( غیــر مطبــوعــہ ) ہم خدا کے کرایہ دار ہیں…
( غیــر مطبــوعــہ )
ہم
خدا
کے
کرایہ دار
ہیں
َ بے لباس نہ ہوتی
تو۔۔۔ ہم اس کا گریبان پھاڑ دیتے
اس کے دامن کی دھجیّوں سے
اپنی آنکھوں کی مرہم پٹیّاں کرتے
اس کی آستینیں کھینچ کر اپنے لئے
شامیانے بناتے
ہم زنجیر والے ۔۔۔۔
ہمیں زندگی کے پھٹے پرانے جُوتوں میں
ایک وقت کی دال روٹی بھی نہیں ملتی
ہم لہو میں مٹّی بھگوبھگو کر کھاتے ہیں
اور۔۔۔ اپنے آنسوؤں کے ڈھیلے بنا بنا کر
خدا کی کھڑکیوں پر ما رتے ہیں !!
(کاش ہمارے آ نسوؤں کی کوئی آ واز ہوتی )
( سِـــدرہؔ سَـحَــر عمـــران )