اپنی یادداشت سے محروم ہونے لگتے ہیں تو جوزے آرکادیو بوئڈیا (قصبے کا خالق)لوگوںکے لئے اشیا کے نام اور ان کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لئے تحریر سے مدد لیتا ہے تو ہمیں گمان ہوتا ہے کہ اب لوگوں کی زندگیوں میں زبانی روایت کی جگہ تحریر لے رہی ہے۔ زبانی روایت لچک دار طرز فکر کی نمائندہ ہے جس میں لوگ اپنے اپنے زمان و مکان کے مطابق تبدیلی کرتے چلے آئے تھے۔ اب اس جگہ تحریر نے لے لی ہے جو بے لچک ہے جس میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ زبانی روایت اجتماعی ملکیت ہے اس کے حقوق پورے گروہ یا قوم کے نام محفوظ ہوتے ہیں جب کہ لکھی تحریر پر اس کے مصنف کا حق فائق سمجھا جاتاہے۔ یوں ناول کا ایک معمولی واقعہ انسانی تہذیب میں آنے والی ایک فیصلہ کُن اور پیچیدہ تبدیلی کا استعارہ بن جاتا ہے۔
”تنہائی کے سوسال“ میں ہمیں وقت کی تباہ کاریاں اور تقدیر کا جبر بہت اہم موضوع کے طور پر ملتے ہیں جوزے آرکادیو بوئندیا جس انجام سے بچنے کے لئے اپنی بستی کو چھوڑتا ہے وہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ بوئندیا خاندان کی سوسالہ تاریخ میں انہیں جگہ جگہ سزاملتی ہے اور وہ اپنے بزرگ کے کرم کا پھل پاتے ہیں۔ گارسیا مارکیز نے خود بوئندیا خاندان کی تنہائی کا منبع، اس خاندان میں محبت کے فقدان کو قرار دیا ہے لیکن ظاہری سطح پر تو اس خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے چمٹے نظر آتے ہیں جو لوگ گھر چھوڑ جاتے ہیں وہ بھی بالآخر اس جگہ واپس لوٹتے ہیں۔ ناول میں مکاں کی حرکت نہ ہونے کے برابر ہے ساری حرکت زماں میں ہے۔ لوگ، واقعات سب ایک دوسرے کو دُہرا رہے ہیں۔ مرنے والے نئے پیدا ہونے والوں کی صورت دوسرا جنم لیتے ہیں۔ گارسیا مارکیز نے بعض جگہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرکے تقدیر کی جبریت کو نمایاں کیا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ سے زیادہ اس موضوع پر ”ایک پیش گفتہ موت کی روداد“ (Chronicle of a Death Foretold) میں زیادہ وضاحت سے اظہار ملتا ہے۔ دوسرا مارکیز کے کم و بیش تمام ناولوں کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے ناول میں رونما ہونے والے واقعات پہلے ہی رونما ہوچکے ہوتے ہیں۔ تب (Flash Back) سے ناول اپنے نقطہ¿ آغاز پر آتا ہے اور رفتہ رفتہ اس انجام تک پہنچتا ہے جو اس کے لئے پہلے ابتدا میں طے کیا جاچکا ہے۔ اس ساری ساخت کے پیچھے تقدیر کی جبریت (Determination) کی جکڑ محسوس ہوتی ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ کے آخر میں ہمیں کوندو کے قصبے پر ایک طوفان بادِ باراں کی یلغار نظر آتی ہے۔ تو ہمیں مارکیز کا یہ خوابوں کا قصبہ معدوم ہوتا نظر آتا ہے اور مارکیز کے تخلیقی سفر کے جاری رہنے کے لئے ضروری تھا کہ اب اس کے فکشن میں زمان کے ساتھ ساتھ مکاں کی تبدیلی بھی واقع ہو مارکیز کے لئے ضروری تھا کہ اب اس کے فکشن میں زمان کے ساتھ ساتھ مکاں کی تبدیلی بھی واقع ہو مارکیز نے اس ناول کو جس جملے پر ختم کیا ہے۔ وہ ناول کی معنویت کو مزید اجاگر کردیتا ہے۔
Before reaching the final line, however, he had already under stood that the city of mirrors (or Mirages) would be wiped out by the wind and exiled from the memory of men at the precise moment when Aurchiano Babiliona would finish deciphering the parchments, and that everything written on theme was unrepeatable since time un-memorial and forever, more, because races condemned to one hundred years of solitude didnot have a second opportunity on earth.
مارکیز کے اسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ فرد کے خارج و باطن، سماجی، سیاسی، شخصی سطحوں کو ایک دوسرے میں اس طرح گوندھتا ہے کہ ایک پیچیدہ متن تشکیل پاجاتا ہے۔ قاری اس متن کی مختلف سطحوں سے لطف اٹھاتا ہے۔ مارکیز کی فنی پختگی بیان پر اس گرفت کو جنم دیتی ہے جس سے مختلف فکری سطحیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اپنے امتیازات کو قائم بھی رکھتی ہیں اور ایک بڑے دائرے میں ایک دوسرے میں تحلیل بھی ہوجاتی ہیں۔ یہ فکشن کے فن کی معراج ہے اور ”تنہائی کے سوسال“ اس طرز کا اعجاز ہے۔
مارکیز نے اپنے دوست پلینیو میندوزا(Plinio Apuleyo Mendoza) کے ساتھ ایک طویل مکالمہ کیا جو ۳۸۹۱ءمیں امرود کی مہک(The Fragnance of Guava) کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں مارکیز نے اپنی زندگی، فن، سیاست، لاطینی امریکہ کی صورت حال اور اپنے تخلیقی رویوں کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ اپنے تخلیقی تجربے کی وضاحت اس نے یوں کی ہے۔
”میں سمجھتا ہوں دوسرے ادیبوں کے لئے کتاب کا جنم کسی خیال یا کسی تصور سے ہوتا ہے۔ میری ہر تحریر کسی بصری منظر سے جنم لیتی ہے۔“
(ترجمہ اجمل کمال)
ناول کی حقیقت کے بارے میں وہ کہتا ہے۔
”میرے خیال میں ہر ناول کی ایک شاعرانہ تقلیب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک ناول خفیہ کوڈ میں بیان کی گئی حقیقت ہے، دنیا کے بارے میں ایک قسم کی پہیلی۔ ناول میں آپ جس حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں وہ اصل زندگی کی حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کی جڑیں اسی میں ہوتی ہیں۔ یہی بات خوابوں کے بارے میں بھی درست ہے۔
(ترجمہ: اجمل کمال)
اسی طرح گارسیا مارکیز نے اپنے ناولوں کے کرداروں کے پیچھے موجود حقیقی افراد کا حوالہ دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ فکشن نگار کے قلم سے ان کرداروں کی تقلیب ہوجاتی ہے۔ اب ”وبا کے دنوں میں“ (Love In the times of cholera) کی ابتدا عشق کے جس تجربے سے ہوتی ہے وہ دراصل اس کے اپنے ماں باپ کی شادی کی کہانی ہے لیکن مارکیز نے اپنے فکشن میں صورت حال کو بالکل جدا رنگ میں پیش کیا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ کے بعد مارکیز کے اب تک پانچ ناول اور کہانیوں کے دو مجموعے شایع ہوچکے ہیں۔ لیکن ان میں ”وبا کے دنوں میں محبت“ جو ایک بڑا تخلیقی تجربہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ اور ”وبا کے دنوں میں محبت“ کو اگر ساتھ ساتھ رکھ کر پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک تخلیق کار کے ہاں زبان و بیان اور اسلوب کا تنوع، زمان و مکان کی تبدیلی اور بہت سے دیگر اختلافات کے باوجود مختلف سمتوں میں بڑے تخلیقی تجربے ہوسکتے ہیں۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بڑی تخلیق کو کسی فارمولے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں ناولوں میں اختلافات کے ساتھ ساتھ کئی مشترک باتیں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی مارکیز کی یادوں سے ابھرتا ہے۔ اس کے کردار اور حالات و واقعات بھی مارکیز کی زندگی کے حقیقی کردار و واقعات ہیں۔ اپنی ابتدا میں یہ ناول بھی واقعات کے ہوچکنے کے بعد کی داستان سناتا ہے۔ ناول میں محبت کی ایسی کہانی ہے جو اپنے اندر جبریت کا وہی عنصر لئے ہوئے ہے جو ہمیں مارکیز کے فکشن میں نظر آتا ہے لیکن یہاں ہمیں مارکیز کرداروں کی زندگی کو بیان کرتا نظر آتا ہے۔ وقت رفتہ رفتہ خستگی اور بوسیدگی پیدا کررہا ہے۔ جوان جسم بڑھاپے کی چادر اوڑھ رہے ہیں۔ ان کرداروں کے اردگرد کی دنیا تغیرات کی زد پر ہے۔ ہر چیز بدل چکی ہے لیکن فلورنیشیو آریزا (Florentino Ariza) کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی جو وہ فرنینا دازا (Fernina Daza) کے لئے محسوس کرتا ہے۔ وہ فرنینا دازا کی بیوگی کی پہلی رات اکیاون سال، نو ماہ اور چار دن کے بعد ایک بار پھر اس کے لئے اپنی لافانی محبت اور وفاداری کی تجدید کرتا ہے۔
فنی سطح پر ایک انحراف جو ”تنہائی کے سوسال“ سے ”وبا کے دنوں میں محبت“ میں نظر آتا ہے وہ بیانیہ کے انداز کا ہے ۔ ”وبا کے دنوں میں محبت“ میں ہمیں بیانیہ کی وہ تہہ داری تو نظر نہیں آتی کیونکہ یہاں پلاٹ کی تشکیل صرف عشق کی داستان پر کی گئی ہے۔ دوسرا ”وبا کے دنوں میں محبت“ کی مرکزی کردار فرنینا دازا جذبے کے مقابلے میں عقل کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔ وہ فلورینشیو آریزا سے اپنی محبت کے زمانے کی یادوں سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
مارکیز کی تحریروں میں” محبت“عقل سے ماورا جذبہ نظر آتی ہے۔ اس کا واضح رجحان عقلیت اور خاص طور پر مغرب میں پروان چڑھنے والی عقل کی محدود تعریف سے گریز کا ہے۔ مارکیز کی تحریروں میں ہمیں جبلتیں، جذبے اور غیر عقلی عناصر کرداروں کو اپنی گرفت میں لئے نظر آتے ہیں۔ عقلی باتوں کو ٹھکرا کر مارکیز کے کردار فوک دانش (Folk Wisdom)کو قبول کرتے ہیں اور ان کے یہاں فطرت سے ہم آہنگی کا وہ رویہ نظر آتا ہے جو مغربی ادب میں خال خال ملتا ہے چونکہ خود مارکیز نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نسلی اعتبار سے اس میں ہسپانوی، کریبین اور افریقی اثرات موجود ہیں۔ اس لئے بلاواسطہ وہ مشرق میں پروان چڑھنے والے رویوں کا حامل بھی نظر آتا ہے جہاں فطرت پر غلبہ پانے اس میں مدغم ہوجائے کی بجائے فطرت اور انسانی وجود میں امتیاز باقی رکھتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک ایسے آہنگ کی تلاش کی جاتی ہے جہاں دونوں کے اپنے اپنے وجود بھی سلامت رہیں اور دونوں ایک وسیع کل کا حصہ بھی نظر آئیں۔
”وبا کے دنوں میں محبت“ مارکیز کے پسندیدہ موضوع ہی سے عبارت ہے وقت کی تباہ کاری، قربانی، غیر عقلی رویے (آریزا کا ) لیکن اس میں ایک نئی سمت کا اضافہ یوں ہے کہ آریزا کو یقین ہے کہ مستقبل میں وہ دازا کو پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ڈاکٹر آرینو کو اس سے پہلے مرنا ہوگا یہ اس کی قسمت میں لکھا جاچکا ہے۔ آریزا کا اپنی بات پر یقین عقیدے کے درجے پر پہنچا ہوا ہے ۔ وہ ساری زندگی اس ساعت کا انتظار کرنے میں گزاردیتا ہے جب وہ اپنی کھوئی محبت کو پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ بقول مارکیز وہ محبت کی ایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا جس کا انجام طربیہ ہو۔ یہ کہانی مارکیز نے بہت کامیابی سے لکھی ہے لیکن حقیقی زندگی میں کتنے عاشق اس قدر خوش قسمت ہوسکتے ہیں کہ انہیں اپنی کام یابی کے لئے اکیاون سال، نو ماہ اور چار دن کی مہلت مل سکے۔ دل چسپ صورتحال یہ ہے کہ خود مارکیز نے جب ۵۸-۴۸۹۱ءمیں یہ ناول مکمل کیا تھا اس کی اپنی عمر بھی کم و بیش اکیاون باون سال ہی تھی۔ ایک سطح پر یہ ناول مارکیز کی تخلیقی زندگی کا استعارہ بھی بنتا ہے۔ جب ناول کے آخر میں آویزا اپنی محبت کے سفر کے ابد تک جاری رہنے کا تذکرہ کرتا ہے۔
۵۸۹۱ءسے اب تک مارکیز کے دو ناول (The General in his Labyrinth) اور (Of Love and other Demons) اور ایک کہانیوں کا مجموعہ(Strange Pilgrims) ہوچکے ہیں۔ (اس مضمون میں غیر فکشن تحریروں سے بحث نہیں کی گئی) مارکیز کی بارہ کہانیوں میں ہمیں پہلی بار مارکیز اپنی مخصوص یادوں سے باہر نظرآتا ہے۔ اس میں جدید زندگی کے بعض پہلوﺅں کو اپنا موضوع بنایا گیا ہے۔ مثلاً (Sleeping Beauty and The Airplace) دنیا کی خوبصورت ترین عورت نشست کے ساتھ والی سیٹ پر آٹھ گھنٹے کے طویل سفر کی روداد ہے جو اس خوبصورت عورت نے سونے کی حالت میں کیا ہے۔ آخرتک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واقعی اس عورت کا کوئی وجود بھی تھا یا سب کچھ مرد کردار کی فینٹسی تھی۔ اس مجموعے میں شامل وہ کہانیاںخاص طور پر توجہ طلب ہیں ایک (I only came to use the phone) اور دوسری (The Saint) ہے۔ پہلی کہانی (Maria de la luz Cervantes) پاگل خانے کے مریضوں اور ڈاکٹروں کے علاوہ اپنے خاوند کو بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کررہی ہے کہ پاگلوں کی بس میں اس لئے سوار ہوئی کہ اس کی گاڑی خراب ہوگئی تھی اور قریب میں کوئی فون موجود نہیں تھا۔ اس کہانی میں بعض جگہ ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے واقعی وہ درست کہہ رہی ہے لیکن آخر تک جاتے جاتے حقیقت اور افسانے کی حدیں پھر دھندلاجاتی ہیں۔
(The Saint) ایک ایسے کردار کو سامنے لاتی ہے جو دور دراز کا سفر کرکے روم آیا تاکہ وہ پوپ کو ایک معجزے کے بارے میں بتائے لیکن برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے اور کسی کو اپنی بات پر یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر میں (Margarito Duarte) خود ولی کے روپ میں ڈھل جاتا ہے۔ بے انتہا مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود اس کا اعتقاد متزلزل نہیں ہوتا۔ ایک معجزے کے واقعی ظہور پذیر ہونے کے بارے میں دوسروں کو متفق کرنے میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا اعتقاد ایک ولی ہی کا ہوسکتا ہے یا پھر ولی بننے کے لئے ایسے ہی اعتقاد کی ضرورت پڑتی ہے۔
محبت اور دوسرے آسیب (Of Love and Other Demons) جنوبی امریکہ کے ساحل پر نوآبادیاتی عہد میں جنم لینے والی کہانی ہے۔ سرویاماریہ (Seirva Maria) ایک معزز خاندان کی اکلوتی اولاد ہے جو اپنے باپ کے مکان میں غلاموں کے کوارٹر میں پرورش پاتی ہے۔ ماریا کا کردار اپنی خصوصیات کے اعتبار سے تنہائی کے سوسال کے کردار Rabicaکی یاددلاتا ہے۔ اپنی زندگی کے بارہویں سال لڑکی کو ایک پاگل کتا کاٹتا ہے جس کے بعد اس میں جنون کے آثار پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس کا باپ ڈاکٹر سے علاج کرواتا ہے لیکن چرچ کے مجبور کرنے پر اسے اپنی بیٹی کو ان کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ (Father Cayetavo Delaura) خواب میں ایک ایسی لڑکی سے مل چکا ہے،جس کے لمبے بال اس کے گھٹنوں تک آتے ہیں۔ (Father) لڑکی کو آسیب سے چھٹکارا دلاتے دلاتے خود ایک آسیب میں گرفتار ہوجاتا ہے اور اپنی عبادت، نیکی اور پرہیزگاری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس ناول میں مارکیز محبت کو ایک تخریبی قوت کے طور پر بیان کررہا ہے جو ایک آسیب کی طرح فرد کی شخصیت کے تارو پود بکھیر دیتی ہے۔وبا کے دنوں میں محبت، فرد کی شخصیت کو ایک مرکزہ عطا کرتی ہے۔ ان دو ناولوں میں مارکیز نے محبت کے متضاد روپ پیش کیے ہیں اور ایسی فنکارانہ مہارت سے کہ قاری بہ یک وقت دونوں میں ایک جیسی کشش محسوس کرتا ہے۔ اس ناول کا بیانیہ اکہرا ہے زمان و مکان کے اعتبار سے اس کا دائرہ محدود ہے۔ زمان و مکان میں کرداروں کی حرکت بہت معمولی سی ہے۔ صر ف دو کردار ماریا اور ڈیلایورا قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود مارکیز کے بیانیہ کی سحر انگیزی قاری کو پہلی سطر سے آخر تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ ناول ”تنہائی کے سوسال“ اور ”وبا کے دنوں میں محبت“ کے پائے کا تونہیں لیکن بلاشبہ مارکیز کے اچھے ناول میں شمار ہوگا۔
گارسیا مارکیز کے آخری ناول (Memories of my Melancholy Whores)کا ترجمہ اردو کے مایہ ناز مترجم اور افسانہ نگار محمد عمر میمن نے اپنی ”سوگوار بیسواﺅں کی یادیں“ کے عنوان سے کیا۔ یہ ۶۰۰۲ءمیں اشاعت پذیر ہوا۔ اس ناول کی کہانی ایک ایسے بوڑھے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی کے نوے سال مکمل ہونے پر اپنے آپ کو ایک جیتا جاگتا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ تحفہ کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بھر کی بے حجابانہ عیش کوشی کا تحفہ ہے۔ اس ناول میں ہمیں محبت کی جستجو، انسانی محرومی اور اس محرومی سے اُس کے کردار پر مرتب ہونے والے اثرات اور آرزو کی بدولت پیدا ہونے والے حوصلے کے تصورات ملتے ہیں۔ اس ناول میں المیہ لے کافی حاوی ہے لیکن بعض جگہ یہ المیہ مزاج میں بھی تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس ناول کو فنی معیار پر پرکھا جائے اور مارکیز کے اعلیٰ کام کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی قدروقیمت متعین کی جائے تو یہ مجھے ایک بوڑھے تخلیق کار کی ذہنی عیاشی معلوم ہوتا ہے۔
آخر میں اتنا عرض کردینا ضروری ہے کہ گارسیا مارکیز عالمی سطح پر ایک ایسے ناول نگار کے طور پر جانا اور مانا جاتا رہے گا جو ساری دنیا کے ادیبوں اور قارئین کے لئے حیرتوں کے نئے جہان تخلیق کرتا رہا ہے۔ اس نے دنیا کے ایک پس ماندہ خطے سے تعلق رکھتے ہوئے مغربی معاشرے میں اپنے تخلیقی تجربوں سے بڑا مقام بنایا، وہ اگرچہ اب ہم میں نہیں لیکن اس کا خواب نگر ”ماکوندہ“ ہمیشہ آباد رہے گا۔
پس ماندہ ممالک کے لکھنے والوں کے لئے وہ ایک ایسی ہستی کی مثال ہے جس کو پڑھنا، سمجھنا اور اس سے سیکھنا قابل فخر بات ہے۔ اس نے چھوٹے ممالک کے لکھنے والوں میں موجود اُس احساسِ کمتری کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو مغرب کی چکا چوند سے پیدا ہوتا ہے۔ مارکیز کے ہاں ہمیں کسی مغربی ادیب یا مغربی روایت کی نقالی نہیں ملتی بلکہ وہ اپنے مقامی حالات، کرداروں، محسوسات اور تجربات کو پیش کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمارے ادیب بھی عالمی ادب میں اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔
لاطینی امریکہ کے لکھنے والوں نے ادب میں ایک نئی اختراع کی، اسے طلسمی حقیقت نگاری(Magical Realism) کہا جاتا ہے۔ اس طرز کی ایجاد کا سہرا تو میکسیکو کے ناول نگار حوان رُلفو کے سرجاتا ہے۔ حوان رُلفو کا ادبی سرمایہ قیمت میں تو مختصر ہے صرف ایک ناول پیڈرو پرامو اور چند افسانے، مگر کیفیت کے اعتبار سے حوان رُلفو کسی پڑھنے لکھنے والے سے کم نہیں ہے۔ خود گارسیا مارکیز نے اعتراف کیا ہے کہ اُس کے لئے ”پیڈرو پرامو“ کو دریافت کرنا کافکا کی ”کایا چکر“کی دریافت جیسا تھا۔ مارکیز نے ایک ہی رات میں اس ناول کو خود کئی بار ختم کیا اور پھر اِسے اتنی لگن اور دلچسپی سے پڑھا کہ یہ ناول اُسے تقریباً زبانی یاد ہوگیا۔ حوان رُلفو کے اس ناول کو اب اردو کے نامور شاعر احمد مشتاق نے ”بنجر زمین “ کے عنوان سے ترجمہ کیا ہے۔ اسی طرح حوان رلفو کی چند کہانیاں بھی اسد محمد خان اور اجمل کمال کی وساطت سے اردو ترجمے کا روپ دھار چکی ہیں۔ مارکیز نے حوان رُلفو سے سیکھا اور پھر اُسے فنی کمال تک پہنچا دیا۔
مارکیز کا تخیل مجھے ان داستان سنانے والوں کی یاد دلاتا ہے جو اپنے لفظوں سے طلسم تخلیق کرتے تھے اور سننے / پڑھنے والے اس طلسم میں کھو سے جاتے تھے۔ طلسم کے معنی ہی یہ ہیں کہ سب کچھ نظر کا دھوکہ ہو لیکن دیکھنے والوں کو اس پر ایسا اعتبار آئے کہ فریب‘ حقیقت میں ڈھل جائے اور انسان اس میں ایسا اسیر ہو کہ باہر نکلنے کا راستہ تک نہ ملے۔ تنہائی کے سو سال (One Hundred Years of Solitude) پڑھتے ہوئے مجھے یہی گمان گزرا۔ جیسے میں ایک ایسی دنیا میں داخل ہوچکا ہوں جس میں انسان، روحیں، چرند، پرند اور پودے سب ایک دوسرے سے گندھے ہوئے ہیں۔ مارکیز کے قدم سختی سے زمین میں گڑے ہیں لیکن اس کے تخیل کی اُڑان ایسے کردار تراشتی ہے جو ہاتھوں کی قوت سے طاقتور بیل کو روک سکتے ہیں۔
جوزے آرکادیو (Jose Arcadio) کی علامت اتنی بڑی ہے کہ اس کی والدہ جب پہلی بار دیکھتی ہے تو خوف اور فخر سے کانپ جاتی ہے پراسرار بیماریاں حملہ آور ہوکر سارے قصبے کو اپنی تحویل میں لے لیتی ہیں۔ تب کہیں سے ایک خانہ بدوش بوڑھا نمودار ہوتا ہے اپنے محلول کے چند قطروں سے تمام قصبے کو نجات دلاتا ہے۔ قتل ہونے والے انسانوں کی روحیں اپنے قاتل کو پریشان کرتی ہیں۔ اپنے زخموں سے بہتے خون کو روکنے کے لئے پانی کی تلاش میں مقتول کے گھر میں بے چین و پریشان پھرتی ہیں۔ قتل ہونے والے کی روح جوزے آرکادیو بوئندیا (Jose Arcadio Buendia) سے انتقام لیتی ہے اور اسے اپنی بستی چھوڑ کر ایک نئے جہان کی تلاش میں نکلنا پڑتا ہے۔ اس سے ناول نگار اس نئے جہاں کی تخلیق کرتا ہے جو ”تنہائی کے سو سال“ میں ہمارے سامنے آشکار ہوتا ہے۔
