عطا ایسا بیاں مجھ کو ہُوا رنگیں بیانوں میں کہ بام…
عطا ایسا بیاں مجھ کو ہُوا رنگیں بیانوں میں
کہ بامِ عرش کے طائر ہیں میرے ہم زبانوں میں
اثر یہ بھی ہے اک میرے جُنونِ فتنہ ساماں کا
مرا آئینۂ دل ہے قضا کے رازدانوں میں
رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں
دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں
نشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں
چھُپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے
عنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں
سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں
