عِشق میں تیرے کوہِ غم سر پہ لِیا جو ہو سو ہو
عیش و نِشاطِ زِندَگی چھوڑ دِیا جو ہو سو ہو
پُوچھو نہ مُجھ خراب سے یارو صلاح کار تُم
اپنے تو اب رہے نہیں ہوش بجا جو ہو سو ہو
مُجھ سے مریض کو طبیب ہاتھ اپنا مت لگا
اِس کو خُدا پہ چھوڑ دو بہرِ خُدا جو ہو سو ہو
عقل کے مدرسے سے اُٹھ عِشق کے میکدہ میں آ
جامِ فنا و بے خودی اب تو پیا جو ہو سو ہو
لاگ کی آگ لگتے ہی پنبہِ نَمَط یہ جل گیا
رختِ وُجُودِ جان و تن کُچھ نہ بچا جو ہو سو ہو
دِیدَہ و دِل بہم ہیں ایک سُوجھ میں اور بُوجھ میں
آنکھوں کے سامنے عیاں دِل میں بسا جو ہو سو ہو
ہِجر کی جو مُصیبتیں عرض کِیں اُسکے رُوبَرُو
ناز و ادا سے مُسکُرا کہنے لگا جو ہو سو ہو
ہستی کے اِس سرائے میں رات کی رات جو بس رہے
صُبحِ عدم ہُوئی نمُود پاؤں اٹھا جو ہو سو ہو
دُنیا کے نیک و بد سے کام ہم کو نیازؔ کُچھ نہیں
آپ سے جو گُزر گیا پِھر اُسے کیا جو ہو سو ہو۔۔۔!
حضرت شاہ نیازؔ احمد بریلویؒ
محترمہ عابدہ پروین
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