ناول کا آغاز لاطینی امریکہ کے نو آبادیاتی بننے کے عمل کے آغاز سے شروع ہوتا ہے جب قزاق سر فرانسز ڈریک (Sir Francis Drake) سولہویں صدی میں ریوہا چا(Riohacha) پر حملہ آور ہوتا ہے۔ تب ارسلا کے آباﺅ اجداد کو ہجرت کرکے مقامی انڈین کی ایک پُرسکون بستی میں جانا پڑتا ہے جہاں بوئندیا کے اجداد سے ان کی رشتہ داری استوار ہوتی ہے۔ جو آئندہ تین صدیوں تک ایک مضبوط بندھن میں ڈھل جاتی ہے۔ انہی خاندانوں کے دو افراد ارسلا اور بوئندیا جب آپس میں شادی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں خاندانوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ آپس میں شادیوں سے عجیب الخلق بچے پیدا ہورہے ہیں۔ ارسلا اور بوئندیا شادی کے بعد ایک بددعا کے اثر میں ہیں اور اس سے نجات پانے کے لئے ایک لمبے سفر پر نکلتے ہیں۔ آپ نے دیکھا کہ ناول کی کہانی ابتدا ہی میں داستان اور طلسم کے عناصر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس سفر کا اختتام دو سال کے بعد ایک بے آباد علاقے میں دریا کے کنارے پر ہوتا ہے جہاں بوئندیا پڑاﺅ ڈالتا ہے اور ایک نئے جہاں کی تخلیق کا آغاز ہوتا ہے۔ اس جہان کا خالق خود ایک بچے یا ابتدائی انسان کی حیرت سے دنیا کو دیکھ رہا ہے۔ ماکوندو (Macondo) مارکیز کا خواب نگرجسے اس نے خودتخلیق کیا ہے۔ جس کی گلیوں، گھروں کا نقشہ اس کا اپنا تیار کردہ ہے یہ قصبہ بار بار مارکیز کے تخلیقی شعور میں ابھرتا ہے۔ ماکوندو ہی ہے جہاں چیزیں اور انسان ایک ابدی آہنگ میں زندہ ہیں۔ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے کہ ایک دن مارچ کے مہینے میں مفلوک الحال خانہ بدوشوں کاقبیلہ گاﺅں کے قریب ڈیرے ڈالتا ہے یہ برسوں بعد بیرونی دنیا میں ماکوندو کے باشندوں کا پہلا رابطہ ہے۔ خانہ بدوش اپنے ساتھ دنیا میں ہونے والی ایجادات لاتے ہیں جو اس مختصر سی بستی کے لوگوں کے لئے حیرتوں کے جہاں وا کرتی ہیں تب بوئندیا ایک تخلیق کار کی حیرت سے ان ایجادات کو قبول کرتا ہے اور اپنے طور پر ان امکانات کو کھنگالتا ہے جن کا ظہور ان ایجادات کی بدولت ممکن ہے۔ ماکوندو کی دنیا رسمی اخلاقیات کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہے۔ قانون اور کلیسا اس کی سرحدوں سے بہت دور ہیں۔ سب لوگ اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں۔
مارکیز اپنی تخلیقی قوت ”یاد“ کے مظہر سے حاصل کرتا ہے۔ وہ یادیں جو اس کے بچپن کے لاطینی امریکہ اور خاص طور پر کولمبیا کے معاشرے میں موجود حقیقت پر مبنی ہیں۔ جو بیسویں صدی کے یورپی معاشرے سے بالکل جدا ایک ایسی دنیا ہے جس میں بہت سے زمانے ایک ساتھ زندہ ہیں۔ کچھ دن پہلے ٹیلی ویژن نے ایک مختصر فلم دکھائی کہ پیرو کے ساحل کے پاس ایک غرق شدہ جہاز میں مرنے والوں کی روحوں کو بھگانے کے لئے وچ ڈاکٹروں سے ان کے مخصوص عمل کروائے گئے یہ ڈاکٹر جن کشتیوں میں سوار تھے ان کے کناروں پر صلیبیں بنی تھیں اور یہ اپنے جادوئی عمل سے مرنے والوں کی روحوں کو بھگارہے تھے۔ تو یہ وہ معاشرہ ہے جس میں مارکیز نے پرورش پائی ہے ۔ اس لئے وہ جب اپنے ارد گرد پھیلے لوگوں کا احوال اسی طرح بیان کرتا ہے جیسے وہ ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ اس کا اسلوب حقیقت نگاری (Realism) سے جدا کوئی چیز ہے کیوں کہ ہم نے حقیقت نگاری کی تعریف مغربی فکر اور معاشرت سے لی ہے جہاں چارسو سالوں کی عقلیت نے چیزوں کو دیکھنے کے سطحی نقطہ نظر کو عام کیا ہے۔ اردو ادب میں حقیقت نگاروں نے اپنی معاشرت میں موجود حقائق کو بیان کرنے کی بجائے مغرب سے مستعار تصوّرات کے تحت حقیقت کی ترمیم شدہ تصویر پیش کی ہے۔ اب ایک ایسا معاشرہ جس میں بہت سے زمانے ایک ساتھ سانس لے رہے ہوں۔ جہاں عقلیت کی بنیاد پر بننے والے ذہن کے ساتھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اب بھی روح، جادو اور مافوق الفطرت قوتوں کی عمل کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ جہاں زرعی اور قبائلی معاشرت، صنعتی معاشرت کے پہلو بہ پہلو موجود ہے جہاں لوگ ماہر ترین معالج سے دوائی لینے کے بعد کسی پیر یا بزرگ کی درگاہ پر ثواب اور برکت کے حصول کے لئے حاضری دیتے ہیں تو ایسے معاشرے میں چیزوں کو سیدھی لکیر کے طور پر بیان کرنے سے سپاٹ حقیقت نگاری جنم لیتی ہے۔ مارکیز کے ذریعہ لاطینی امریکہ کے جس معاشرے سے میرا تعارف ہوا وہ مجھے اپنے ہاں کے معاشرے سے حیرت انگیز مماثلت کا حامل دکھائی دیتا ہے۔ مارکیز جس ماحول کی تعمیر کرتا ہے وہ مجھے اپنے ارد گرد سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے یوں میں اسے ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر پڑھتا ہوں جو ہماری ہی کہانی بیان کررہا ہے۔
یادیں مارکیز کا وہ سرمایہ ہیں جن سے وہ اپنی تخلیقات کی بنیادیں استوار کرتا ہے اور پھر اپنے تخیل کی بے پناہ جولانی سے ایک طلسمی فضا کی تعمیر کرتا ہے۔ مارکیز کے دوست پلینیو اپولیو مینڈوزا (Plinio Apuleyo Mendoza) نے مارکیز کے تخلیقی سوتے کی طرف اپنے مضمون گابرئیل (Gabriel) میں یوں اشارہ کیا ہے۔
”وہ ناترانکیلینا (مارکیز کی نانی) اس مکان پر حکمران تھیں جس کو وہ بعدمیں ایک وسیع و عریض، قدیم مکان کے طور پر یاد رکھنے والا تھا، جس کے پائیں باغ میں تپتی ہوئی راتوں میں چنبیلی کی گاڑھی خوشبوئیں تیرتی رہتی تھیں اور جس کے بے شمار کمرے تھے جن میں سے گاہے بگاہے مرحوم رشتہ داروں کے آہیں بھرنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ وہ ناترانکیلینا کا خاندان جھلتی ریت کے جزیرہ نما گواہرا سے تعلق رکھتا تھا جو مقامی انڈین باشندوں، اسمگلروں اور ساحروں کا مسکن تھا۔ وہ غیر معمولی چیزوں کے بارے میں اس طرح بات کرنے کی عادی تھیں گویا وہ روز مرہ کی باتیں ہوں۔ آہنی عزم کی مالک، پستہ قد اور بھینگی آنکھوں والی اس عورت کے ذہن میں مرے ہوﺅں اور زندوں کے درمیان سرحد واقع نہ تھی اور جوں جوں ان کی عمر میں اضافہ اور بینائی میں کمی ہوتی گئی یہ سرحد اور بھی زیادہ دھندلی ہونے لگی، یہاں تک کہ خاتمے کے قریب انہیں اکثر مُردوں سے باتیں کرتے اور ان کی آہیں، سسکیاں اور شکایتیں سنتے ہوئے پایا جاسکتا ہے۔“
(ترجمہ: اجمل کمال)
مارکیز کی ننھیال کا گھر، اس کا پُر ہیبت ماحول، اس کے ننھیالی رشتے دار، بار بار اس کے ہاں ظاہر ہوتے ہیں۔ مارکیز کا بچپن اپنے نانی نانا کے ہاں گزرا۔ وہ بڑوں کی دنیا میں گم ایک ایسا بچہ تھا جو اپنے ماحول کو سمجھنے اور اس میں اپنے مقام کا تعین کرنے میں سر کھپاتا لیکن اس کا حیرت سے پُر بچکانہ ذہن اس کے سوالوں کا جواب دینے سے قاصر تھا۔ یہ سوال آگے چل کر ساری زندگی مارکیز کا پیچھا کرنے والے تھے۔ بار بار اس کے ذہن کی سطح پر ابھر کر نت نئی شکلوں میں ظاہر ہونے والے تھے۔ غرض کہا جاسکتا ہے کہ مارکیز کا تخلیقی شعور، بچے کی حیرت، بڑے کی سمجھ بوجھ ، دانا کی حکمت اور متجسس ذہن کی تلاش اور جوانی کی جذباتیت سے عبارت ہے۔
