صبر کر اے دلِ بے تاب ،وہ لہر آنے کو ہے اک نئے خواب…
صبر کر اے دلِ بے تاب ،وہ لہر آنے کو ہے
اک نئے خواب کی تحویل میں شہر آنے کو ہے
رات گہری ہوتی جاتی ہے تو لگتا ہے سلیمؔ
پرچمِ صَبحِ بہاراں کہیں لہرانے کو ہے…..
سلیم کوثرؔ
صبر کر اے دلِ بے تاب ،وہ لہر آنے کو ہے
اک نئے خواب کی تحویل میں شہر آنے کو ہے
رات گہری ہوتی جاتی ہے تو لگتا ہے سلیمؔ
پرچمِ صَبحِ بہاراں کہیں لہرانے کو ہے…..
سلیم کوثرؔ