پیر • 5 اکتوبر 2026ء

✦ منتخب غزلیں

لوحِ مزار دیکھ کے ، جی دنگ رہ گیا ہر ایک سر کے سات…


لوحِ مزار دیکھ کے ، جی دنگ رہ گیا
ہر ایک سر کے ساتھ فقط ، سنگ رہ گیا

بدنام ہو کے عشق میں ، ہم سرخرو ہوئے
اچھا ہوا کہ نام گیا ، ننگ رہ گیا
ٴ
ہوتی نہ ہم کو ، سایۂ دیوار کی تلاش
لیکن محیطِ زیست ، بہت تنگ رہ گیا

سیرت نہ ہو تو ، عارض و رُخسار سب غلط
خوشبُو اُڑی تو ، پُھول فقط رَنگ رہ گیا

اپنے گلے میں ، اپنی ہی بانہوں کو ڈالیے
جینے کا اب تو ایک یہی ، ڈھنگ رہ گیا

کتنے ہی انقلاب شِکن در شِکن مِلے
آج اپنی شکل دیکھ کے ، میں دنگ رہ گیا

کل کائنات فکر سے ، آزاد ہو گئی
انسان ، مثالِ دستِ تہِ سنگ رہ گیا

ہم اُن کی بزمِ ناز میں،کیوں چپ ہوئے ظہیر
جس طرح گُھٹ کے ساز میں ، آہنگ رہ گیا

(ظہیر کاشمیری)