مارکیز نے اپنے افسانوں اور ناولوں میں جو کردار تراشے وہ روز مرہ زندگی میں نظر آنے والے معمولی لوگ نہیں ہیں بلکہ غیر معمولی صلاحیتوں، خوبیوں اور جسمانی خصائص کے حامل افراد ہیں۔ مارکیز کو غیر معمولی افراد اور واقعات اپنی طرف کھینچتے ہیں۔ ان غیر معمولی کرداروں کو پیش کرنے کے لئے مارکیز جو فضا تیار کرتا ہے وہ بھی غیر معمولی عناصر سے پُر ہے۔ مافوق الفطرت عناصر، انسان، جانور، پودے، بے جان چیزیں، مُردے سب ایک دوسرے سے پیوست ہیں۔ مارکیز کی تحریروں میں ہمیں لاطینی امریکہ کا معاشرہ سانس لیتا نظر آتا ہے۔ اسے اپنی تحریروں میں کوئی غیر معمولی پن دکھائی نہیں دیتا جو مغربی نقاد اس میں دریافت کرتے ہیں۔ اجمل کمال نے مارکیز کے اسلوب کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے۔
”مارکیز کے اسلوب کو بیان کرنے کے لئے مغربی دانش وروں نے ”طلسمی حقیقت نگاری“ کی اصطلاح وضع کی ہے۔ مارکیز کو اس سے قطعی اتفاق نہیں، وہ اپنے اسلوب کو محض حقیقت نگاری کہتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ تخلیق کا سرچشم، آخری تجزیے میں، حقیقت ہی ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں مبالغے کی کارفرمائی کم ہی دیکھتا ہے، لیکن بلاشبہ مارکیز کی حقیقت نگاری اس سہل انگار اسلوب سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی جو حقیقت کو یک رخا دیکھنے کی عادی ہے اور جس کا ہمارے ہاں بھی بہت چلن رہ چکا ہے۔ دوسری جانب اس کا حقیقت نگاری کے اس بے بنیاد رو سے بھی کچھ واسطہ نہیں، ہمارا آج کل کا بیشتر فنکشن جس کا شکار ہے ”آپ عقلیت کا برگ انجیر اسی وقت اتار کر پھینک سکتے ہیں“ مارکیز کہتا ہے ”جب آپ مکمل انتشار اور لغویت اور فینٹسی کی دلدل میں دھنس جانے کے خطرے سے آزاد ہوں۔ تخیل اور حواس سے کام لے کر اپنی حقیقت کو دریافت کرنے کے علاوہ لکھنے کے عمل کا نوے فیصد حصہ بڑھئی کے کام پر مشتمل ہے جس پر اس کے خیال میں لکھنے والے کو پوری طرح حاوی ہونا چاہئے“۔
”حقیقت کو پوری طرح اپنے شعور اور بیان کی گرفت میں لے آنا اسے تسخیر کرلینے ہی کی ایک شکل ہے۔ مارکیز کی تحریروں میں آپ یہی سحر دیکھیں گے اور اس کی حیرت اور مسرت سے گزرجانے کے بعد شاید یہ سوال باقی رہ جائے کہ آخر کیوں ہماری حقیقت ہمارے ادیبوں کی تحریروں میں اپنا مکمل اظہار پانے سے محروم ہے۔“
مارکیز کے اسلوب کے جن اجزا کی طرف اوپر اشارہ کیا گیا ہے ان کے علاوہ بھی کئی اہم عناصر ہیں جن میںسے ایک کی طرف میں اس وقت اشارہ کرنا چاہوں گا جیسا میں نے اوپر لکھا ہے کہ ”یاد“ مارکیز کے بنیادی سوتے کا درجہ رکھتی ہے۔ ماضی ایک ایسا خزانہ ہے جسے وہ بار بار کھنگالتا ہے اور ہر بار ایک نئے اسرار سے ہمیں متعارف کرواتا ہے لیکن مارکیز خود کو صرف ماضی کی یادوں تک محدود نہیں رکھتا۔ اس کے کردار اور وہ خود اپنے کرداروں کی مستقبل کی زندگی کو بھی پلٹ پلٹ کر دیکھتے ہیں۔ اس خاص وقت میں رونما ہونے والا واقعہ اور حاصل ہونے والا تجربہ آگے چل کر کیا اثرات مرتب کرے گا اس کی جانب بھی وہ اشارے کرتا جاتا ہے اور یہ اس کا ایک امتیازی وصف ہے۔
مارکیز کے ادبی اور تخلیقی سفر کا آغاز ۰۵۹۱ءکے قریب ہوتا ہے۔ جب اس نے تعلیم چھوڑ کر اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں اس نے کہانیاں لکھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے پہلے ناول ”پتوں کا طوفان“ (Leaf Storm) پر کام کرتا رہا۔ ۵۵۹۱ءمیں ایک اخبار ”ایل ایسپیکتا دور“ کے نامہ نگار کی حیثیت سے اس نے یورپ کا سفر کیا۔ فرانس میں اس نے اپنے ناول ”کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا“(No one writes to the colonel) پر اپنے کام کا آغاز کیا۔ یہ ناول ۱۶۹۱ءمیں شائع ہوا۔ ”منحوس وقت“ (In Evil Hour) ۲۶۹۱ءمیں چھپا۔ اس دوران مارکیز کی آٹھ کہانیوں پر مشتمل مجموعہ (Big Mama’s Funeral) ۱۶۹۱ءمیں چھپ چکا تھا۔ مارکیز کے یہ ابتدائی افسانوی مجموعے اور ناول اس کے لئے کوئی ادبی مقام بنانے میں ناکام رہے۔ اگرچہ ان میں وہ تمام حالات و واقعات موجود ہیں جو آگے چل کر ”تنہائی کے سوسال“ میں زیادہ خوبصورتی اور ماہرانہ انداز میں بیان ہوئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا کہ مارکیز یادوں سے تخلیقی انگیخت حاصل کرتا ہے۔ دوسرا وہ اپنی زندگی کے واقعات کو ناول اور افسانے کی بنیاد بناتا ہے اس لئے ہمیں اس کا فکشن(Auto Biographycal) نظر آتا ہے دوسرا واقعات و حالات کی تکرار ملتی ہے لیکن مارکیز کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر بار کسی واقعہ کو دہراتے ہوئے اس میںکسی نئی بات، پہلو یا سمت کا اضافہ کردیتا ہے۔
مارٹن لنگز (Martin Lings) نے ولیم شیکسپیئر پر اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ایک بڑا تخلیق کار اپنے طور پر کائنات کی تشکیل کرتا ہے، وہ جس دنیا میں رہتا ہے روز مرہ کی زندگی گزارتا ہے اس میں اپنی آزروئیں، خواہشات اور خواب شامل کرکے ایک نئی دنیا کی تخلیق جو پرانی دنیا سے بیک وقت مماثل اور متضاد ہوتی ہے۔ اسی طرح جوزف کارٹرڈ (Joseph Corand) نے ایک جگہ فکشن اور غیر فکشن میں فرق اس طرح کیا ہے کہ فکشن دنیا کی تخلیق(Create) کرتا ہے اور غیر فکشن دنیا کو پیش کرتا ہے۔ مارکیز کے ہاں ہمیں ایک نئی دنیا کی تخلیق کی کوشش نظرآتی ہے۔ اس نے ابتدا میں اپنی کہانیوں اور ناولوں میں اس دنیا کو اجزا میں تخلیق کیا۔ مثلاً” پتوں کاطوفان“ میں وہ عناصر کافی حد تک موجود ہیں جو اس کے بعد کے بڑے فکشن کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ ”ماکوندو“ گارسیا مارکیز کے خواب نگر(Dream Town) کے نقوش ابھرنے لگے تھے۔ انسان کی خارجی دنیا کی ویرانی اور انسان کا اپنی گزاری ہوئی زندگی کے ساتھ شدید وابستگی کا رویہ ناول میں ظاہر ہوچکا تھا۔ اسی طرح کا معاملہ اس کی کہانیوںکا ہے جو دو مجموعوں کی شکل میں شایع ہوئیں اور پھر ”منحوس وقت“ ایک بار پھر قصبے کی زندگی پر غیر معمولی واقعات کے ظہور اور قصبے کی ہم آہنگ زندگی میں رخنہ اندازی کو پیش کرتا ہے۔ ”پتوں کے طوفان“ کا ابتدائیہ بھی ایک سطح پر ”تنہائی کے سوسال“ کے ابتدائیے سے مماثل ہے۔ پہلے ناول میں ابتدائی منظر ایک تدفین کا ہے اور پھر وقت میں پیچھے کی طرف سفر (Flash Back) سے ہوتا ہے۔ ”تنہائی کے سو سال“ میں ابتدا کرنل کے فائرنگ اسکواڈ کا سامنا کرتے ہوئے وقت میں پیچھے کی طرف سفر میں پورا ناول کھلتا (Unfold) ہوتا ہے۔ منحوس وقت(In Evil Hour) میں ہمیں لاطینی امریکہ کا ایک خوابیدہ قصبہ کے پرسکون ماحول میں ہلچل مچادیتے ہیں اور قصبے امراءکی زندگی کے خفیہ گوشوں کی نقاب کشائی کرتے ہیں۔ پورے قصبے کو جیسے ایک دم بدی کی بہت سی قوتیں اپنے گھیرے میں لیتی ہیں۔ ان واقعات کا مرکزی کردار قصبے کا میئر ہے جو جائزو ناجائز طریقے سے دولت سمیٹنے میں مصروف ہے۔ وہ قصبے کے لوگوں کو بتاتا ہے کہ ہم مہذب اور پُرامن قصبہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو قصبے کی ایک عورت جواباً طنز کرتی ہے کہ تمہاری آمد سے پیشتر یہ قصبہ ایسا ہی تھا یہ جگہ ہمیں پھر ”تنہائی کے سوسال“ کی طرف لے جاتی ہے۔ جب قصبہ میں پہلی بار داخل ہونے والے مجسٹریٹ کو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ قصبہ کے لوگ کسی بیرونی عنصر کو اپنے اندر جگہ دینے کو تیار نہیں تاکہ وہ ان کی زندگی کے ڈھرے میں رخنہ اندازی نہ کر سکے۔ مارکیز کے نقاد مائیکل وڈ نے مارکیز کی تحریروں میں مماثلات کے بارے میں لکھا ہے۔
”پتوں کا طوفان“ (۵۹۹۱ئ) میں گارسیا مارکیز کوندو کی دنیا کو دریافت کرنا شروع کرتا ہے۔ ماکوندو منطقہ حارہ کی بارشوں کا شکار، کیلے کے باغوں والا قصبہ جو ”تنہائی کے سو سال“ کا محل وقوع ہے اور جو ”بڑی ماما کا جنازہ“ نامی مجموعے کی کہانیوں میں، کبھی اپنے نام کے ساتھ اور کبھی گمنام نمودار ہوتا ہے۔ گارسیا مارکیز انکسار کے ساتھ بالزاک اور فاکنر کی پیروی کرتے ہوئے، کرداروں اور واقعات کی جابجا تکرار سے کام لیتا ہے۔ اس طرح کہ کہانی کے ٹکڑے بہتے بہتے ایک متن سے دوسرے متن میں چلے جاتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت بھی پیش آتا ہے۔ مثلاً”کرنل کو کوئی خط نہیں لکھتا، منحوس وقت اور ایک پیش گفتہ موت کی روداد“ میں جب یہ مقام ماکوندو میں بلکہ اس بے نام ملک کے اسی حصے میں واقع ایک اور قصبہ ہے جہاں ریلوے لائن نہیں ہے اور جہاں تک صرف دریائی کشتی سے پہنچا جاسکتا ہے۔ خود مارکیز نے ایک جگہ کہا ہے ”عام طور پر میں سمجھتا ہوں کہ کوئی ادیب ایک ہی کتاب لکھتا ہے، اگرچہ واحد کتاب کئی جلدوں میں مختلف عنوانات کے تحت شایع ہوتی ہے۔ یہ بات آپ کو بالزاک، کونریڈ، میلول اور بلاشبہ فاکنر کے ہاں نظر آتی ہے۔ (امرود کی مہک، ترجمہ اجمل کمال)
تنہائی کے سو سال (One Hundred Years of Solitude)۷۶۹۱ءمیں چھپا اور اس کے ساتھ ہی مارکیز کی عالم گیر شہرت کا آغاز ہوتا ہے۔ اسے (The Magnificent Family Chronicle)کہا گیا ہے۔ اس ناول میں ہمیں بانڈو خاندان کے عروج و زوال کی کہانی ملتی ہے۔ اس ناول میںہمیں متضاد موضوعات ایک دوسرے کے پہلو بہ پہلو نظر آتے ہیں۔ موت، پیار، جنگ، امن، جوانی، بڑھاپا، ان موضوعات کے ساتھ ناول کی خوابناک فضا قاری کے باطن میں سلگنے کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔ اس ناول میں ہم قدم قدم پر حیرت سے دوچار ہوتے ہیں۔ یہ حیرت حالات و واقعات کے ساتھ ساتھ زبان و بیان کے انوکھے پن سے پیدا ہوتی ہے۔ اس ناول میں مارکیز کی ابتدائی زندگی کے حالات و واقعات اس کی اپنی نانی اور خالاﺅں سے سنی زبانی روایات اور داستانیں ایک بڑے کینوس پر متشکل ہوتی ہیں۔گارسیا مارکیز کا زرخیز تخیل ان کہانیوں کو حیرت انگیز شکل دینے لگتا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ میں ایک واقعہ ہے جب ماکوندو کے باشندے اپنی یادداشت سے محروم ہونے لگتے ہیں تو جوزے آرکادیو بوئڈیا (قصبے کا خالق)لوگوںکے لئے اشیا کے نام اور ان کی افادیت کو برقرار رکھنے کے لئے تحریر سے مدد لیتا ہے تو ہمیں گمان ہوتا ہے کہ اب لوگوں کی زندگیوں میں زبانی روایت کی جگہ تحریر لے رہی ہے۔ زبانی روایت لچک دار طرز فکر کی نمائندہ ہے جس میں لوگ اپنے اپنے زمان و مکان کے مطابق تبدیلی کرتے چلے آئے تھے۔ اب اس جگہ تحریر نے لے لی ہے جو بے لچک ہے جس میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی ۔ زبانی روایت اجتماعی ملکیت ہے اس کے حقوق پورے گروہ یا قوم کے نام محفوظ ہوتے ہیں جب کہ لکھی تحریر پر اس کے مصنف کا حق فائق سمجھا جاتاہے۔ یوں ناول کا ایک معمولی واقعہ انسانی تہذیب میں آنے والی ایک فیصلہ کُن اور پیچیدہ تبدیلی کا استعارہ بن جاتا ہے۔
”تنہائی کے سوسال“ میں ہمیں وقت کی تباہ کاریاں اور تقدیر کا جبر بہت اہم موضوع کے طور پر ملتے ہیں جوزے آرکادیو بوئندیا جس انجام سے بچنے کے لئے اپنی بستی کو چھوڑتا ہے وہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔ بوئندیا خاندان کی سوسالہ تاریخ میں انہیں جگہ جگہ سزاملتی ہے اور وہ اپنے بزرگ کے کرم کا پھل پاتے ہیں۔ گارسیا مارکیز نے خود بوئندیا خاندان کی تنہائی کا منبع، اس خاندان میں محبت کے فقدان کو قرار دیا ہے لیکن ظاہری سطح پر تو اس خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے چمٹے نظر آتے ہیں جو لوگ گھر چھوڑ جاتے ہیں وہ بھی بالآخر اس جگہ واپس لوٹتے ہیں۔ ناول میں مکاں کی حرکت نہ ہونے کے برابر ہے ساری حرکت زماں میں ہے۔ لوگ، واقعات سب ایک دوسرے کو دُہرا رہے ہیں۔ مرنے والے نئے پیدا ہونے والوں کی صورت دوسرا جنم لیتے ہیں۔ گارسیا مارکیز نے بعض جگہ مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی طرف اشارہ کرکے تقدیر کی جبریت کو نمایاں کیا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ سے زیادہ اس موضوع پر ”ایک پیش گفتہ موت کی روداد“ (Chronicle of a Death Foretold) میں زیادہ وضاحت سے اظہار ملتا ہے۔ دوسرا مارکیز کے کم و بیش تمام ناولوں کا آغاز وہاں سے ہوتا ہے جہاں سے ناول میں رونما ہونے والے واقعات پہلے ہی رونما ہوچکے ہوتے ہیں۔ تب (Flash Back) سے ناول اپنے نقطہ¿ آغاز پر آتا ہے اور رفتہ رفتہ اس انجام تک پہنچتا ہے جو اس کے لئے پہلے ابتدا میں طے کیا جاچکا ہے۔ اس ساری ساخت کے پیچھے تقدیر کی جبریت (Determination) کی جکڑ محسوس ہوتی ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ کے آخر میں ہمیں کوندو کے قصبے پر ایک طوفان بادِ باراں کی یلغار نظر آتی ہے۔ تو ہمیں مارکیز کا یہ خوابوں کا قصبہ معدوم ہوتا نظر آتا ہے اور مارکیز کے تخلیقی سفر کے جاری رہنے کے لئے ضروری تھا کہ اب اس کے فکشن میں زمان کے ساتھ ساتھ مکاں کی تبدیلی بھی واقع ہو مارکیز کے لئے ضروری تھا کہ اب اس کے فکشن میں زمان کے ساتھ ساتھ مکاں کی تبدیلی بھی واقع ہو مارکیز نے اس ناول کو جس جملے پر ختم کیا ہے۔ وہ ناول کی معنویت کو مزید اجاگر کردیتا ہے۔
Before reaching the final line, however, he had already under stood that the city of mirrors (or Mirages) would be wiped out by the wind and exiled from the memory of men at the precise moment when Aurchiano Babiliona would finish deciphering the parchments, and that everything written on theme was unrepeatable since time un-memorial and forever, more, because races condemned to one hundred years of solitude didnot have a second opportunity on earth.
مارکیز کے اسلوب کا ایک امتیاز یہ ہے کہ وہ فرد کے خارج و باطن، سماجی، سیاسی، شخصی سطحوں کو ایک دوسرے میں اس طرح گوندھتا ہے کہ ایک پیچیدہ متن تشکیل پاجاتا ہے۔ قاری اس متن کی مختلف سطحوں سے لطف اٹھاتا ہے۔ مارکیز کی فنی پختگی بیان پر اس گرفت کو جنم دیتی ہے جس سے مختلف فکری سطحیں ایک دوسرے میں یوں مدغم ہوتی ہیں کہ وہ اپنے اپنے امتیازات کو قائم بھی رکھتی ہیں اور ایک بڑے دائرے میں ایک دوسرے میں تحلیل بھی ہوجاتی ہیں۔ یہ فکشن کے فن کی معراج ہے اور ”تنہائی کے سوسال“ اس طرز کا اعجاز ہے۔
مارکیز نے اپنے دوست پلینیو میندوزا(Plinio Apuleyo Mendoza) کے ساتھ ایک طویل مکالمہ کیا جو ۳۸۹۱ءمیں امرود کی مہک(The Fragnance of Guava) کے نام سے شائع ہوا۔ اس میں مارکیز نے اپنی زندگی، فن، سیاست، لاطینی امریکہ کی صورت حال اور اپنے تخلیقی رویوں کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔ اپنے تخلیقی تجربے کی وضاحت اس نے یوں کی ہے۔
”میں سمجھتا ہوں دوسرے ادیبوں کے لئے کتاب کا جنم کسی خیال یا کسی تصور سے ہوتا ہے۔ میری ہر تحریر کسی بصری منظر سے جنم لیتی ہے۔“
(ترجمہ اجمل کمال)
ناول کی حقیقت کے بارے میں وہ کہتا ہے۔
”میرے خیال میں ہر ناول کی ایک شاعرانہ تقلیب ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک ناول خفیہ کوڈ میں بیان کی گئی حقیقت ہے، دنیا کے بارے میں ایک قسم کی پہیلی۔ ناول میں آپ جس حقیقت سے دوچار ہوتے ہیں وہ اصل زندگی کی حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ اگرچہ اس کی جڑیں اسی میں ہوتی ہیں۔ یہی بات خوابوں کے بارے میں بھی درست ہے۔
(ترجمہ: اجمل کمال)
اسی طرح گارسیا مارکیز نے اپنے ناولوں کے کرداروں کے پیچھے موجود حقیقی افراد کا حوالہ دیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ فکشن نگار کے قلم سے ان کرداروں کی تقلیب ہوجاتی ہے۔ اب ”وبا کے دنوں میں“ (Love In the times of cholera) کی ابتدا عشق کے جس تجربے سے ہوتی ہے وہ دراصل اس کے اپنے ماں باپ کی شادی کی کہانی ہے لیکن مارکیز نے اپنے فکشن میں صورت حال کو بالکل جدا رنگ میں پیش کیا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ کے بعد مارکیز کے اب تک پانچ ناول اور کہانیوں کے دو مجموعے شایع ہوچکے ہیں۔ لیکن ان میں ”وبا کے دنوں میں محبت“ جو ایک بڑا تخلیقی تجربہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ ”تنہائی کے سوسال“ اور ”وبا کے دنوں میں محبت“ کو اگر ساتھ ساتھ رکھ کر پڑھا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ ایک تخلیق کار کے ہاں زبان و بیان اور اسلوب کا تنوع، زمان و مکان کی تبدیلی اور بہت سے دیگر اختلافات کے باوجود مختلف سمتوں میں بڑے تخلیقی تجربے ہوسکتے ہیں۔ شاید اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بڑی تخلیق کو کسی فارمولے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔ ان دونوں ناولوں میں اختلافات کے ساتھ ساتھ کئی مشترک باتیں بھی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی مارکیز کی یادوں سے ابھرتا ہے۔ اس کے کردار اور حالات و واقعات بھی مارکیز کی زندگی کے حقیقی کردار و واقعات ہیں۔ اپنی ابتدا میں یہ ناول بھی واقعات کے ہوچکنے کے بعد کی داستان سناتا ہے۔ ناول میں محبت کی ایسی کہانی ہے جو اپنے اندر جبریت کا وہی عنصر لئے ہوئے ہے جو ہمیں مارکیز کے فکشن میں نظر آتا ہے لیکن یہاں ہمیں مارکیز کرداروں کی زندگی کو بیان کرتا نظر آتا ہے۔ وقت رفتہ رفتہ خستگی اور بوسیدگی پیدا کررہا ہے۔ جوان جسم بڑھاپے کی چادر اوڑھ رہے ہیں۔ ان کرداروں کے اردگرد کی دنیا تغیرات کی زد پر ہے۔ ہر چیز بدل چکی ہے لیکن فلورنیشیو آریزا (Florentino Ariza) کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی جو وہ فرنینا دازا (Fernina Daza) کے لئے محسوس کرتا ہے۔ وہ فرنینا دازا کی بیوگی کی پہلی رات اکیاون سال، نو ماہ اور چار دن کے بعد ایک بار پھر اس کے لئے اپنی لافانی محبت اور وفاداری کی تجدید کرتا ہے۔
فنی سطح پر ایک انحراف جو ”تنہائی کے سوسال“ سے ”وبا کے دنوں میں محبت“ میں نظر آتا ہے وہ بیانیہ کے انداز کا ہے ۔ ”وبا کے دنوں میں محبت“ میں ہمیں بیانیہ کی وہ تہہ داری تو نظر نہیں آتی کیونکہ یہاں پلاٹ کی تشکیل صرف عشق کی داستان پر کی گئی ہے۔ دوسرا ”وبا کے دنوں میں محبت“ کی مرکزی کردار فرنینا دازا جذبے کے مقابلے میں عقل کے حق میں فیصلہ کرتی ہے۔ وہ فلورینشیو آریزا سے اپنی محبت کے زمانے کی یادوں سے چھٹکارا پانے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔
مارکیز کی تحریروں میں” محبت“عقل سے ماورا جذبہ نظر آتی ہے۔ اس کا واضح رجحان عقلیت اور خاص طور پر مغرب میں پروان چڑھنے والی عقل کی محدود تعریف سے گریز کا ہے۔ مارکیز کی تحریروں میں ہمیں جبلتیں، جذبے اور غیر عقلی عناصر کرداروں کو اپنی گرفت میں لئے نظر آتے ہیں۔ عقلی باتوں کو ٹھکرا کر مارکیز کے کردار فوک دانش (Folk Wisdom)کو قبول کرتے ہیں اور ان کے یہاں فطرت سے ہم آہنگی کا وہ رویہ نظر آتا ہے جو مغربی ادب میں خال خال ملتا ہے چونکہ خود مارکیز نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ نسلی اعتبار سے اس میں ہسپانوی، کریبین اور افریقی اثرات موجود ہیں۔ اس لئے بلاواسطہ وہ مشرق میں پروان چڑھنے والے رویوں کا حامل بھی نظر آتا ہے جہاں فطرت پر غلبہ پانے اس میں مدغم ہوجائے کی بجائے فطرت اور انسانی وجود میں امتیاز باقی رکھتے ہوئے دونوں کے درمیان ایک ایسے آہنگ کی تلاش کی جاتی ہے جہاں دونوں کے اپنے اپنے وجود بھی سلامت رہیں اور دونوں ایک وسیع کل کا حصہ بھی نظر آئیں۔
”وبا کے دنوں میں محبت“ مارکیز کے پسندیدہ موضوع ہی سے عبارت ہے وقت کی تباہ کاری، قربانی، غیر عقلی رویے (آریزا کا ) لیکن اس میں ایک نئی سمت کا اضافہ یوں ہے کہ آریزا کو یقین ہے کہ مستقبل میں وہ دازا کو پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ ڈاکٹر آرینو کو اس سے پہلے مرنا ہوگا یہ اس کی قسمت میں لکھا جاچکا ہے۔ آریزا کا اپنی بات پر یقین عقیدے کے درجے پر پہنچا ہوا ہے ۔ وہ ساری زندگی اس ساعت کا انتظار کرنے میں گزاردیتا ہے جب وہ اپنی کھوئی محبت کو پانے میں کامیاب ہوجائے گا۔ بقول مارکیز وہ محبت کی ایک ایسی کہانی لکھنا چاہتا تھا جس کا انجام طربیہ ہو۔ یہ کہانی مارکیز نے بہت کامیابی سے لکھی ہے لیکن حقیقی زندگی میں کتنے عاشق اس قدر خوش قسمت ہوسکتے ہیں کہ انہیں اپنی کام یابی کے لئے اکیاون سال، نو ماہ اور چار دن کی مہلت مل سکے۔ دل چسپ صورتحال یہ ہے کہ خود مارکیز نے جب ۵۸-۴۸۹۱ءمیں یہ ناول مکمل کیا تھا اس کی اپنی عمر بھی کم و بیش اکیاون باون سال ہی تھی۔ ایک سطح پر یہ ناول مارکیز کی تخلیقی زندگی کا استعارہ بھی بنتا ہے۔ جب ناول کے آخر میں آویزا اپنی محبت کے سفر کے ابد تک جاری رہنے کا تذکرہ کرتا ہے۔
۵۸۹۱ءسے اب تک مارکیز کے دو ناول (The General in his Labyrinth) اور (Of Love and other Demons) اور ایک کہانیوں کا مجموعہ(Strange Pilgrims) ہوچکے ہیں۔ (اس مضمون میں غیر فکشن تحریروں سے بحث نہیں کی گئی) مارکیز کی بارہ کہانیوں میں ہمیں پہلی بار مارکیز اپنی مخصوص یادوں سے باہر نظرآتا ہے۔ اس میں جدید زندگی کے بعض پہلوﺅں کو اپنا موضوع بنایا گیا ہے۔ مثلاً (Sleeping Beauty and The Airplace) دنیا کی خوبصورت ترین عورت نشست کے ساتھ والی سیٹ پر آٹھ گھنٹے کے طویل سفر کی روداد ہے جو اس خوبصورت عورت نے سونے کی حالت میں کیا ہے۔ آخرتک معلوم نہیں ہوتا کہ وہ واقعی اس عورت کا کوئی وجود بھی تھا یا سب کچھ مرد کردار کی فینٹسی تھی۔ اس مجموعے میں شامل وہ کہانیاںخاص طور پر توجہ طلب ہیں ایک (I only came to use the phone) اور دوسری (The Saint) ہے۔ پہلی کہانی (Maria de la luz Cervantes) پاگل خانے کے مریضوں اور ڈاکٹروں کے علاوہ اپنے خاوند کو بھی یہ یقین دلانے کی کوشش کررہی ہے کہ پاگلوں کی بس میں اس لئے سوار ہوئی کہ اس کی گاڑی خراب ہوگئی تھی اور قریب میں کوئی فون موجود نہیں تھا۔ اس کہانی میں بعض جگہ ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے واقعی وہ درست کہہ رہی ہے لیکن آخر تک جاتے جاتے حقیقت اور افسانے کی حدیں پھر دھندلاجاتی ہیں۔
(The Saint) ایک ایسے کردار کو سامنے لاتی ہے جو دور دراز کا سفر کرکے روم آیا تاکہ وہ پوپ کو ایک معجزے کے بارے میں بتائے لیکن برسوں کی جدوجہد کے بعد بھی وہ کسی کی توجہ حاصل کرنے اور کسی کو اپنی بات پر یقین دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ آخر میں (Margarito Duarte) خود ولی کے روپ میں ڈھل جاتا ہے۔ بے انتہا مشکلات اور تکالیف برداشت کرنے کے باوجود اس کا اعتقاد متزلزل نہیں ہوتا۔ ایک معجزے کے واقعی ظہور پذیر ہونے کے بارے میں دوسروں کو متفق کرنے میں وہ اپنی زندگی گزار دیتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا اعتقاد ایک ولی ہی کا ہوسکتا ہے یا پھر ولی بننے کے لئے ایسے ہی اعتقاد کی ضرورت پڑتی ہے۔
محبت اور دوسرے آسیب (Of Love and Other Demons) جنوبی امریکہ کے ساحل پر نوآبادیاتی عہد میں جنم لینے والی کہانی ہے۔ سرویاماریہ (Seirva Maria) ایک معزز خاندان کی اکلوتی اولاد ہے جو اپنے باپ کے مکان میں غلاموں کے کوارٹر میں پرورش پاتی ہے۔ ماریا کا کردار اپنی خصوصیات کے اعتبار سے تنہائی کے سوسال کے کردار Rabicaکی یاددلاتا ہے۔ اپنی زندگی کے بارہویں سال لڑکی کو ایک پاگل کتا کاٹتا ہے جس کے بعد اس میں جنون کے آثار پیدا ہونے لگتے ہیں۔ اس کا باپ ڈاکٹر سے علاج کرواتا ہے لیکن چرچ کے مجبور کرنے پر اسے اپنی بیٹی کو ان کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ (Father Cayetavo Delaura) خواب میں ایک ایسی لڑکی سے مل چکا ہے،جس کے لمبے بال اس کے گھٹنوں تک آتے ہیں۔ (Father) لڑکی کو آسیب سے چھٹکارا دلاتے دلاتے خود ایک آسیب میں گرفتار ہوجاتا ہے اور اپنی عبادت، نیکی اور پرہیزگاری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس ناول میں مارکیز محبت کو ایک تخریبی قوت کے طور پر بیان کررہا ہے جو ایک آسیب کی طرح فرد کی شخصیت کے تارو پود بکھیر دیتی ہے۔وبا کے دنوں میں محبت، فرد کی شخصیت کو ایک مرکزہ عطا کرتی ہے۔ ان دو ناولوں میں مارکیز نے محبت کے متضاد روپ پیش کیے ہیں اور ایسی فنکارانہ مہارت سے کہ قاری بہ یک وقت دونوں میں ایک جیسی کشش محسوس کرتا ہے۔ اس ناول کا بیانیہ اکہرا ہے زمان و مکان کے اعتبار سے اس کا دائرہ محدود ہے۔ زمان و مکان میں کرداروں کی حرکت بہت معمولی سی ہے۔ صر ف دو کردار ماریا اور ڈیلایورا قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب کے باوجود مارکیز کے بیانیہ کی سحر انگیزی قاری کو پہلی سطر سے آخر تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔ اگرچہ یہ ناول ”تنہائی کے سوسال“ اور ”وبا کے دنوں میں محبت“ کے پائے کا تونہیں لیکن بلاشبہ مارکیز کے اچھے ناول میں شمار ہوگا۔
گارسیا مارکیز کے آخری ناول (Memories of my Melancholy Whores)کا ترجمہ اردو کے مایہ ناز مترجم اور افسانہ نگار محمد عمر میمن نے اپنی ”سوگوار بیسواﺅں کی یادیں“ کے عنوان سے کیا۔ یہ ۶۰۰۲ءمیں اشاعت پذیر ہوا۔ اس ناول کی کہانی ایک ایسے بوڑھے کے گرد گھومتی ہے جو اپنی زندگی کے نوے سال مکمل ہونے پر اپنے آپ کو ایک جیتا جاگتا تحفہ دینا چاہتا ہے۔ یہ تحفہ کسی نوخیز باکرہ کے ساتھ رات بھر کی بے حجابانہ عیش کوشی کا تحفہ ہے۔ اس ناول میں ہمیں محبت کی جستجو، انسانی محرومی اور اس محرومی سے اُس کے کردار پر مرتب ہونے والے اثرات اور آرزو کی بدولت پیدا ہونے والے حوصلے کے تصورات ملتے ہیں۔ اس ناول میں المیہ لے کافی حاوی ہے لیکن بعض جگہ یہ المیہ مزاج میں بھی تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ اگر اس ناول کو فنی معیار پر پرکھا جائے اور مارکیز کے اعلیٰ کام کو سامنے رکھتے ہوئے اس کی قدروقیمت متعین کی جائے تو یہ مجھے ایک بوڑھے تخلیق کار کی ذہنی عیاشی معلوم ہوتا ہے۔
آخر میں اتنا عرض کردینا ضروری ہے کہ گارسیا مارکیز عالمی سطح پر ایک ایسے ناول نگار کے طور پر جانا اور مانا جاتا رہے گا جو ساری دنیا کے ادیبوں اور قارئین کے لئے حیرتوں کے نئے جہان تخلیق کرتا رہا ہے۔ اس نے دنیا کے ایک پس ماندہ خطے سے تعلق رکھتے ہوئے مغربی معاشرے میں اپنے تخلیقی تجربوں سے بڑا مقام بنایا، وہ اگرچہ اب ہم میں نہیں لیکن اس کا خواب نگر ”ماکوندہ“ ہمیشہ آباد رہے گا۔
پس ماندہ ممالک کے لکھنے والوں کے لئے وہ ایک ایسی ہستی کی مثال ہے جس کو پڑھنا، سمجھنا اور اس سے سیکھنا قابل فخر بات ہے۔ اس نے چھوٹے ممالک کے لکھنے والوں میں موجود اُس احساسِ کمتری کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے جو مغرب کی چکا چوند سے پیدا ہوتا ہے۔ مارکیز کے ہاں ہمیں کسی مغربی ادیب یا مغربی روایت کی نقالی نہیں ملتی بلکہ وہ اپنے مقامی حالات، کرداروں، محسوسات اور تجربات کو پیش کرتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہمارے ادیب بھی عالمی ادب میں اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔
یہ مضمون اجرا، اکتوبر تا دسمبر 2014، کتابی سلسلہ 20 میں چھپا۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2509657172598134

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